ہمیں اپنے والدین کی بے بسی اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم خود والدین بنتے ہیں۔ یہ بھی عجیب انسانی نفسیات ہے کہ والدین کو علم ہوتا ہے کہ ان کا بچہ غلط کر رہا ہے‘ وہ اسے روکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں‘ لیکن وہ بچہ نہیں رکتا کیونکہ اس کا خیال ہے کہ وہ والدین خصوصاً باپ سے بہت آگے نکل آیا ہے اوروہ زمانے سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ باپ کو کیا علم کہ دنیا اب کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ اکثر بچے والدین کی نصیحتوں کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ اچھے بچے زیادہ سے زیادہ والد یا ماں کی بات سن لیں گے لیکن کریں گے وہی جو وہ سمجھتے ہیں کہ ٹھیک ہے۔ اکثر معاملات میں باپ کی بتائی ہوئی باتیں ٹھیک نکلتی ہیں تو شاید بچے بھی سوچتے ہوں کہ ہمارے باپ کو کیسے علم تھا کہ جو کام یا فیصلہ ہم کر بیٹھے تھے‘ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔
مجھے ایک فلم یاد آتی ہے جس میں ایک باپ اپنی بیٹی کو کسی بات سے منع کرتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا‘ یہ محض آپ کا وہم ہے۔ اگلے دن وہی کچھ ہوتا ہے جو باپ نے کہا تھا۔ اس کی بیٹی حیران ہو کر باپ کے پاس آتی ہے اور پوچھتی ہے کہ ڈیڈ! کیا بات ہے‘ جب بھی آپ نے مجھے کسی بات سے روکا اور میں نہ رکی تو جس سے آپ نے خبردار کیا تھا وہی نتیجہ نکلا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہر دفعہ آپ ہی ٹھیک نکلتے ہیں؟ اس باپ نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ میری بیٹی اس کی وجہ یہ ہے کہ جوانی میں بہت سی جگہوں پر میں تمہاری طرح کافی غلط ثابت ہو چکا ہوں‘ لہٰذا مجھے علم ہوتا ہے کہ اس کام یا فیصلے کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ وجہ یہ نہیں کہ میں تم سے زیادہ ذہین یا سمجھدار ہوں‘ وجہ یہ ہے کہ میں ان ناکامیوں اور اپنے اندازوں کے غلط ہونے کے عمل سے تم سے پہلے گزر چکا ہوں۔ تم اب گزر رہی ہو۔ ایک دن تم بھی میری طرح ان نتائج کو سوچ کر اپنے بچوں کو منع کرو گی لیکن وہ نہیں مانیں گے‘ جیسے تم نے میری بات نہیں مانی۔ یہی وہ سفر ہے جو ہم انسان اپنی زندگی میں طے کرتے ہیں۔
ابھی کچھ دن پہلے میرے چھوٹے بیٹے نے اے آئی سے فیفا ورلڈ کپ کے حوالے سے کئی وڈیوز بنائیں تو وہ اس کے انسٹاگرام پر وائرل ہوگئیں اور لاکھوں ویوز تک گئیں۔ وہ اکثر وڈیوز بنا کر مجھے دکھاتا رہتا۔ اب اس نے دو فٹ بال ٹیموں کے حوالے سے مشہور ڈرامہ سیریز ''پیکی بلائنڈرز‘‘ کے کرداروں اور کھلاڑیوں کو لے کر وڈیو بنائی تو مجھے اس کا تصور اچھا نہیں لگا۔ میں نے اسے کہا کہ ایسا نہ کرو‘ یہ اچھی نہیں‘ اس میں جو پیغام ہے وہ اچھا نہیں۔ وہ کہنے لگا: بابا آپ کو کیا پتا‘ اے آئی کی دنیا ہی مختلف ہے۔ اب نوجوان کچھ اور سوچتے ہیں۔ ہماری وڈیوز پہلے بھی لاکھوں میں دیکھی گئی ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا‘ فلم پروڈکشن اور ڈائریکشن میں گریجوایشن اور پھر ماسٹرز کر چکا ہے اور چھوٹے دورانیے کی کچھ فلمیں بھی بنا چکا ہے‘ لہٰذا اس کا اپنا اعتماد کا لیول ہے۔ میں نے اسے بٹھایا اور تفصیل سے سمجھایا کہ اسے یہ اے آئی کلپ نہیں لگانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ ایک کریئیٹر کو کبھی واہ واہ‘ بلّے بلّے کی پروا نہیں کرنی چاہیے‘ نہ ہی تنقید کی۔ اس سے بڑھ کر اسے کسی قسم کی تخلیق میں‘ چاہے وہ کروڑوں لوگ ہی کیوں نہ دیکھیں‘ اخلاقیات کے پہلو کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے اسے دیکھا تو مجھے لگا وہ میری باتوں سے قائل نہیں۔ میں نے کہا: چلو اس کلپ کو کسی اور زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی بھی فیملیز ہیں‘ بچے ہیں‘ بہت بڑی فین فالوونگ ہے۔ ان کو کیسا لگے گا یہ سب دیکھ کر؟ انہیں آپ کی تخلیق دیکھ کر مزہ آنا چاہیے اور مسکرانا چاہیے‘ نہ کہ انہیں دیکھ کر جھٹکا لگے یا وہ افسردہ ہو جائیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں۔ میں نے کہا: اگر ایسی کوئی اے آئی وڈیو میرے بارے میں اس سین کو سامنے رکھ کر بنائی جائے اور آپ کی نظر سے گزرے تو آپ کے کیا جذبات ہوں گے‘ چاہے یہ ڈرامے کے سین سے ہی کیوں نہ متاثر ہو؟ پہلی دفعہ وہ چونکا اور چپ رہا۔ میں نے کہا: کوئی بھی چیز تخلیق کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچا کرو کہ اے آئی سے بنائی گئی وڈیوز نے لوگوں کے چہروں پر حیرت‘ مسکراہٹ‘ قہقہے یا سنجیدگی سے سوچنے کی کیفیت پیدا کرنی ہے نہ کہ ان بڑے یا مشہور کھلاڑیوں‘ ان کے بچوں یا ان کے فینز کو تکلیف پہنچانی ہے۔ میرے بچے آپ نے ایسا کچھ نہیں کرنا۔ اس طرح کی صورتحال سے ہم سب والدین گزرتے ہیں‘ جو بچوں کے فیصلوں کے نتائج جانتے ہیں لیکن بے بسی سے بچوں کو ان مشکلات کا سامنا کرتے دیکھتے رہتے ہیں۔
ابھی ہمارے بھائی حفیظ اللہ نیازی کو ہی دیکھ لیں‘ جن کی اذیت کا سوچ کر ہی تکلیف ہوتی ہے۔ حفیظ اللہ نیازی ایک سمجھدار انسان ہیں جو عمران خان کی سیاسی اپروچ کے ناقد رہے ہیں اور انہوں نے کبھی اپنے خیالات کو نہیں چھپایا اور اخباری کالموں یا ٹی وی شوز میں ان کا کھل کر اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اب ان کی بے بسی ملاحظہ فرمائیں کہ ان کا بیٹا اپنے ماموں کی سیاسی فلاسفی سے متاثر ہے۔ حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے‘جس کا اظہار وہ کئی دفعہ اپنی گفتگو میں کر چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ہر لحاظ سے سمجھانے کی کوشش کی کہ جس سیاسی فلاسفی پر اس کا ماموں چل رہا ہے اس کا نتیجہ ان سب کیلئے اچھا نہیں نکلے گا۔ جواباً ان کے بیٹے نے انہیں یہاں تک کہا کہ بابا آپ تو اُن کے مخالف ہیں لہٰذا آپ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایک بیٹے کیلئے باپ کی فلاسفی سے ماموں کی فلاسفی زیادہ اہم ہو گئی۔ عمران خان کے سخت بیانات پر حفیظ اللہ نیازی کی اپنے بیٹے سے بات ہوئی تو اسے کہا ''اگلے تین سے چھ ماہ میں یا تو مقتدرہ نہیں ہوگی یا تمہارا ماموں‘‘۔ یہ سب باتیں نیازی صاحب کے بیٹے کی گرفتاری اور دس سال کی سزا سے پہلے کی ہیں۔ اور کچھ ماہ بعد ماموں‘ بھانجا جیل میں تھے۔ حفیظ اللہ نیازی طویل عرصہ سے پاکستانی سیاست کو قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کے بعد جانتے تھے کہ حالات کس طرف جا رہے تھے اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا‘ لیکن نوجوان بیٹا مختلف سوچتا تھا کہ اس کا والد کیونکہ اس کے ماموں کی سیاسی سوچ کا مخالف ہے‘ لہٰذا وہ ایسی باتیں کرتا رہتا ہے۔ وہ نوجوان بیٹا ایک باپ کی پریشانی اور آنے والے خطرناک حالات کو نہ دیکھ سکا۔
مجھے حفیظ اللہ نیازی سے اس لیے بھی ہمدردی ہے کہ ان کا بیٹا پہلے ہی جیل میں ہے اور اب ان کی اہلیہ بھی ایسا بیان دے بیٹھی ہیں کہ ان پر بھی مقدمہ ہوگیا ہے۔ اب حفیظ اللہ نیازی کیلئے کیا راستہ ہے جبکہ وہ برسوں سے دیکھ رہے تھے کہ نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ اگرچہ وہ یہ بات کہتے ہیں کہ نورین صاحبہ کے بھی خیالات اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے‘ جن کا جوان اکلوتا بیٹا دس سال کی سزا کاٹ رہا ہے‘ اکلوتا بھائی تین سال سے قید ہے۔ حفیظ اللہ نیازی یہ سب کچھ آتا دیکھ رہے تھے اور برسوں سے کوشش کر رہے تھے کہ یہ آگ ان کے گھر تک نہ پہنچے۔ انہیں آگاہی کا کرب تھا کہ ایک دن اس سوچ کا یہی نتیجہ نکلے گا۔ وہ اس سوچ کے مخالف سمت کھڑے تھے لیکن بیٹا اور بیوی اسی سوچ کے مالک نکلے۔ عرصہ ہوا مشہور روسی ادیب شولوخوف کے ناولٹ کا قرۃ العین حیدر نے ''انسان کا مقدر‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا تھا۔ حفیظ اللہ نیازی جس کرب اور اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں‘ اس سے لگتا ہے یہی ایک باپ کا مقدر تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments