سرحد پار مفرور عناصر کی پناہ گاہیں اور جدید اسلحے کی دستیابی‘ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کی بڑی وجہ ہے۔ تاہم ماضی کے برعکس پاکستان کی سکیورٹی ڈاکٹرائن میں سٹریٹجک تبدیلی آ چکی ہے۔ ماضی میں دہشت گردی کے واقعات پر صرف مذمتی بیانات جاری کیے جاتے تھے یا انتظامی کمیٹیاں تشکیل دے کر معاملے کو وقتی طور پر ٹال دیا جاتا تھا‘ مگر اب ریاست نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ شدت پسند عناصر اور ان کے سہولتکاروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اب فوری جوابی کارروائی کی پالیسی اپنائی گئی ہے‘ جس کا مقصد دہشت گردوں کو ان کی کمین گاہوں سے ڈھونڈ نکالنا اور نشانِ عبرت بنانا ہے۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی فوری جوابی کارروائیاں اس پالیسی کا عملی نمونہ ہیں جہاں دہشت گردوں نے بدامنی پھیلانے کے لیے ضلع زیارت کے قریب واقع سٹریٹجک اہمیت کے حامل منگی ڈیم پولیس تھانے کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ انتہائی منظم تھا‘ جس میں دہشت گردوں نے جدید ترین خودکار ہتھیاروں اور نائٹ ویژن آلات کا استعمال کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں تھانے پر دھاوا بولا۔ حملہ آوروں کا مقصد سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچانا اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا تھا۔ لیکن دہشت گردوں کی یہ منصوبہ بندی اس وقت ریت کی دیوار ثابت ہوئی جب وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے جرأت اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے فوری پوزیشنز سنبھالیں اور شدید جوابی فائرنگ شروع کر دی۔ سکیورٹی فورسز کی اس غیر متوقع اور فوری مزاحمت نے حملہ آوروں کے حوصلے پست کر دیے اور وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہو کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔ فورسز نے نہ صرف اس حملے کو ناکام بنایا بلکہ مفرور دہشت گردوں کے تعاقب کے لیے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
اگر پچھلے چند ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر ہونے والی بڑی کارروائیوں اور ان کے جواب میں کیے جانے والے آپریشنز کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردوں کی بقا کو ناممکن بنا دیا ہے۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران سکیورٹی فورسز پر گھات لگا کر حملے کرنے اور خفیہ نصب شدہ بموں کے ذریعے نشانہ بنانے کی چند بزدلانہ کوششیں کی گئیں‘ لیکن ان تمام واقعات پر سکیورٹی فورسز کے فوری جوابی ایکشن نے دہشت گردوں کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو چند گھنٹوں کے اندر ہی نیست و نابود کر دیا گیا۔ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن شعبان دہشت گردی کے خلاف اسی سخت ریاستی پالیسی کا ثبوت ہے‘ جہاں خفیہ اطلاعات ملتے ہی دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر زمین اور فضا سے کاری ضربیں لگائی گئیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے اضلاع کوہاٹ اور کرک میں جاری گرینڈ آپریشنز نے شدت پسند عناصر کے نیٹ ورکس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ آپریشنز اس وقت ملک دشمن عناصر کے لیے خوف کی علامت بن چکے ہیں اور یہ واضح پیغام ہے کہ اب ریاست کے اندر دہشت گردوں کے لیے کوئی جائے پناہ باقی نہیں بچی۔ منگی ڈیم اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا‘ جس میں سول اور عسکری قیادت نے ملکی سلامتی کے لیے اہم فیصلے کیے۔ اجلاس میں سکیورٹی فورسز کو یہ واضح مینڈیٹ دیا گیا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے۔ ایپکس کمیٹی کے اہم ترین فیصلوں میں انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو جدید بنانا‘ مکران اور قلات ڈویژن سمیت حساس اضلاع میں سکیورٹی گرڈ کو مضبوط کرنا اور سی پیک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی ماہرین کی سکیورٹی کو ناقابلِ تسخیر بنانا شامل ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ دہشت گردوں کے مالیاتی ذرائع کو ہر صورت روکا جائے گا اور سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے دہشت گردوں کے بیانیے کی تشہیر کرنے والے عناصر کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کارروائیوں کی پس پردہ ایک بڑی وجہ پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندے ہیں۔ یہ بات سکیورٹی اداروں کی تحقیقات میں ثابت ہو چکی ہے کہ ملک میں مطلوبہ دستاویزات کے بغیر مقیم افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد شدت پسند عناصر کو لاجسٹک سپورٹ‘ پناہ گاہیں اور ٹرانسپورٹ جیسی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ کوئی بھی خود مختار ملک اپنے اندرونی امن کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ملکی سکیورٹی کو مقدم رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً غیرقانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کے انتظامات کیے۔ پچھلے کچھ دنوں میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے بعد وفاقی حکومت نے ایک بار پھر دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے بغیر ویزا اور قانونی دستاویزات کے مقیم افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کے لیے 10 جولائی 2026ء کی حتمی ڈیڈ لائن دی تھی۔ اس اہم فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ داخلہ نے 28جون 2026ء کو چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز‘ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان‘ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ایک تفصیلی مکتوب جاری کیا تھا۔ اس خط کے ذریعے تمام انتظامی سربراہان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں غیرقانونی تارکین وطن کی میپنگ مکمل کریں اور ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد فوری کریک ڈاؤن کا آغاز کریں۔ 10جولائی کی مقررہ تاریخ تک ہزاروں افغان باشندے رضاکارانہ طور پر سرحد پار اپنے وطن واپس لوٹ گئے جو کہ مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت بڑی تعداد اب بھی ایسی ہے جو گرفتاری اور بے دخلی سے بچنے کے لیے مختلف شہروں‘ مضافاتی بستیوں اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں چھپ چھپا کر رہ رہی ہے۔ یہ چھپے ہوئے افراد سکیورٹی کے لیے بدستور ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ دہشت گرد گروہ انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے آلہ کار بناتے ہیں۔ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد اب ملک بھر میں غیرقانونی مقیم افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ‘ پولیس اور سکیورٹی ادارے مشترکہ طور پر بائیو میٹرک تصدیق اور جیو فینسنگ کی مدد سے ایسے افراد کو ڈھونڈ نکال رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی دباؤ میںآئے بغیر تمام غیرقانونی افغان باشندوں کو ہولڈنگ سنٹرز منتقل کیا جائے گا جہاں سے انہیں عزت و احترام کے ساتھ واپس کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی اضلاع میں نگرانی کے نظام کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں غیرقانونی سرحد عبور کرنے کے راستوں کو مستقل طور پر بلاک کیا جا سکے۔ ریاست نے اب یہ لکیر کھینچ دی ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ چیلنجز کے باوجود سکیورٹی فورسز کی مسلسل کامیابیاں اور سرحدوں پر نافذ کیے جانے والے سخت انتظامی قوانین ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا رہے ہیں‘ جوآنے والے وقت میں پاکستان کو علاقائی تجارت اور امن کا محفوظ مرکز ثابت کریں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments