"RKC" (space) message & send to 7575

20 سال کی عمر میں یہ حوصلہ کہاں سے آیا

دو تین ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہیں دیکھ‘ سن اور پڑھ کر سمجھ نہیں آتا کہ بعض دفعہ انسان میں اتنا حوصلہ کہاں سے آ جاتا ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے یا نتائج کا ادارک کیے انتہائی قدم اٹھا لیتا ہے۔ کچھ ہفتے پہلے ایک 19سالہ لڑکی نے ایک 30سالہ شخص سے انتقام لینے کیلئے سوات کے ایک پولیس کانسٹیبل کے ذریعے اسلام آباد کے F-6 سیکٹر سے رات گئے اسے غوا کرایا اور پھر موٹر وے پر قتل کرا دیا۔ ایک واقعہ لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا کا ہے اور تیسرا واقعہ اسلام آباد میں فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم کے اندوہناک قتل کا ہے۔ اتفاق دیکھیں کہ تینوں کیسز میں جو نوجوان ملوث ہیں ان کی عمریں انیس‘ بیس سال کے قریب بتائی جا رہی ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ بچے گھر میں اپنے بڑوں کو دیکھ کر ہی سیکھتے یا جرائم کی طرف چل نکلتے ہیں۔ انہیں اعتماد ہوتا ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ اگرچہ دنیا بہادروں کی عزت کرتی ہے کیونکہ بہادر لوگ اکثر نتائج کا اندازہ کیے بغیر کوئی ایسا کام کر لیتے ہیں کہ تھوڑی سی سمجھ بوجھ والا بندہ پہلے دس دفعہ سوچے گا اورپھر اس سوچ بچار میں وہ کسی مرحلے پر ایک خطرناک نتیجے پر پہنچ کر اس کام کو ترک کر دے گا۔ اب دیکھیں تو ان تینوں کیسوں میں بیس‘ بیس سالہ رضا ڈار اور سعد عباسی اور مردان کی لڑکی نے کسی مرحلے پر نتائج کا نہیں سوچا‘ جو دل میں آیا کر گزرے۔ نتائج ایک طرف پورا ملک بھگت رہا ہے تو دوسری طرف گروپ کیپٹن اور اسلام آباد کے نوجوان کا خاندان ساری عمر دکھ اور تکلیف کی صورت میں بھگتے گا۔ میں اس مائنڈ سیٹ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں جو انیس بیس سالہ نوجوان کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک سے دو خواتین کو باقاعدہ ویزے دلوا کر بلاتاہے اور پھر انہیں اغوا کر کے اپنے ڈوبے پیسے نکلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نوجوان کے پاس اتنا پیسہ بھی ہے کہ وہ بارہ‘ پندرہ کروڑ (پانچ لاکھ ڈالر) ان خواتین کو دے کر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جب آپ بیس سال کی عمر میں بچے کو اتنا پیسہ اور کچھ بھی کر گزرنے کا حوصلہ دیں گے تو پھر وہ کچھ بھی کر گزرے گا۔ کسی نے بھی اس نوجوان کو نہ سمجھایا کہ دھیان سے رہنا اور کوئی ایسا ویسا کام نہ کر بیٹھنا کیونکہ ہمارا خاندان اس وقت ملک کا حکمران ہے‘ حکمرانی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور کسی وقت بھی تخت الٹ سکتا ہے اور ہمارے سیاسی مخالف ان چیزوں کو ہمارے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملکوں میں حاکمیت اور اقتدار کو خدا یا عوام کی طرف سے ذمہ داری کے بجائے ایک موقع تصور کیا جاتا ہے جس میں کھل کر لوٹ مچانی ہوتی اور پیسے اکٹھے کرنے ہوتے ہیں۔ جب بچے اپنے بڑوں کو اندھا دھند دولت کے پیچھے بھاگتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس ہوس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہی وہ نروان ہے‘ گوتم بدھ کی طرح جس کی انہیں برسوں سے تلاش تھی۔
برسوں پہلے جب میں ملتان میںڈان اخبار کیلئے رپورٹنگ کرتا تھا تو وہاں صوبائی کاٹن ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر منیر صاحب سے اچھی دعا سلام ہوگئی۔ وہ خود بھی زرعی سائنسدان تھے۔ ایک دن کسی بڑی شخصیت کی کرپشن کی بات ہو رہی تھی‘ جو کاٹن سیڈ میں دو نمبری سے پیسہ کما رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ آخر اتنے امیر شخص کو مزید کتنی دولت درکار ہے؟ انہوں نے بہت خوبصورت جواب دیا۔ کہنے لگے: آپ اس ایشو کو ایک اور زاویے سے دیکھیں۔ جیسے آپ کو روزانہ کوئی نئی خبر چاہیے ہوتی ہے اور آپ روز بھاگ دوڑ کر کے خبر تلاش کرتے ہیں‘ ایسے ہی ان لوگوں کو دولت کمانے کا چسکا ہوتا ہے۔ وہ روزانہ کوئی بڑی ڈیل‘ کوئی بڑا کنٹریکٹ حاصل کرنا اور اپنا بینک بیلنس بھرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا نشہ ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ یہ ان کا اُسی طرح پیشہ ہے جیسے آپ کا صحافت ہے۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ امیر ترین شخص بھی ہر روز پیسہ کمانا چاہتا ہے۔ وہ ایک دن بھی آرام نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے جب حکمران خاندانوں کے بچے اپنے اردگرد ہمہ وقت دولت کمانے کی باتیں سنتے ہیں تو پھر وہ اسی دھن کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔
سیانے کہتے ہیں کہ جب آپ کسی سے انتقام لینے نکلتے ہیں تو ذہن میں رکھیں آپ دو قبریں کھود رہے ہیں‘ ایک اپنے دشمن کی جس سے آپ نے اپنا حساب برابر کرنا ہے اور دوسری قبر خود اپنے لیے۔ اگر آپ لاہور اور اسلام آباد کے ان تینوں واقعات کو دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ ان سب میں بدلے کی آگ تھی‘ جس نے انہیں جلا کر بھسم کر ڈالا۔ لاہور کا رضا ڈار‘ ایبٹ آباد کا سعد عباسی اور مردان کی لڑکی‘ تینوں انتقام کے جذبے کا شکار ہوئے۔ رضا ڈار کو لگا کہ اس کے ساتھ دونوں لڑکیوں نے دھوکا کیا اور اس کے لاکھوں ڈالر ڈوب گئے۔ دھوکے کے بارے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ کوئی اگر آپ کو دھوکا دے تو اس کا بدلہ نہیں لیا جاتا‘ دھوکے سے سبق سیکھا جاتا ہے۔ اگر آپ کی سادگی کا فائدہ اٹھایا گیا تب بھی اپنے آپ کو اگلے دھوکے سے بچائیں۔ غلطی آپ سے ہوئی کہ آپ نے غلط بندے پر بھروسہ کیا‘ لہٰذا اس سے سبق سیکھ کر آئندہ دھوکے سے بچیں‘ نہ کہ چاقو چھری لے کر بدلہ اور انتقام لینے نکل جائیں۔ انسان کو سب سے زیادہ تکلیف دھوکا کھانے سے ہوتی ہے۔ اسے یقین ہی نہیں آتا کہ کسی نے اسے بیوقوف بنا دیا۔ وہ پہلے خود پر غصہ کرتا ہے اور پھر وہ اس شخص کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔ یہاں بھی یہی کچھ ہوا۔ لالچ انسان کی آنکھیں اور دماغ بند کر دیتی ہے اور انتقام کا جذبہ انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ ایسے میں وہ نتائج کا نہیں سوچتا اور اندھا دھند من چاہی کر گزرتا ہے۔ نتائج پھر وہ بھگتتے ہیں جن کے بل بوتے پر اتنا اعتماد آیا ہوا تھا۔
رضا ڈار کو کوئی نہیں جانتا لیکن اس کے خاندان کو سب جانتے ہیں لہٰذا پورا خاندان ایک قیمت چکا رہا ہے۔ یہی کچھ اسلام آباد میں ہوا کہ بیس سالہ نوجوان یہ برداشت نہ کرسکا کہ ایک لڑکی کو اگر وہ زبردستی بائیک پر بٹھا کر کہیں لے جانا چاہتا ہے تو وہ اسے اپنا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے‘ جس میں کسی کو حق نہیں کہ وہ مداخلت کرے۔ اگر کوئی جرأت کر کے اسے منع کرے گا تو وہ اسے گولی مار دے گا۔ کہیں نہ کہیں تو اس لڑکے کے ذہن میں یہ تصور پلتا رہا کہ وہ اس دنیا میں اپنی مرضی کرنے آیا ہے۔ وہ لڑکی سے دن دہاڑے‘ کسی بھی چوک میں زبردستی کر سکتا ہے اور آس پاس سے گزرتے لوگوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں‘ ورنہ انہیں وہ زندگی سے بھی محروم کر سکتا ہے۔ مردان کی لڑکی نے اپنے سابقہ دوست کو رات گئے اسلام آباد سے اس لیے اغوا کرایا کہ وہ شادی سے انکاری تھا۔
جب نوجوان دیکھتے ہیں کہ ملک کا قانون طاقتوروں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو ان کے اندر وحشی قسم کی جبلت پیدا ہوتی ہے جو انسان غاروں اور جنگلوں سے نکلتے وقت اپنے ساتھ لے کر نکلا اور صدیوں سے اسے اپنے اندر دبائے جدید معاشروں میں زندہ ہے۔ پوری دنیا میں انسان جبلی طور پر وحشی ہے‘ البتہ وقت کے ساتھ قوانین‘ سزائوں اور تعلیم وشعور کی مدد سے انہیں مہذب بنایا جاتا رہا ہے۔ ہمارے دوست جنید مہار اکثر کہا کرتے ہیں کہ بندے کو پتا ہو کہ وہ کوئی جرم کر کے بچ نہیں سکتا تو کسی حد تک وہ جرم سے باز رہے گا۔ جہاں خوف ختم ہو جائے وہاں بیس سالہ لڑکا دو غیر ملکی خواتین کو اغوا کر لیتا ہے‘ وہ دن دہاڑے گروپ کیپٹن کو قتل کر دیتا ہے اور انیس سالہ لڑکی آدھی رات کو ایک شخص کو گھر سے اغوا کر کے قتل کرا دیتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں