"RS" (space) message & send to 7575

افغان قیادت کا فکری جمود

افغانستان اس وقت ایسے فکری جمود کا شکار ہے جس کی نظیر معاصر دنیا میں نہیں ملتی۔ افغان سرزمین پر وقت جیسے تھم چکا ہے۔ معاصر دنیا میں معاشی و سٹرٹیجک طاقت کا حصول اقتصادی راہداریوں‘ تجارتی بلاکس‘ سیمی کنڈکٹرز کی صنعت‘ مصنوعی ذہانت اور عالمی سپلائی چینز میں شراکت داری سے وابستہ ہے۔ مابعد جدیدیت کے اس دور میں تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک باہمی انحصار اور اقتصادی سفارتکاری کو اپنی پہلی ترجیح بنا چکے ہیں‘ اس کے برعکس افغانستان کی عبوری انتظامیہ نے خود کو فکری طور پر ماضی میں قید کر رکھا ہے۔ افغانستان کا المیہ محض ایک جغرافیائی خطے کی پسپائی یا وہاں کے عوام کی بدحالی تک محدود نہیں بلکہ یہ قیادت کا فکری جمود ہے‘ جو وقت کی نبض شناسی اور جدید ریاستی تقاضوں کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہے۔ موجودہ افغان قیادت نے اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ تو عالمی نظام کے سفارتی‘ قانونی اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ موافقت پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور نہ ہی اپنے عوام کی سماجی زندگی میں کسی نوعیت کی بہتری لانے کی خواہاں ہے۔ اگست 2021ء میں جب امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے کابل کے اقتدار پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا تو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر یہ امیدیں وابستہ کی گئی تھیں کہ شاید طالبان ماضی کی نسبت زیادہ حقیقت پسند ثابت ہوں گے۔ عالمی برادری اس بات کیلئے تیار تھی کہ اگر کابل انتظامیہ اپنے اندر مثبت تبدیلی لائے تو اسے بین الاقوامی دھارے کا حصہ بنایا جائے۔ بین الاقوامی برادری نے افغان مقتدرہ کی سیاسی قبولیت کو چند بنیادی انسانی شرائط سے مشروط کیا تھا جن میں ایک ایسی ہمہ جہت اور وسیع البنیاد حکومت کا قیام شامل تھا جس میں تمام افغان اکائیوں کو نمائندگی حاصل ہو‘ خواتین اور بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو۔ تاہم گزشتہ پانچ سالوں کا ٹریک ریکارڈ یہ گواہی دیتا ہے کہ افغان قیادت نے ان تمام امیدوں پر پورا اترنے اور عالمی برادری کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنے کے بجائے روایتی ہٹ دھرمی اور فکری کج روی کا مظاہرہ کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس پر شاہد ہیں کہ کابل کے حکمرانوں نے عالمی برادری کے ساتھ بامقصد مکالمے کے تمام دروازے خود اپنے ہاتھوں سے بند کیے۔ سفارتی ناتجربہ کاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک آدھ کے سوا آج تک کسی ملک نے کابل انتظامیہ کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ذمہ دار ریاست کا اخلاقی و قانونی جواز اس بات سے کشید ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ‘ سماجی انصاف اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنے کی کس حد تک صلاحیت رکھتی ہے۔ موجودہ افغان انتظامیہ نے اپنے عوام کے ساتھ اس بنیادی سماجی معاہدے کو یکسر فراموش کر رکھا ہے۔ افغانستان میں داخلی تباہ حالی کا سلسلہ محض چند شعبوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت اور صحت کے شعبوں میں بھی تباہی کے سائے گہرے ہو چکے ہیں۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے‘ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسف کی حالیہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ لگ بھگ دو کروڑ افغان شہری شدید غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہیں‘ جن میں لاکھوں معصوم بچے بھی شامل ہیں جو مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ نہ تو ادویات دستیاب ہیں‘ نہ جدید آلاتِ جراحی اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ‘ کیونکہ ملک کا پڑھا لکھا طبقہ اور معالجین اس فکری گھٹن سے تنگ آ کر بڑے پیمانے پر ہجرت کر چکے ہیں۔
افغانستان مختلف ادوار میں مشکلات کا شکار رہا ہے اور پاکستان نے ہمیشہ مخلص پڑوسی کا حق ادا کرتے ہوئے ہر مشکل گھڑی میں افغان عوام کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی۔ ان پناہ گزینوں کو پاکستان میں کاروبار‘ تعلیم اور نقل و حرکت کی وہ تمام آزادیاں دی گئیں جو کسی دوسرے ملک میں تارکین وطن کو نہیں ملتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان افغان پناہ گزینوں کی اکثریت آج بھی پاکستان کے اندر معاشی طور پر مستحکم ہے اور وہ سکیورٹی و معاشی تحفظ کی خاطر اپنے آبائی ملک واپس جانے پر آمادہ نہیں۔ اگست 2021ء میں جب مغربی ممالک نے افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا اور وہاں شدید معاشی بدحالی کا خطرہ پیدا ہوا تو یہ پاکستان ہی تھا جس نے دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں افغان عوام کا وکیل بن کر مہم چلائی‘ او آئی سی کا خصوصی اجلاس اسلام آباد میں منعقد کرایا اور انسانی امداد کی ترسیل کیلئے اپنے زمینی و فضائی راستے کھول کر کابل میں نظام حکومت کو مکمل طور پر گرنے سے بچایا۔ پاکستان کی اس انسانی ہمدردی پر مبنی پالیسی کا بنیادی مقصد صرف یہ تھا کہ افغانستان میں کوئی نیا انسانی بحران جنم نہ لے جو پورے خطے کے امن کو برباد کر دے۔ لیکن اس بے لوث تعاون‘ سفارتی پشت پناہی اور دہائیوں پر محیط حسنِ سلوک کے بدلے پاکستان کو افغان انتظامیہ کی جانب سے مسلسل سکیورٹی خطرات‘ دراندازی اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زمینی شواہد یہ ہیں کہ پاکستان دشمن عسکریت پسند تنظیمیں بالخصوص فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور بھارتی پراکسی 'جماعت الاحرار‘ افغان سرزمین پر کابل انتظامیہ کی سرپرستی میں وہاں کھلے عام اپنی نرسریاں اور تربیتی مراکز چلا رہی ہیں۔ ان پناہ گاہوں سے دہشت گرد عناصر نہ صرف جدید ترین ہتھیار حاصل کرتے ہیں بلکہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کے سکیورٹی اداروں اور شہری مراکز پر حملوں اور تخریب کاری کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں۔ کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گردانہ حملے نے افغان طالبان کی اس دوغلی پالیسی اور منافقت کو عالمی سطح پر پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ حملے میں ملوث گرفتار دہشت گرد کے ہوشربا اعترافات نے کابل کے جھوٹے دعوئوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ جماعت الاحرار کے دہشت گرد نے یہ انکشاف کیا کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد میں قائم ایک عسکری کیمپ سے تربیت حاصل کر کے پاکستان میں داخل ہوا۔ اس نے اعتراف کیا کہ افغانستان کے اندر ان کے پورے نیٹ ورک کو خودکش جیکٹس تیار کرنے‘ دھماکا خیز مواد نصب کرنے اور جدید ہتھیار چلانے کی مکمل ٹریننگ دی گئی تھی۔ کراچی پہنچنے سے لے کر حملے کے حتمی مرحلے تک کے تمام لاجسٹک اور مالیاتی انتظامات افغان سرزمین سے ہی مینج اور ہینڈل کیے گئے۔ یہ ناقابلِ تردید شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ کابل انتظامیہ کی براہ راست تائید اور دانستہ چشم پوشی کے بغیر سرحد پار سے اس قدر منظم اور ہائی ٹیک دہشت گردی کا نیٹ ورک چلانا کسی بھی طور ممکن نہیں ہے۔
سفارتی کوششوں‘ مذاکرات اور صبر و تحمل کے باوجود جب کابل انتظامیہ نے پاکستان کی سلامتی کو مسلسل دائو پر لگائے رکھا تو پاکستان اپنی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کیلئے جارحانہ دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو گیا۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے بیک وقت دو بڑے محاذوں پر فیصلہ کن اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ پہلے محاذ پر سکیورٹی فورسز نے سرحد پار افغان صوبوں پکتیا‘ پکتیکا اور کنڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الخوارج اور جماعت الاحرار کے سٹرٹیجک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور آپریشن عزمِ استحکام کے تحت یہ واضح کر دیا ہے کہ افغان سرپرستی اور بھارتی فنڈنگ سے چلنے والی عسکریت پسندی کے مکمل خاتمے تک یہ ٹارگٹڈ آپریشنز بلاتعطل جاری رہیں گے۔ دوسرے محاذ پر داخلی امن اور ملکی معیشت کو محفوظ بنانے کیلئے وزارتِ داخلہ نے غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر سطح پر حتمی کریک ڈائون کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اقدامات سے افغانستان کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ افغان قیادت ملک و قوم کے مفاد کو مقدم رکھتی ہے یا اپنی روایتی سخت گیری پر قائم رہتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں