پاکستان میں دہشت گردی کے محرکات مقامی عوامل سے زیادہ خطے کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹکل اور جیو سٹرٹیجک منظرنامے سے منسلک ہیں۔ کابل میں طالبان کے اقتدار کو نصف دہائی گزرنے کے باوجود افغانستان کا اندرونی عدم استحکام‘ دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں اور نئی دہلی کے ہائبرڈ وارفیئر کے عزائم نے پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر سکیورٹی کے نئے محاذ کھول دیے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے تقریباً پانچ سال بعد بھی کابل کی ڈی فیکٹو حکومت داخلی گورننس‘ معاشی بقا اور سکیورٹی کنٹرول قائم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ حالیہ سکیورٹی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق طالبان کے اندرونی صفوں میں نظریاتی اور انتظامی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں جس نے مرکزیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس خلا اور اندرونی عدم استحکام کا عملی مظاہرہ افغانستان کے شمالی صوبہ بدخشان میں دیکھنے کو ملا جہاں طویل عرصے بعد طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یفتل سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر عارضی کنٹرول حاصل کیا۔ حملہ آوروں نے نہ صرف ضلعی انتظامیہ‘ پولیس ہیڈ کوارٹرز اور انٹیلی جنس دفاتر کو مفلوج کیا بلکہ طالبان فورسز کو غیر مسلح کر کے انکا بھاری اسلحہ اور سرکاری گاڑیاں بھی قبضے میں لے لیں۔ یہ قبضہ چند گھنٹوں کا ہی تھا لیکن اس نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ افغان طالبان کا اپنے زیرِ اثر علاقوں پر رِٹ قائم رکھنے کا دعویٰ کمزور ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر ایسے طاقتور مسلح گروہ موجود ہیں جو کابل کے کنٹرول سے آزاد ہیں اور جب چاہیں افغان عبوری حکومت کیلئے بقا کا مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ جب پاکستان بین الاقوامی فورمز پر یہ مؤقف اپناتا ہے کہ افغان سرزمین کو سرحد پار دہشت گردی اور شدت پسندی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے تو طالبان قیادت حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کا انکار کرتی ہے تاہم یفتل سفلی جیسے واقعات اس امر کی دلیل ہیں کہ جب افغان طالبان اپنے سٹریٹجک اضلاع کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں تو پاکستان کے خلاف سرگرم عمل نیٹ ورکس کو روکنے کی صلاحیت کیسے رکھ سکتے ہیں؟
افغانستان تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں‘ منجمد اثاثوں اور بینکنگ چینلز کی بندش نے افغان معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس شدید مالیاتی بحران کا اثر وہاں پناہ گزین دہشت گرد گروہوں پر بھی پڑا ہے۔ معاشی بقا اور فنڈنگ کے حصول کیلئے یہ مسلح گروہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دراندازی کر کے نیٹ ورکس کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ماضی میں ان گروہوں نے پہاڑی سلسلوں اور دشوار گزار راستوں کا فائدہ اٹھا کر رات کے اندھیرے میں چھپ کر حملے کیے اور وقتی کامیابیاں حاصل کیں۔ اسی زعم میں مبتلا ہو کر یہ عناصر اب بھی پختونخوا اور بلوچستان کے متصل اضلاع میں داخل ہونے کی کوششیں کرتے ہیں تاکہ ملک میں عدم استحکام پیدا کر کے اپنے بیرونی سرپرستوں سے مالی فوائد حاصل کر سکیں مگر اب زمینی حقائق یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ایجنسیاں سرحدوں پر چوکس اور جدید ترین سرویلنس سسٹمز سے لیس ہیں جس کی وجہ سے اب دراندازی کی ہر کوشش دہشت گردوں کیلئے موت کا پروانہ ثابت ہو رہی ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اب فوری اور مؤثر جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پختونخوا میں آپریشن عزم استحکام اور بلوچستان میں آپریشن شعبان جیسے گرینڈ سٹرٹیجک آپریشنز نے شدت پسند عناصر کے سلیپر سیلز اور نیٹ ورکس کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ بنوں اور اس کے گردونواح میں کیے گئے مربوط اور بروقت آپریشن کے نتیجے میں24گھنٹوں کے دوران 24خوارج کو ہلاک کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ہلاک ہونیوالے تمام دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا جو بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ''را‘‘ کے تنخواہ دار کارندوں اور پراکسی کے طور پر سرگرم عمل تھے۔ یہ گروہ طویل عرصے سے پاکستان کی حدود میں سکیورٹی فورسز‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔ دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جو اُن کی بیرونی فنڈنگ اور سٹرٹیجک پشت پناہی کی واضح تصدیق کرتا ہے۔
مئی 2025ء میں معرکہ حق کے دوران ایل او سی اور دیگر محاذوں پر عبرتناک شکست سے دوچار ہونے کے بعد نئی دہلی کی مودی حکومت نے اپنی روایتی عسکری حکمتِ عملی کو تبدیل کر کے ففتھ جنریشن وارفیئر اور ہائبرڈ ماڈل کو اپنایا ہے۔ بھارت اب براہِ راست روایتی تصادم سے گریز کرتے ہوئے پاکستان کی داخلی فالٹ لائنز کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کر رہا ہے۔ اس سازش کے تحت خیبر پختونخوا میں افغان سرزمین کو ڈھال بنا کر فتنہ الخوارج کے ذریعے خودکش حملے اور آئی ای ڈی دھماکے کروائے جا رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم بی ایل اے اور دیگر علیحدگی پسند گروہوں کو خطیر فنڈنگ فراہم کر کے سی پیک کے اہم منصوبوں اور چینی سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں سوشل میڈیا پراپیگنڈا‘ جھوٹی خبروں اور ڈیجیٹل ففتھ جنریشن ٹولز کے ذریعے اندرونی انتشار کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد پاکستان کو معاشی اور داخلی محاذوں پر اس طرح الجھانا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے مفادات کا تحفظ نہ کر سکے۔ عالمی برادری طویل عرصے تک بھارت کے من گھڑت بیانیے پر کان دھرتی رہی کہ وہ دہشت گردی کا شکار ہے لیکن اب بین الاقوامی سطح پر یہ سچائی آشکار ہو چکی ہے کہ نئی دہلی خود سرحد پار دہشت گردی اور منظم جرائم کا گڑھ بن چکا ہے۔ بھارتی ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے خطرناک مافیا گروہ اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہے بلکہ کینیڈا‘ امریکہ اور یورپ کی سکیورٹی کیلئے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ اس بین الاقوامی خطرے کی تصدیق امریکی ایف بی آئی کی جانب سے شروع کی گئی اس کارروائی سے ہوتی ہے جسے آپریشن ہارڈ بال کا نام دیا گیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران بیک وقت امریکہ‘ کینیڈا اور سپین میں کارروائیاں کرتے ہوئے 24 انتہائی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 37 کے خلاف سنگین بین الاقوامی جرائم کے تحت باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی۔ اس آپریشن نے عالمی سطح پر ثابت کر دیا کہ بھارت میں بیٹھے گینگسٹرز اور ریاستی عناصر شمالی امریکہ اور یورپ میں ٹارگٹ کلنگ‘ بھتہ خوری‘ منی لانڈرنگ اور منشیات کی سمگلنگ کا ہولناک کارٹیل چلا رہے ہیں‘ جس کی واضح کڑی کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھارتی ایجنسیوں کا ملوث ہونا ہے۔
ایک طرف پاکستان ہے جو اپنی بہترین کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی اور سٹرٹیجک پلانز ڈویژن کے باعث دنیا بھر میں انتہائی ذمہ دار اور محفوظ ترین ایٹمی قوت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے دوسری طرف بھارت کا انتہائی غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ جوہری پروگرام ہے جو عالمی سلامتی کیلئے ایک بھیانک خواب بنتا جا رہا ہے۔ روئٹرز نے حال ہی میں ایک ہیکر گروپ ''ورلڈ لیکس‘‘ کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے جس نے عالمی سلامتی کے اداروں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ہیکرز نے بھارت کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ ''کوڈن کولم‘‘ کے حساس ترین سرورز کو ہیک کر کے تقریباً 29 ہزار ڈیجیٹل فائلیں چوری کیں اور انہیں ڈارک ویب پر شیئر کر دیا۔ اس ہیک شدہ ڈیٹا میں جوہری پلانٹ کے وینٹیلیشن سسٹمز کا خاکہ‘ کنٹرول روم کا تفصیلی نقشہ‘ ری ایکٹر کی سکیورٹی کی خفیہ معلومات اور زیرِ تعمیر یونٹس سے متعلق وینڈرز اور ریلائنس کمپنی کے انجینئرز کے جوائنٹ انسپکشن کے ریکارڈز شامل ہیں۔ کسی جوہری پلانٹ کا ڈیٹا اس طرح سرِعام ڈارک ویب پر آنا نیوکلیئر دہشت گردی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا سائبر سکیورٹی اور نیوکلیئر سیفٹی انفراسٹرکچر کس قدر نااہل اور عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments