"RKC" (space) message & send to 7575

ضیا الحق سے ذیل سنگھ تک

بعض اتفاقات بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔ سابق وفاقی سیکرٹری انفارمیشن سید انور محمود موڈ میں ہوں تو جنرل ضیا اور محمد خان جونیجو کے اختلافات کی کہانیاں سناتے ہیں۔ نوجوان انور محمود جونیجو صاحب کے پریس سیکرٹری تھے لہٰذا انہوں نے بہت قریب سے صدر ضیا اور وزیراعظم جونیجو کے درمیان بہت معمولی باتوں پر بھی اختلافات ابھرتے دیکھے۔ انور محمود اپنے دور کے اُن وفاقی سیکرٹریز میں سے ایک ہیں جن کی ریٹائرمنٹ کے برسوں بعد بھی عزت کی جاتی ہے۔ ہر سال جب وہ یکم رمضان کو اسلام آباد کے صحافیوں کو افطاری کی دعوت دیتے ہیں تو شاید ہی کوئی ہو جو اُن کی عزت اور احترام کے پیشِ نظر وہاں نہ جائے۔ بیوروکریٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد شاید ہی میڈیا یا عام شہری یاد رکھتے ہیں‘ جس کا گلہ وہ بھی کرتے ہیں کہ اب ہم کسی کا فائدہ نقصان کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے تو ہمیں کوئی ملنے نہیں آتا۔ لیکن میرا تجربہ کہتا ہے کہ جن افسران نے دورانِ ملازمت لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کیں‘ انہیں دستیاب رہے اور سول سرونٹ بنے ان کے حاکم نہیں تو لوگوں نے انہیں یاد رکھا اور عزت دی۔ ایسے چند نام جو میرے ذہن میں آتے ہیں‘ جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لوگوں نے عزت دی ان میں سابق سیکرٹری زراعت مرحوم ڈاکٹر ظفر الطاف‘ مرحوم سابق سیکرٹری پٹرولیم محمود سلیم محمود‘ سابق سیکرٹری انور محمود‘ مرحوم جی ایم سکندر اور رؤف چوہدری شامل ہیں‘ جن کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہی عزت اور احترام ملا جو انہیں دورانِ سروس ملتا تھا۔ اس میں کمال لوگوں یا صحافیوں کا نہیں تھا ان سرکاری افسران کا تھا جنہوں نے خود کو سول سرونٹ سمجھا اور لوگوں کے مسئلے حل کیے۔ اس لیے برسوں کے بعد بھی ڈاکٹر ظفر الطاف کے گھر پر دوپہر کو درجن بھر لوگ ضرور موجود ہوتے تھے۔ مرحوم محمود سلیم محمود کو دیکھا‘ جنہوں نے شاید ہر بندے کا کوئی نہ کوئی کام کیا‘ جو ہو سکتا تھا اور ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہی دیکھی۔ محمود سلیم صدر زرداری کے 2008ء میں پرنسپل سیکرٹری تھے تو ایک دن مجھے کہا کہ کسی روز ایوانِ صدر چکر لگائیں۔ میں نے جھجک کر کہا: میں پی پی پی حکومت اور صدر زرداری پر سکینڈلز فائل کرتا رہتا ہوں۔ آپ کیلئے مشکلات ہوں گی کہ صدر زرداری کے پرنسپل سیکرٹری کے پاس اس رپورٹر کا اٹھنا بیٹھنا ہے جو روز حکومت کے خلاف خبریں دے رہا ہوتا ہے۔ وہ بولے: وہ صدر صاحب جانیں اور آپ کی رپورٹنگ جانے۔ میں شاید 2008؍09ء میں زندگی میں پہلی اور آخری بار ایوانِ صدر چائے پینے گیا۔ کچھ دیر گزری تو صدر زرداری اچانک سلیم صاحب کے دفتر میں داخل ہوئے۔ مجھے بیٹھے دیکھا تو قہقہہ لگا کر کہا: کلاسرا صاحب‘ تو آپ یہاں بیٹھے ہیں‘ اسے کہتے ہیں چھاپہ۔ میں نے اُٹھ کر ہاتھ ملایا۔ وہیں کھڑے کھڑے خیریت دریافت کی۔ میں نے کہا: میں نے تو محمود سلیم صاحب کو منع کیا تھا کہ صدر کے سیکرٹری کے دفتر میں میرا پایا جانا اچھا شگون نہیں ہو گا۔ بولے‘ ہرگز ایسی بات نہیں ہے۔ آپ سموسے کھائیں‘ چائے پئیں۔ سلیم صاحب زبردست افسر ہیں۔ کسی دن لمبی گپ لگاتے ہیں۔ خیر‘ وہ گپ کبھی نہ لگ سکی کیونکہ ہم اپنی خبریں دینے کی خُو سے باز نہ آئے اور حکمران ایسے رپورٹرز سے دور رہتے ہیں۔
جی ایم سکندر بھی ایسے افسر تھے جو اپنی خوبصورت مسکراہٹ کیساتھ لوگوں کو ایسے ملتے کہ لوگوں احساس ہی نہ ہوتا کہ وہ کسی وفاقی سیکرٹری سے مل رہے ہیں۔ خیر‘ بات ہو رہی تھی انور محمود کی جو جنرل ضیا اور وزیراعظم محمد خان جونیجو کے درمیان ایک چھوٹی سی بات سے اسمبلیوں کی برطرفی کی کہانیاں سناتے ہیں۔ جنرل ضیا اپنے ایک گھریلو سٹاف کے بندے کو ریٹائرمنٹ پر مدتِ ملازمت میں توسیع دلوانا چاہتے تھے‘ جس کا اختیار وزیراعظم جونیجو کے پاس تھا۔ جنرل ضیا‘ جو اپنے دور کے طاقتور صدر تھے‘ اپنے ملازم کو توسیع نہیں دے سکتے تھے‘ وہ پاور وزیراعظم کی تھی اور محمد خان جونیجو نے اس فائل کی منظوری جنرل ضیا کے کہنے پر نہیں دی تھی۔ یہ اُس دور کے وزیراعظم کے اختیارات کی بات ہے جب سویلین وزیراعظم مارشل لاء کے سائے میں تھے۔ اب وزیراعظم کی بے بسی دیکھنی ہو تو پچھلے دس پندرہ برسوں میں دیکھ لیں۔ اب تو خیر وزیراعظم ہاؤس کہاں اور اسکی طاقت کہاں۔ صدر ضیا اکثر یہ بات طنزیہ کہتے تھے کہ بھائی ہمارا وزیراعظم تو اتنی چھوٹی سی فائل تک منظور نہیں کرتا۔ ہو سکتا ہے آپکو یہ معمولی بات لگے جسکا محمد خان جونیجو کی برطرفی سے تعلق نہ ہو لیکن عموماً بڑے لوگوں کی انا ایسی چھوٹی باتوں سے زیادہ ہرٹ ہوتی ہے۔
اُنہی دنوں بھارت میں وزیراعظم راجیو گاندھی اور صدر ذیل سنگھ کے درمیان بھی وہی ہو رہا تھا جو صدر ضیا اور وزیراعظم جونیجو کے درمیان پاکستان میں چل رہا تھا۔ مزے کی بات ہے کہ دونوں ملکوں میں صدر اور وزیراعظم کے درمیان ایک جیسی لڑائی ہو رہی تھی۔ چند دن پہلے پرانی کتابوں کی دکان سے بھارت کے سابق صدر R. Venkataraman کی خودنوشت My Presidential Years ملی‘ جو انہوں نے 1994ء میں لکھی تھی۔ وہ 1987ء تا 1992ء کے درمیان پانچ سال بھارت کے صدر رہے اور اس دوران چار بھارتی وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا جن میں راجیو گاندھی‘ وی پی سنگھ‘ چندر شیکھر اور نرسمہا راؤ شامل تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ صدر گیانی ذیل سنگھ‘ جو 1982ء میں اندرا گاندھی کے دور میں صدر بنے‘ کے 1987ء میں ریٹائر ہونے سے چند ماہ پہلے راجیو گاندھی کے ساتھ تعلقات بہت خراب ہو چکے تھے۔ دونوں کے درمیان بات تلخی اور ٹینشن تک پہنچی ہوئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ مجھے اندرونی وجہ کا علم تو نہ تھا جس سے تعلقات خراب ہوئے تھے‘ لیکن میڈیا‘ سیاستدان اور عوام کو علم تھا کہ وزیراعظم راجیو گاندھی صدر ذیل سنگھ سے ملنے نہیں جاتے اور انہیں نظر انداز کرتے تھے۔ راجیو گاندھی نے کبھی حکومتی معاملات پر بریف بھی نہ کیا۔ اور تو اور وزیراعظم راجیو گاندھی اپنے صدر ذیل سنگھ کے غیرملکی دوروں کی فائل پر اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کچھ افراد کا کہنا تھا کہ صدر ذیل سنگھ اس وجہ سے راجیو گاندھی سے ناراض تھے کہ انہوں نے ایوانِ صدر کے جوائنٹ سیکرٹری ٹو پریزیڈنٹ کو ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس طرح وزارتِ داخلہ نے اندرا گاندھی کے قتل پر ٹھاکر کمیشن کی رپورٹ کی کاپی بھی نہیں بھیجی تھی‘ حالانکہ صدر ذیل سنگھ کی طرف سے بار بار منگوائی گئی تھی۔ یہ تاثر تھا کہ وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 78کی خلاف ورزی کر رہے تھے‘ جسکے تحت وزیراعظم نے ریاست کے اہم معاملات پر صدر کو اعتماد میں لینا ہوتا ہے اور اطلاعات پہنچانی ہوتی ہیں‘ جب بھی صدر وزیراعظم آفس سے طلب کرے۔ یہ بات کھل کر اس وقت سامنے آئی جب میڈیا نے راجیو گاندھی سے اس بارے میں سوال کیا کہ وہ اس آئینی روایت کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ نہ صدر سے ملاقات کرتے ہیں نہ ہی حکومتی معاملات پر بریف کرتے ہیں‘ تو وزیراعظم نے جواب دیا تھا کہ میں ایسی ایک سو آئینی روایات سے روگردانی کر چکا ہوں۔ لیکن اصل بحران اسوقت پیدا ہوا جب راجیو گاندھی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ وہ صدر سے مسلسل ملاقات کر کے انہیں بریف کرتے رہتے ہیں۔ بات اسوقت بڑھ گئی جب انڈین ایکسپریس نے 13مارچ 1987ء کو خبر چھاپی کہ صدر ذیل سنگھ نے خط لکھ کر راجیو گاندھی کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ اب یہ مسئلہ راجیہ سبھا پہنچ گیا‘ جہاں وینکٹرامن سپیکر کی کرسی پر بیٹھے تھے۔ انہیں اہم رولنگ دینی تھی کہ صدر اور وزیراعظم کا یہ مدعا پارلیمنٹ میں اٹھایا جا سکتا تھا یا نہیں۔ راجیو گاندھی نے سپیکر کو ہی کہانی ڈال دی کہ آپ ہی ہمارے اگلے صدر کیوں نہیں بن جاتے؟ اس دوران راجیو گاندھی پر کرپشن کے الزامات آنا شروع ہوئے تو اپوزیشن نے صدر ذیل سنگھ کو حمایت کا یقین دلایا کہ آپ ڈٹ جائیں۔ ہم آپ کو دوبارہ صدر بنائیں گے‘ جیسے 1993ء میں وزیراعظم نواز شریف اور صدر اسحاق خان کی لڑائی میں بینظیر بھٹو نے اسحاق خان کو صدرت کا عہدہ دلایا تھا۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...