علاقائی حالات کبھی اتنے ہمارے حق میں نہ تھے جس طرح آج دکھائی دیتے ہیں۔ ہماری داخلی اور خارجہ پالیسیوں کا محور شمال اور مغرب ہی رہا ہے۔ افغانستان‘ وسطی ایشیا‘ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کی طرف ایک بہت بڑی تبدیلی کے آثارآہستہ آہستہ ایک دھندلے خواب سے حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔ جنگوں کے نتائج تاریخ میں وہ نہیں ہوتے جو طاقتور ممالک کی فوجی اور سفارتی منصوبہ بندی میں تصور کیے جاتے ہیں۔ سب چھوٹی بڑی جنگوں کے بعد حالات کا رخ تاریخ میں ہم نے مختلف دیکھا۔ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دو عشروں تک جنگ کی۔ ان کا پہلا زوردار بیانیہ یہ تھا کہ وہ ایک نئی قوم‘ نئی ریاست‘ نئے معاشرے اور نئے نظام کی تعمیر کریں گے۔ آخر میں ان کا حشر وہی ہوا جو روسیوں کا وہاں ہوا تھا۔ غالباًامریکی اپنی ویتنام کی لڑائی کی ہزیمت کو بھول چکے تھے۔ جاتے جاتے ایسے معاہدے کرنے پر مجبور ہوئے کہ اقتدار اُن کے ہاتھوں میں چلا گیا جنہیں وہ مکمل طور پر ختم کرنے آئے تھے۔ آج وہ ہمارے بھی دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا مگر امریکیوں‘ روسیوں اور دیگر کئی ریاستوں کے اہلِ اقتدار نے بھی وہی کیا جو طاقت کے نشے میں مغرور لیڈر عموماً کرتے ہیں۔ غرور عقل کو اندھا اور دماغ کو مفلوج کر دیتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا غرور توآسمان کو چھُو رہا تھا۔ پتا نہیں امریکی قیادت ہماری پنجابی فلموں کی رسیا ہو چکی تھی یا اُن کو اپنی ہالی وڈ کی کاؤ بوائز اور وائلڈ ویسٹ کی کلاسیک کا گمان تھا کہ انہوں نے ایرانیوں کو ان کی تہذیب تک ملیامیٹ کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ گزشتہ چار ماہ کے امریکی یا مغربی دنیا کے اخبار اور رسائل اٹھا کر دیکھیں تو بڑھکوں اور بلند بانگ دعوؤں کی شہ سرخیاں آپ نمایاں پائیں گے۔ مگر رجیم چینج تو دور کی بات ہے‘ اس کے برعکس وہ ایرانی جو کچھ پالیسیوں کے خلاف تھے‘ وہ بھی حکومت کے ساتھ کھڑے نظرآئے۔ ایرانی قومیت پرستی کو ایک نئی طاقت نصیب ہوئی۔
جنگ کے دوران اورآج دنیا بھر کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔ اس کی ہمت‘ مزاحمت اور تین ماہ کی تباہ کن جنگ کے سامنے ثابت قدم رہنے کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔ فقط استقامت اور قربانی کے جذبے نے امریکہ کا تعمیر کردہ دفاعی نظام اور اس کی سماجی نفسیات خلیج فارس میں ریت کے ٹیلوں پر ڈھیر کر دی۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی عسکری طاقت کا سحر‘ جو علاقائی حکمرانوں کے ذہنوں پر ایک عرصہ سے سوار تھا‘ ٹوٹ کر بکھرچکا ہے۔ بڑی طاقتور ریاستوں کی جارحیت کے خلاف دیگر ریاستوں کو بھی مزاحمت کی ہمت ملی ہے۔امریکہ پرعرب ریاستوں کا اعتماد اور اس کے اسلحے پر بھروسا اب قصۂ پارینہ سمجھیں۔ اس کا نہ اظہار ہوگا اور نہ آپ کوئی فوری تبدیلی ان کے تعلقات میں دیکھیں گے مگر یہ سب کو معلوم ہے کہ دور کا نام نہاد دوست دفاع کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ سینکڑوں ارب ڈالرکے دفاعی حصار بھی ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ محض تسلیاں دینے کیلئے تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر ایرانی ڈرونوں اور میزائلوں کی یلغار کو روکا نہ جاتا تو بہت زیادہ نقصان کا اندیشہ تھا‘ اصل بات کچھ مختلف ہے۔ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ کم فاصلوں کی وجہ سے وہاں ان ریاستوں کے شہر ‘ فوجی تنصیبات اور بیرونی طاقتوں کے اڈے مکمل طور پر اور زیادہ دیر تک جنگ کے شعلوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ جنگوں کے بارے میں ہماری اپنی سوچ اور کچھ تحقیق یہ ہے کہ جدید دور کی تمام جنگوں میں ہم نے کسی کو فاتح نہیں دیکھا۔ سب کے لوگ ہلاک ہوئے‘ زخمی ہوئے‘ اور پھر سماجی اور نفسیاتی زخم اتنے گہرے تھے کہ نسلوں تک چلتے رہے۔ ظاہر ہے کہ نقصان زیادہ تر ایران کا ہوا ہے‘ مگر یہ جنگ ان پر تھونپی گئی تھی۔ دوسری جانب طاقت کے ہوائی گھوڑوں پر سوار تھے مگر خطے کی ریت کی آندھی میں زمینی حقائق اور تاریخ کے اوراق الٹنے کی طرف ان کا دھیان نہ تھا۔ اندھے ہو گئے تھے۔ خلیجی ریاستوں میں دفاعی اور عسکری سوچ کے زاویے بدلیں گے۔ علاقائی حقیقت پسندی کا رجحان جلد یا بدیر غالب آئے گا۔ اس کی فکری ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ عوام کی سطح پر تو ہم ایک عرصہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اب دیکھیں بڑی طاقتوں پر انحصار کی اصلیت اور ایران کے خلاف غیر اعلانیہ دکھائی دینے والے حصار سے پرانی بھیڑیںکب آزاد ہوتی ہیں۔
سعودی عرب‘ قطر اور عمان نے بہت ذمہ داری اور نئی علاقائی حساسیت کا اس جنگ میں ثبوت دیا۔ ان کی کاوشوں اور سفارتکاری نے امن معاہدے کی یادداشت کو ممکن بنایا ہے۔ ہم ان کے رویوں میں آہستہ آہستہ تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ آگے چل کراصل خطرات پر ان کی توجہ کو مرکوز ہوتا دیکھنا ہے۔ اس معاہدے کے خد و خال کا جائزہ لیں تو یہ صرف جنگ کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ ایران کے اقتدار‘ حقوق اور روشن معاشی مستقبل کی طرف بہت بڑی پیشرفت دکھائی دیتی ہے۔ 47 سال بعد ایران پر سے پابندیاں اٹھیں گی۔ منجمد اثاثے انہیں واپس کیے جائیں گے اور 300ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو کیلئے عرب اور علاقائی ممالک کو راغب کیا جائے گا۔ایران کی ترقی اور اس کی فطری قومی توانائیاں بحال کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی طرف سے عائد کردہ ہر نوع کی پابندیاں تھیں۔ ان کے خاتمے کے بعد ایران میں پوری دنیا کی سرمایہ کاری کیلئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایران کے اندر ایک مؤثر نظامِ حکومت‘ ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ آبادی اور اس کے قدرتی وسائل اس کیلئے وہ مقام حاصل کرنے کیلئے اس طور پر کام کریں گے جو کبھی تاریخ میں اس کا تھا۔
ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے انتہائی اہم‘ تعمیری اور ملک کے مفادات کے لحاظ سے اعلیٰ کردار ادا کیا ہے۔ اصل بحث اور پالیسیوں کا ہدف اس جنگ کے بعد کے اقتصادی مواقع پیدا ہونا ہے۔ خود ستائی بہت ہو چکی اب بڑے بڑے منصوبوں کی ضرورت ہے۔ ان کیلئے ہم اپنی علاقائی اہمیت اور محلِ وقوع کو ایران اور عرب ریاستوں کی سرمایہ کاری کیلئے کیسے عمل میں لا سکتے ہیں‘ یہ ایسا کلیدی سوال ہے جس کا جواب ہمارے اہلِ اقتدار کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ہمیں بھی خطے میں امن‘ سلامتی اور نئے اقتصادی امکانات کے ساتھ تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نظام کی کئی جہتیں ہیں جنہیں دوبارہ سے تعمیر‘ ترتیب اور متحرک کرنا دنیا اور علاقائی ممالک کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کیلئے ضروری ہوگا۔ دوسروں کی جنگیں ختم کرانے سے ہمیں یہ بھی سبق لینا ہوگا کہ ہم داخلی انتشار‘ دہشت گردی اور شدت پسندی کو بات چیت اور سیاسی معاہدوں سے ختم کریں۔ افغانستان اور افغان جہاں ہیں‘ یہ تو وہیں رہیں گے۔ نہ وہ کہیں جائیں گے اور نہ ہم اپنا وطن پاکستان کہیں اور لے جائیں گے۔ہماری کمزور دلیل‘ صحیح یا بے سود مشورہ سمجھیں‘ کہ بات چیت اور سفارتکاری کے سلسلے ان کے ساتھ کبھی ٹوٹنے نہ پائیں۔ اس طرح بھارت کو اب تو یقین کی حد تک باور کرا دیا گیا ہے کہ اس کی طرف سے جنگ اور جارحیت کے نتیجے میں اتنی تباہی ہوگی کہ یقین کرنا مشکل ہے۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جب باہمی بقا اور باہمی سلامتی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ایک بات دہرا دیتا ہوں کہ تقریباً ایک صدی سے جنوبی ایشیا بے چینی‘ اضطراب اور عدم استحکام کا شکار ہے‘ اس لیے ہماری انفرادی اور اجتماعی کامیابیاں ہماری ممکنہ صلاحیت سے کم ہیں۔ لیکن یہ یک طرفہ معاملہ نہیں اور نہ ہو گا۔