خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاس ہونے والے حالیہ بل پر بہت بات ہو رہی ہے جہاں ارکانِ اسمبلی نے اپنے لیے غیر معمولی مراعات کی خود ہی منظوری دی ہے۔ پی ٹی آئی والے دوست زیادہ پریشان ہیں کیونکہ ان کی پارٹی کے قیام اور مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان مراعات کے خلاف آواز بلند کرنا رہی ہے۔ ملکی سیاستدانوں اور روایتی سیاسی گھرانوں نے جس طرح سیاسی قوت کو اپنی عیاشیوں اور مراعات کیلئے استعمال کیا‘ اس کے خلاف عمران خان ایک توانا آواز بن کر ابھرے تھے اور وہ ہر قسم کے پروٹوکول کے خلاف تھے۔ یوں انہیں عوام میں پذیرائی ملنا شروع ہوئی‘ بلکہ عمران خان کا یہ بیانیہ بہت مقبول ہوا کہ ان کے پاس تو اللہ کا دیا سب کچھ ہے‘ وہ تو پاکستانی عوام کیلئے خوار ہو رہے ہیں۔ وہ چاہتے تو لندن میں پُرتعیش زندگی گزار سکتے تھے لیکن وہ پاکستان میں عام آدمی کیلئے خود کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں۔ شاید عمران خان کو لگا کہ اگر وہ ان ایلیٹ طبقات کے خلاف کھڑے ہو جائیں جن کا وہ ساری عمر حصہ رہے ہیں‘ تو سیاست میں ان کے نمایاں ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ عام آدمی اپنے مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ اپنے سے اونچے طبقات کو سمجھتا ہے۔ یہ الگ کہانی ہے کہ اگر نچلا طبقہ کسی طرح ترقی کر کے اُس طبقے میں شامل ہو جائے تو پھر اُسی غریب طبقے سے شکایات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں جہاں سے نکل کر وہ خود اوپر آیا ہوتا ہے۔ یہ محض طبقات کی لڑائی ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے اور کہاں جانا چاہتا ہے۔ خیر‘ یہ طویل بحث ہے اور اسے کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھتے ہیں۔
اب عمران خان کی پارٹی‘ جو اپنے تئیں سارا وقت مراعات کے خلاف لڑتی رہی‘ وہ خود اب اپنی مراعات کیلئے ایسے قوانین لا رہی ہے جنہیں پڑھ کر سب حیران ہیں بلکہ پی ٹی آئی کے حامی تو پریشان بھی ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کی پریشانی اور حیرانی جائز ہے کہ وہ اس طرح کی قانون سازی سے اخلاقی طور پر خود کو اپنے مخالفین سے کمزور پاتے ہیں۔ اس طرح وہ پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ جس پارٹی یا لیڈر کے پیچھے کھڑے ہیں‘ وہ سب سے بہتر ہے۔ خود کو غلط سمجھنا بہت مشکل کام ہے‘ لہٰذا بہت سارے سیاسی کارکن‘ خواہ کسی بھی پارٹی کے ہوں‘ خود کو تسلی دیے رکھتے ہیں کہ اگر ہمارا لیڈر اچھا نہیں نکلا تو کیا ہوا‘ دوسروں کے لیڈر کون سے فرشتے ہیں۔ لہٰذا وہ اس قسم کے مقابلے میں اپنے پہلوان کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ وہی بات کہ لٹیرا میری مرضی کا ہونا چاہیے‘ پھر وہ جہاں چاہے لوٹ مار مچائے۔
ماضی میں عمران خان ایک ایک کر کے اُن تمام سیاسی اور اخلاقی برتریوں سے محروم ہوتے چلے گئے جو انہیں دوسروں پر حاصل تھیں اور جن کی بنیاد پر ان کا ووٹ بینک بڑھا تھا اور پھر اسی کے سہارے وہ وزیراعظم بن گئے۔ اگر دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا اسمبلی میں مراعات بل سے پہلے بھی بہت سارے ایسے کام ہو چکے ہیں جن کے بعد پی ٹی آئی دیگر جماعتوں کے برابر جا کھڑی ہوئی۔ اگرچہ یہ پارٹی ان تمام تر خامیوں کے باوجود اب بھی عوام میں زیادہ مقبول ہے‘ تاہم اس کی الگ وجوہات ہیں۔ البتہ یہ طے ہے کہ اخلاقی بنیاد سب کھو چکے ہیں۔ اگرچہ پیپلز پارٹی یا (ن) لیگ کا حامی کہے گا کہ ہمارے سیاسی دیوتاؤں نے کبھی نیک نام یا فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جیسے عمران خان کے حامی کرتے رہے ہیں۔ نہ انہوں نے کبھی معاشرتی‘ مالی یا سیاسی قدروں کو بہتر کرنے کا نعرہ لگایا۔ وہ اچھے بُرے جیسے بھی تھے‘ ویسے ہی خود کو عوام کے سامنے پیش کرتے رہے اور اس پر انہیں یوٹرن کا طعنہ بھی نہیں دیا جا سکتا‘ جیسے عمران خان کو دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کے ووٹ بینک یا مقبولیت کو بھی مراعات بل سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ کیونکہ ہمارے سیاسی شعور میں ایسی چیزوں کو مقبولیت یا ووٹ بینک کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا جاتا۔ ہمارے دوست امجد صدیق نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی کہ تصور کریں کہ یہی بل اگر سندھ یا پنجاب اسمبلی میں منظور ہوا ہوتا تو کیا قیامت آتی کہ جس دن کوئی رکن اسمبلی اجلاس میں شریک ہے‘ وہ اس دن عدالت میں پیشی سے چھٹی کر سکتا ہے یا یہ کہ الزامات کو پہلے سپیکر دیکھے گا‘ یا یہ کہ ارکان اور ان کے خاندان کو عمر بھر بلیو پاسپورٹ ملے گا۔ اس کے علاوہ بھی مراعات کی لمبی فہرست ہے۔
ٹی وی پروگرام میں بات ہو رہی تھی کہ اس وقت پورے ملک میں پارلیمنٹ سے صوبائی اسمبلیوں تک‘ ارکان کی کل تعداد گیارہ سو کے قریب ہے۔ وہ ملک کے اُن گیارہ‘ بارہ کروڑ لوگوں سے ووٹ لے کر یہاں پہنچتے ہیں جن کے پاس سبز پاسپورٹ ہیں۔ لیکن پارلیمنٹ پہنچ کر انہیں سبز پاسپورٹ بُرا لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاسپورٹ کا رنگ تبدیل کیا جائے کیونکہ اکثر انہیں اور ان کے بچوں کو دنیا بھر کے ایئر پورٹس پر سبز پاسپورٹ کی وجہ سے روک لیا جاتا ہے یا پوچھ گچھ ہوتی ہے۔ اس پوچھ گچھ سے بچنے کا ایک ہی حل انہیں سمجھ میں آیا کہ پاسپورٹ کا رنگ ہی بدل ڈالو۔ اب ان کے پاسپورٹس دو طرح کے ہیں۔ ایک ڈپلومیٹک اور دوسرا سرکاری پاسپورٹ۔ یوں سبز‘ سرخ اور نیلے رنگ کے پاسپورٹس میں سے وہ جلد از جلد سبز رنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بیوی بچوں کی بھی‘ تاکہ انہیں دنیا بھر کے کسی ایئرپورٹ پر سبز پاسپورٹ کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہ ہو‘ جو عام پاکستانیوں کے ساتھ ہوتا رہتا ہے۔
ان ڈپلومیٹک پاسپورٹس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں جو سبز پاسپورٹ والے سوچ بھی نہیں سکتے۔ اکثر آپ نے یہ خبر پڑھی ہو گی کہ فلاں ملک نے پاکستانیوں کو بغیر ویزے آنے کی اجازت دے دی‘ یا ایئرپورٹ پر ہی آن آرائیول ویزا مل جائے گا۔ پورا ملک یہ سوچ کر جھوم اٹھتا ہے کہ شاید پچیس کروڑ پاکستانیوں کو یہ سہولت مل گئی۔ ایسی خبروں کے بعد مجھے اکثر دوستوں کے پیغامات ملتے ہیں کہ کہاں کہاں وہ بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔ دراصل یہ سہولت صرف اُن پاکستانیوں کو حاصل ہوتی ہے جن کے پاس سرکاری یا سفارتی پاسپورٹس ہوتے ہیں۔ اس وقت دنیا کے تقریباً چالیس سے پچاس ملکوں کے ساتھ پاکستان کے ویزا فری انٹری کے معاہدے ہیں‘ جن کی نوعیت مختلف ہے لیکن یہ طے ہے کہ یہ سہولت صرف سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ پر ہے۔ اندازہ کریں کہ جن پچاس ملکوں میں جانے کے لیے آپ کو بے شمار شرائط پوری کرنا پڑتی ہیں اور اکثر ویزا کے بجائے انکار ملتا ہے‘ وہاں ان اراکین اور ان کے خاندان کے افراد کو ایئرپورٹ پر اترتے ہی ویزا مل جائے گا۔ اس سے بڑھ کر‘ جب آپ سبز رنگ کے بجائے سرخ یا بلیو پاسپورٹ پکڑے جہاز پر سوار ہوتے یا کسی ملکی یا غیر ملکی ایئرپورٹ پر اترتے ہیں تو آپ کی ٹور ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ پھر کوئی آپ کو مشکوک نظروں سے نہیں دیکھتا کہ اس کے ہاتھ میں عام پاسپورٹ ہے‘ اسے چیک تو کریں کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں۔ ایئرپورٹس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں یا نگرانی کرنے والوں کی پاکستان کے سبز پاسپورٹ سے اچھی شناسائی ہے۔ ہمارے سرخ اور بلیو پاسپورٹ کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وہ محرک ہے جس کی وجہ سے ارکانِ اسمبلی اب تاحیات سفارتی پاسپورٹ چاہتے ہیں‘ اور صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اگر ایک ایم این اے یا ایم پی اے کے دس پندرہ بچے ہیں (کچھ کے ہیں بھی)‘ تو ان سب کو بھی سفارتی پاسپورٹ ملے گا۔
اندازہ کریں کہ جن پچیس کروڑ سبز پاسپورٹ والوں سے ووٹ لے کر یہ گیارہ سو ارکان پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں‘ ایوان میں پہنچتے ہی وہ پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ اپنے پاسپورٹ کا رنگ باقیوں سے علیحدہ کرا لیں‘ کہیں سے نہ لگے کہ ہم ان جیسے پاکستانی ہیں۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وہ عام لوگوں سے کہنا چاہتے ہیں: ساڈے نیڑے نہ لگنا۔