"RKC" (space) message & send to 7575

عمران خان اور شہباز شریف کا سچ

آخرکار وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے فلور پر اپنے حصے کا سچ بول ہی دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہر بندے کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ ایک آپ کا سچ ہے‘ ایک میرا سچ ہے اور ایک حقیقی سچ ہے۔ انسانی مزاج یہی ہے کہ ہر شخص خود کو سچا سمجھتا ہے۔ اسے اپنا سچ ہی آخری سچ دکھائی دیتا ہے اور دوسرے کے سچ کی اسے زیادہ پروا نہیں ہوتی۔ اسی لیے جب وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر اپنا مؤقف پیش کیا تو وہ اپنا سچ بیان کر رہے تھے۔ اس سے پہلے عمران خان بھی ایوان میں اپنا سچ سنا چکے تھے۔ دونوں وزرائے اعظم کو اپنے اپنے دور میں یہی محسوس ہوا کہ انہیں دھاندلی کے ذریعے اقتدار سے محروم کیا گیا۔ دونوں کا خیال ہے کہ دھاندلی ان کے خلاف ہوئی اور جس کے حق میں ہوئی‘ وہ وزیراعظم بن گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں صرف خود کو درست سمجھتے ہیں۔ اصل اعتراض دھاندلی پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ دھاندلی ان کے مخالف کے حق میں ہوئی اور اسے اقتدار تک پہنچا دیا گیا۔ البتہ جب دھاندلی ان کے اپنے حق میں ہو رہی تھی تو وہ مطمئن بھی تھے اور خوش بھی۔ دونوں نے اپنی اپنی کامیابی کو جمہوریت کی فتح قرار دیا۔
میں نے 2002ء کے انتخابات کے بعد گزشتہ 24 برسوں سے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرینز کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اس دوران بہت کچھ سمجھنے اور جاننے کا موقع ملا‘ بلکہ یوں کہیے کہ یہاں میرے جیسے شخص کا سیاسی آئیڈیل ازم بری طرح ٹوٹ گیا کیونکہ عملی سیاست میں وہ کردار نظر نہ آئے جنہیں ہم کتابوں میں پڑھتے اور دیکھتے ہیں۔ قصور شاید سیاستدانوں کا بھی نہیں‘ کیونکہ وہ آئیڈیل ازم کے بجائے حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہ صرف اقتدار پر ہوتی ہے۔اسی لیے وہ اس فلمی مکالمے پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اقتدار کیلئے جان دی بھی جا سکتی ہے اور کسی کی جان لی بھی جا سکتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں لیاقت علی خان‘ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے قتل اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آپ شاید ہی کوئی ایسا دور دیکھیں گے جب سیاستدان خود تشدد کا نشانہ نہ بنے ہوں یا دوسروں کو اپنے اقتدار کی خاطر نشانہ نہ بنا رہے ہوں۔آمرانہ ادوار میں یہ شدت مزید بڑھ گئی۔ ضیا الحق کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی‘ پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف کو چودہ برس قید کی سزا سنانے کے بعد جلاوطن کیا گیا اور اسی دور میں بینظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ تاہم ان سیاستدانوں کے اپنے ادوار بھی ایسی کارروائیوں سے مبرا نہیں تھے۔ 1990ء کی دہائی میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے ایک دوسرے کو سیاسی طور پر فکس کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ برسوں کی اس سیاسی کشمکش کے بعد جب بینظیر بھٹو منظر سے ہٹیں تو عمران خان اور شریف خاندان کے مابین ایک جنگ شروع ہو گئی‘ جو اَب نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
پہلے نواز شریف نے مقتدرہ کے ساتھ مل کر آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کو فکس کیا‘ پھر بینظیر بھٹو کو پرویز مشرف کے ساتھ مفاہمت کے ذریعے واپسی کا راستہ ملا لیکن وہ قتل کر دی گئیں۔ پرویز مشرف سے ڈیل بینظیر بھٹو نے کی تھی مگر اس کا بڑا فائدہ نواز شریف کو ہوا‘ جو دس سال مکمل ہونے سے پہلے ہی وطن واپس آگئے اور پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ شہباز شریف کی جھولی میں آ گری۔ پھر جب نواز شریف کو فکس کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو عمران خان کو آگے لایا گیا۔ یوں پاکستانی سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر زمین اس قدر تنگ کر دی کہ اپوزیشن میں پہنچ کر انہیں اپنی بقا اسی میں دکھائی دی کہ وہ مقتدرہ کے ساتھ مل کر انتخابات جیتنے کی کوشش کریں۔نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کا جمہوریت اور سیاست دونوں سے اعتماد اٹھتا چلا گیا۔
سیاستدانوں نے اپنے سیاسی کردار اور دیانتداری پر توجہ دینے کے بجائے حکومت کو فیملی اینڈ فرینڈز پیکیج سمجھ کر چلایا۔ سب نے اپنے اپنے کاروبار چمکائے‘ دنیا بھر میں جائیدادیں بنائیں۔ اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ تقریباً تمام سیاستدان ایک دوسرے یا مقتدرہ کے ہاتھوں اس قدر بے نقاب ہو چکے ہیں کہ وہ رسمی پردہ رکھنے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔ وہ اب برطانوی وزیراعظم چرچل کے اس سیاسی مشورے کو سمجھ پائے ہیں کہ اگر سیاستدان بننا ہے تو سب سے پہلے اپنی کھال موٹی کرنا ہوگی۔ یعنی لوگوں کی باتوں‘ تنقید‘ طعنوں اور گالی گلوچ سے بے نیاز ہونا پڑے گا۔ یہ سوچ کر سیاست میں نہیں آیا جا سکتا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لوگوں نے تو کچھ نہ کچھ کہنا ہی ہے۔ اسی لیے شاید پہلی بار شہباز شریف نے کھل کر عمران خان سے کہا کہ اگر ہم فارم 47 والے ہیں تو آپ کون سے دودھ کے دھلے ہیں؟ 2018ء میں آر ٹی ایس بٹھا کر آپ کو جتوایا گیا تھا۔ اگر آپ 2018ء اور 2024ء کے انتخابات کا پیٹرن دیکھیں تو دونوں میں حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے۔ فرق صرف چہروں کا تھا‘ طریقۂ واردات تقریباً ایک ہی تھا۔ عمران خان کو جتوانا مقصود تھا اس لیے نواز شریف کو جیل بھیجا گیا‘ انتخابات لڑنے سے نااہل قرار دیا گیا‘ مسلم لیگ (ن) کے متعدد ارکان کو آزاد حیثیت سے یا جنوبی پنجاب محاذ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑایا گیا۔ جب ملک کا سابق وزیراعظم جیل میں ہو اور انتخابی مہم نہ چلا رہا ہو تو اس کی جماعت اور ووٹروں کو واضح پیغام مل جاتا ہے کہ اب اقتدار کسی اور کے حصے میں جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں پارٹی کے لوگوں کو توڑنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اُس وقت عمران خان کو ان تمام غیر سیاسی ہتھکنڈوں پر کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ ان کی وزیراعظم بننے کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔ وہ ہر قیمت پر وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔ اس قیمت میں جنرل باجوہ کو مدتِ ملازمت میں توسیع دینا اور فیض حمید کو 2022ء میں آرمی چیف بنوانا بھی شامل تھا۔ یہی وہ قیمت تھی جو عمران خان نے وزیراعظم بننے کے عوض ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے ڈاکٹر فوسٹس کی طرح Lucifer کے ساتھ اس معاہدے پر خود دستخط کیے جس کا انجام بالآخر انہیں جیل تک لے آیا۔
بعد میں شہباز شریف نے بھی تقریباً یہی راستہ اختیار کیا کیونکہ وہ بھی عمران خان کی طرح ہر قیمت پر وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔ انہیں ماضی میں دو تین مواقع ملے تھے مگر بھائی کی محبت میں وہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اب وہ مزید انتظار کیلئے تیار نہ تھے چنانچہ انہوں نے اسی نوعیت کی ڈیل منظور کر لی۔2024ء میں وہ اس حد تک بے نیاز ہو گئے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کے ساتھ کیا سلوک کیاجا رہا ہے‘ اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں رہا۔ وہی تاریخ دہرائی گئی۔ عمران خان جیل بھیج دیے گئے‘ نااہل قرار پائے‘ ان کی پارٹی ٹوٹ گئی‘ انتخابی نشان چھن گیا۔ پی ٹی آئی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے سیاسی سمندر میں دھکیل دیا گیا کہ اگر حکومت بنانی ہے تو اب تیر کر دوسرے کنارے تک پہنچ کر دکھاؤ‘ بالکل ویسے ہی جیسے 2018ء میں نواز شریف اور ان کی جماعت کے ساتھ کیا گیا تھا۔ یوں دونوں نے اپنا حساب برابر کر لیا مگر فتح ایک مرتبہ پھر مقتدرہ کی ہوئی۔ پہلے عمران خان کے ذریعے نواز شریف کو فکس کیا گیا اور اب شہباز شریف کے ذریعے عمران خان کو۔ سوال یہ ہے کہ جیت آخر کس کی ہوئی؟
شہباز شریف کی تقریر کا مفہوم یہی ہے کہ اگر ہم دھاندلی کے ذریعے جیتے یا جتوائے گئے تو آپ بھی دھاندلی کے ذریعے ہی جیتے یا جتوائے گئے تھے۔ پھر آپ کس اخلاقی برتری کے دعویدار ہیں؟ آج صورتحال یہ ہے کہ عمران خان اور شہباز شریف دونوں ایک دوسرے کو طعنہ نہیں دے سکتے۔ دونوں ایک دوسرے پر یہی الزام لگاتے ہیں کہ آپ دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم بنے‘ آپ کی حکومت جعلی تھی اور دوسرا جواب دیتا ہے کہ نہیں! جعلی تو آپ کی حکومت تھی۔ میرے خیال میں ہمارے موجودہ اور سابق‘ دونوں وزرائے اعظم اپنا اپنا سچ بول رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں