"RS" (space) message & send to 7575

مشرقِ وسطیٰ جنگ اور صہیونی ذہنیت

مشرقِ وسطیٰ میں طویل ہوتی جنگ کی اصل وجہ وہ صہیونی سوچ ہے جو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے خطے کے امن کو بالائے طاق رکھنے پر تلی ہوئی ہے۔ اپریل میں طے پانے والے اسلام آباد میمورنڈم اور جون میں سوئٹزرلینڈ کے امن معاہدے کے بعد خطے میں صورتحال تیزی سے معمول پر آنے لگی تھی‘ امریکہ اور ایران سمیت تمام اہم علاقائی اور عالمی فریق اس پیشرفت کا خیرمقدم کر رہے تھے اور کئی ماہ سے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت اثرات دکھائی دینے لگے تھے‘ تاہم اس پورے عمل کا ایک ایسا پہلو بھی تھا جو اسرائیلی قیادت کیلئے ناقابلِ قبول تھا‘ وہ یہ کہ ایران نے اس معاہدے کے ذریعے اپنی بنیادی شرائط منوا کر سفارتی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ ایرانی مؤقف کی اس پذیرائی سے عالمی سطح پر یہ تاثر ابھرا کہ تہران نے جنگ کے اس مرحلے میں سیاسی اور اخلاقی برتری قائم کر لی ہے‘ جس کا براہِ راست مطلب اسرائیل کی ہزیمت اور اس کی طے شدہ پالیسی کی ناکامی تھا۔ صہیونی لابی اس صورتحال کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھی‘ چنانچہ انہوں نے واشنگٹن پر دباؤ بڑھایا تاکہ امریکہ کو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی پر آمادہ کیا جا سکے۔ یہ سازش اس وقت عملی شکل اختیار کر گئی جب ایرانی قوم اپنے سابق سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں مصروف تھی۔ امریکہ نے انتہائی معمولی اور غیرمصدقہ واقعات کو جواز بنا کر ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے۔ ایک ایسا اقدام جس نے عالمی برادری کو حیرت میں ڈال دیا کیونکہ فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدے کے تحت جنگ بندی نافذ العمل تھی۔ لیکن حقیقت میں یہ تل ابیب کی اسی دیرینہ خواہش کی تعمیل تھی جس کیلئے امریکہ نے ایک بار پھر پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا۔
اسرائیلی حکمتِ عملی کا دوسرا اہم مقصد یہ تھا کہ کسی طرح مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے خفیہ مقامات سے میزائل داغ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ایران نے سعودی عرب پر حملے کیے ہیں۔ تاہم سعودی قیادت نے اس چال کو وقت پر سمجھ لیا اور تدبر کے ساتھ تہران کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کیا۔ جب مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کا یہ منصوبہ ناکام ہوتا دکھائی دیا تو اسرائیل نے جنگ کو دیگر محاذوں تک پھیلانے کا راستہ اختیار کیا۔ آج اگر اس تصادم کا دائرہ لبنان سے لے کر یمن تک پھیل رہا ہے تو صہیونی طاقتیں اسے اپنے لیے فائدہ مند سمجھتی ہیں۔ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے جہاں مسلم دنیا کیلئے تشویش کا باعث ہیں وہی صہیونی لابی کیلئے اطمینان کا باعث ہیں کیونکہ ان کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ خطے میں تنازعات کی آگ بھڑکا کر خود اس کے اثرات سے محفوظ رہا جائے۔
پاکستان‘ قطر اور ترکیہ جیسے ممالک نے اس بگاڑ کو روکنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں لیکن یہ حقیقت اب آشکار ہو چکی ہے کہ امریکی پالیسی سازی پر اسرائیلی لابی کا دباؤ انتہائی شدید ہے۔ اگرچہ واشنگٹن میں ایسی آوازیں بھی ابھریں جنہوں نے امریکی عوام کے ٹیکسوں اور قومی مفادات کو غیرملکی تنازعات میں جھونکنے کی مخالفت کی مگر وہ لابی کے پروپیگنڈا کے سامنے مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کاجائزہ لیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ وہ اس جنگ کو طول دینے کے حق میں نہیں۔ ان کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اس تصادم سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات اور سوئٹزرلینڈ کے فریم ورک نے امریکہ کو اس دلدل سے نکلنے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا تھا لیکن صہیونی دباؤ کے تحت اس معاہدے کو سبوتاژ کر دیا گیا۔ پچھلے دو ہفتوں سے جاری شدید امریکی حملوں کے باوجود ایرانی قیادت اور عوام نے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے وہ عسکری ماہرین کے نزدیک ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ایران نے اپنے اہم ترین رہنماؤں کو کھویا اور شدید معاشی دباؤ برداست کیا‘ لیکن نظریاتی طور پر وہ مزید متحد ہو کر سامنے آیا جس کا واضح ثبوت سابق سپریم لیڈر کے جنازے کے موقع پر دیکھا گیا۔ اس پس منظر میں یہ بات یقینی ہے کہ اگر یہ جنگ برسوں بھی جاری رہے تو بھی ایران کو عسکری طاقت کے ذریعے جھکانا ممکن نہیں ہو گا۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سفارتکاری کے ذریعے وقار کے ساتھ اس تنازع کا خاتمہ ہی واحد منطقی راستہ نہیں؟ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کا یہ بیان کہ صدر ٹرمپ نے سفارتکاری کو موقع دینے کیلئے ایران پر فضائی حملے عارضی طور پر معطل کیے ہیں‘ ایک اہم پیشرفت ہے۔ ایران کے خلاف دو راتوں سے امریکی کارروائیوں کا رکنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان‘ قطر اور عمان کی ثالثی میں جاری کوششیں اب بھی فعال ہیں۔ تاہم یہ بات پیشِ نظر رکھنی ہو گی کہ پہلے ہی جنگ بندی کے باوجود امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملے کرنے سے سفارتی عمل کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اب اگر ثالثوں کی کوششوں سے فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے بھی ہیں تو ایران انتہائی تحفظات کے ساتھ آئے گا۔ اپریل میں جب پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد مذاکرات شروع ہوئے تھے تو تہران کو قائل کرنا آسان نہ تھا‘ لیکن انہوں نے ثالثوں کے اعتماد پر قدم آگے بڑھایا ۔ اب دوبارہ وہ اعتماد بحال کرنا قدرے مشکل ہو گا لیکن ایران بھی تو جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے کیونکہ یہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی ہے۔ چونکہ امن کا پائیدار راستہ مکالمے سے نکلتا ہے‘ اس لیے اگر سفارتکاری کو ایک ہزار بار بھی موقع دینا پڑے تو عالمی مفاد میں ایسا کیا جانا چاہیے۔
ایران نے بھی سفارتی راستے کھلے رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو میں واضح کیا کہ ایران نے معاہدے کے تحت 30دن کے اندر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کا اپنا وعدہ پورا کیا لیکن اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی امریکہ نے نئے واقعات کو بنیاد بنا کر حملے کر دیے جبکہ ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کی شق پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ ایران کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب بھی سفارتی حل کا حامی ہے بشرطیکہ طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری کی جائے۔ امن کو سبوتاژ کرنے والا محرک اسرائیلی ہے‘ غزہ سے شروع ہونے والی جنگ کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور یہ خالصتاً اسرائیل کے مفادات کی جنگ ہے اس لیے امریکہ کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ جب تک اسرائیل کے امن دشمن اقدامات پر کھل کر بات نہیں ہوتی اور اس کا سدباب نہیں کر لیا جاتا‘ امن مذاکرات کا حتمی نتیجے پر پہنچنا آسان نہیں ہو گا۔ آئندہ سفارتی کوششیں اسی صورت کارگر ثابت ہو سکتی ہیں جب امریکہ اپنے کیے گئے وعدوں پر قائم رہے اور کسی تیسرے فریق کو اس امن عمل کو ناکام بنانے کی اجازت نہ دے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...