مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ میں کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک اور سٹرٹیجک بحران میں داخل ہو گئی ہے جس نے پورے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ گزشتہ بارہ روز سے جاری عسکری کارروائیوں اور شدید فضائی و بحری حملوں کے دوران امریکہ کی طرف سے اُن ایرانی اہداف‘ تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان کی متحرک سفارتی کوششوں کے باعث محفوظ ہو گئے تھے۔ اسلام آباد نے خطے کو ہولناک تباہی سے بچانے کیلئے تہران اور واشنگٹن کے مابین بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے جو سٹرٹیجک توازن قائم کیاوہ حالیہ حملوں کی شدت اور جیو پولیٹکل تناؤ کے باعث مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف دونوں طاقتوں کو بڑے تصادم پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ ان تمام سفارتی ذرائع کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے جو اَب تک اس خطے میں امن کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہے تھے۔ تہران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کی جانب سے واشنگٹن کے عسکری اقدامات پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے تمام تر راستے مسدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران نے امریکی حملوں کے ردِعمل میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عملی طور پر معطل کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے نہ صرف دنیا بھر میں تیل اور ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے بلکہ اس سے عالمی مارکیٹ میں توانائی کا ایک نیا اور شدید بحران جنم لے رہا ہے۔
امریکی پیش قدمی اور پابندیوں کے جواب میں ایران کی جنگی حکمتِ عملی کا سب سے بڑا ہدف مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص اردن‘ بحرین‘ کویت اور سعودی عرب بن رہے ہیں۔ اس جاری کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والی انتہائی حساس تنصیبات (Desalination Plants) پر حملوں نے خلیجی خطے کو غیرمعمولی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کویت نے حال ہی میں ایران پر ملک کے بڑے واٹر پلانٹ کو دوسری بار براہِ راست نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے‘ جس کے بعد پورے خلیجی خطے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور انسانی تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو چکی ہے۔ گلف ریسرچ سنٹر کے مطابق زیرِ زمین موجود انتہائی محدود قدرتی پانی اور سمندری پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنانے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس مل کر اس پورے خطے کی واٹر سپلائی اور روزمرہ ضروریات کا تقریباً 90 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں‘ درجہ حرارت میں بے پناہ اضافے اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی کے باعث متحدہ عرب امارات سے لے کر کویت تک خلیج کی پوری پٹی پر 400 سے زائد واٹر پلانٹس فعال ہیں‘ جو دنیا کے اس سب سے خشک‘ گرم اور بے آب و گیاہ خطے کے کروڑوں باشندوں اور صنعتی شعبوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک جن میں سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ قطر‘ بحرین اور عمان شامل ہیں‘ یہ ممالک عالمی سطح پر سمندری پانی صاف کرنے کی 60 فیصد صلاحیت کے حامل ہیں۔ کویت اپنے پینے کے پانی کا 90 فیصد‘ عمان 86 فیصد‘ سعودی عرب 70 فیصد اور متحدہ عرب امارات 42 فیصد حصہ انہی پلانٹس سے حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان پلانٹس پر ہونے والے حملے ایک بھیانک معاشی‘ انسانی اور ماحولیاتی بحران کو جنم دے رہے ہیں‘ جس سے لاکھوں بے گناہ شہریوں کی زندگی داؤ پر لگ چکی ہے۔
اس تشویشناک منظرنامے میں کویت امریکہ کے ساتھ طویل مدتی روایتی دفاعی معاہدے اور امریکی سکیورٹی چھتری موجود ہونے کے باوجود پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم دہائیوں پر محیط آزمودہ عسکری تعاون جیسے وسیع البنیاد ماڈل سے استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاک کویت مذاکرات کے فریم ورک میں عسکری تربیت‘ مشترکہ مشقیں‘ دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی‘ ایئر ڈیفنس سپورٹ‘ ڈرون سکیورٹی‘ خفیہ معلومات اور اعلیٰ سطح کے عسکری وفود کا تبادلہ شامل ہے تاکہ پائیدار‘ بااعتماد اور جامع سٹرٹیجک فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے مابین 2023ء سے محدود پیمانے پر عسکری تعاون کا ایک خاکہ موجود ہے تاہم کویت موجودہ خطرات کے تناظر میں اسے توسیع دے کر مضبوط سکیورٹی فریم ورک میں ڈھالنے کا خواہشمند ہے۔ تاثر یہ ہے کہ وہ اپنی سرحدی اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے پاکستانی افواج کے عسکری تجربے پر اعتماد کرنا چاہتا ہے‘ تاہم پاکستان کی طرف سے اب تک اس سلسلے میں کسی باضابطہ دفاعی و جنگی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ سفارتی امتحان سے کم نہیں۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی شہری آبادیوں اور معاشی انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کر رہا ہے اور سفارتی ذرائع سے تہران کو مسلسل یہ باور کرا رہا ہے کہ خلیجی تنصیبات پر حملے خطے کی کشیدگی کو ناقابلِ تلافی حد تک بڑھا دیں گے اور اس سے مسلم دنیا ہی کو نقصان پہنچے گا۔ اگرچہ چند ماہ پہلے تک پاکستان کی ثالثی اور سفارتی دباؤ کے نتیجے میں ایران نے یہ باضابطہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سعودی عرب پر براہِ راست حملے نہیں کرے گالیکن امریکی حملوں‘ تہران کی سخت گیر پالیسی اور خطے کی نئی صف بندی کے باعث حوثی باغیوں اور دیگر ایرانی اقدامات سے صورتحال مزید سنسنی خیز اور غیر متوقع ہو چکی ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ مسلم ممالک کا باہمی تصادم محض سامراجی اور دشمن قوتوں کے سٹرٹیجک مفادات کو تقویت دے گا‘ جس سے تمام علاقائی مسلم ممالک معاشی اور سیاسی طور پر کمزور ہوں گے۔
اسلام آباد تمام تر مشکلات اور بحران میں انتہائی محتاط‘ دور اندیش اور غیرجانبدار سفارتی توازن قائم کیے ہوئے ہے اور خود کو کسی ایک بلاک کا حصہ بنانے سے گریزاں ہے۔ کویت کے ساتھ فوری طور پر کسی جامع عسکری یا جنگی معاہدے اور فوج کی براہِ راست تعیناتی کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی بنیادی وجہ بھی پاکستان کی یہی سٹرٹیجک دور اندیشی ہے کہ پاکستان خطے کے کسی تنازع کا فریق بننے یا تہران کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کے بجائے ایک غیر جانبدار‘ بااعتماد اور بااثر ثالث کے طور پر خود کو پیش کر رہا ہے۔ پاکستان کی اس غیر جانبدارانہ‘ امن پسندانہ اور مدبرانہ حکمت عملی کے باعث تمام متحارب فریق اس سخت بحران کے دوران ہمیں ایک قابلِ اعتماد سفارتی مرکز اور حقیقی امن کے داعی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اگر ایران‘ امریکہ اور خلیجی ریاستیں بھی اس اندازِ فکر اور سفارتی بصیرت کو اپنائیں تو مشرقِ وسطیٰ کو تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments