"RS" (space) message & send to 7575

مشرقِ وسطیٰ بحران سے پاکستان کیلئے نئے مواقع

جنگیں اور علاقائی تنازعات اپنے دامن میں معاشی تباہی لے کر آتے ہیں تاہم ایسے عالمی بحران بعض ریاستوں کیلئے بین الاقوامی صف بندیوں میں اپنے وقار کو بلند کرنے کے نئے دریچے بھی کھولتے ہیں۔ موجودہ منظرنامے میں جہاں ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے شعلے عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں وہیں پاکستان اپنی منفرد جیو سٹرٹیجک اور جیو اکنامک پوزیشننگ کی بدولت ان چیلنجز کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ یہ علاقائی کشیدگی پاکستان کیلئے تین ایسے معاشی مواقع لائی ہے جو ملکی معیشت کی بحالی‘ برآمدات کے فروغ اور عالمی سطح پر گرین پاسپورٹ کے وقار کو بلند کرنے میں سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ بحران کے دوران پاکستان کیلئے پہلا اور سب سے بڑا معاشی موقع واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ دو طرفہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کی شکل میں سامنے آیا ہے‘ جہاں دونوں ممالک کے مابین ایک نئے اور جامع تجارتی معاہدے کی پیشرفت میں غیر معمولی کامیابی ملی ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے مابین یہ مذاکرات انتہائی خوشگوار‘ تعمیری اور مفاہمانہ ماحول میں ہوئے جن کا بنیادی مقصد دیرینہ تجارتی اختلافات کو ختم کرنا اورامریکہ اور پاکستان میں طویل مدتی اور پائیدار دو طرفہ تجارتی فریم ورک قائم کرنا ہے۔ یہ سفارتی اور تجارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب 1974ء کے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 122کے تحت عائد کردہ 10 فیصد عارضی امپورٹ سرچارج کی قانونی مدت رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے جا رہی ہے۔ امریکہ پاکستان کی برآمدات خصوصاً ٹیکسٹائل‘ سپورٹس گڈز‘ لیدر اور گارمنٹس مینوفیکچرنگ کیلئے سب سے بڑی منڈی ہے لہٰذا پاکستانی حکام امریکی مارکیٹ تک رعایتی اور کم سے کم ٹیرف کے ساتھ مستقل رسائی کے خواہاں ہیں ۔ واشنگٹن میں ہونے والی یہ پیش رفت گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے پہ محیط ان سخت امریکی تجارتی اقدامات اور پیچیدہ قانونی چیلنجوں کے بعد ممکن ہوئی ہے جنہوں نے بار بار پاکستانی مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان کیلئے ٹیرف کے منظرنامے کو تبدیل کر کے معاشی غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر رکھی تھی۔ اس کا آغاز گزشتہ برس اپریل میں ہوا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تجارتی اقدامات کے وسیع پیکیج میں پاکستانی برآمدات پر 29فیصد کا بھاری ٹیرف عائد کرنے کیلئے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کا استعمال کیا تھا۔ اس اقدام نے پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا ‘ تاہم پاکستانی حکام‘ سفارتکاروں اور امریکی حکام کے مذاکرات کے بعد اس مجوزہ ٹیرف کو کم کر کے 19فیصد پر لایا گیا تھا۔ ٹریڈ ایکٹ کا سیکشن 122 امریکی صدر کو خصوصی اختیار دیتا ہے کہ وہ بغیر کسی تحقیقات یا کانگریس کی پیشگی منظوری کے درآمدی اشیا پر زیادہ سے زیادہ 150دنوں کیلئے 15فیصد تک کا عارضی ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔ قانون کے مطابق یہ ٹیرف کسی ایک ملک کو نشانہ نہیں بنا سکتا بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تمام تجارتی شراکت داروں پر عائد ہو گا۔ یہی وجہ تھی کہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کی زد میں چین‘ کینیڈا‘ میکسیکو‘ بھارت اور یورپی یونین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی آیا۔ اب جبکہ یہ عارضی سرچارج اس مہینے ختم ہو رہا ہے‘ پاکستان کے پاس یہ شاندار موقع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ بحران میں اپنی کلیدی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ سے طویل مدتی تجارتی فریم ورک حاصل کرے۔
پاکستان کیلئے دوسرا بڑا اور انقلابی معاشی موقع بحری تجارتی راستوں کی تبدیلی اور جیو اکنامک شفٹ سے منسلک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات‘ جہازوں پر ہونے والے حملوں اور خصوصاً عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بار بار بندش کے باعث بین الاقوامی لاجسٹکس کمپنیوں‘ بڑے برآمد کنندگان اور بحری جہاز رانی کے اداروں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے اور وہ اپنے اربوں ڈالر کے سامان کو محفوظ رکھنے کیلئے متبادل اور پُرامن بندرگاہوں کی تلاش میں ہیں۔ یہ بحران قدرتی طور پر گہرے پانیوں پر مشتمل پاکستان کی کراچی اور گوادر پورٹ کو دنیا کے سامنے ایک محفوظ اور بہترین لاجسٹک متبادل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اگر ہم خطے کی بندرگاہوں کی صلاحیت کا موازنہ کریں تو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہیں‘ جو زیادہ تر مصنوعی ہیں‘ اس وقت شدید جغرافیائی وسیاسی خطرات کی زد میں ہیں۔ یو اے ای کی بندرگاہوں پر یومیہ تقریباً 70 بڑے بحری جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں اور یہ تعداد سالانہ بنیادوں پر 25ہزار بحری جہازوں تک پہنچ جاتی ہے۔ متحدہ عرب امارات ان بندرگاہوں کے ذریعے صرف پورٹ ہینڈلنگ‘ لاجسٹک سروسز‘ ٹرانزٹ اور کسٹمز ٹیکسوں کی مد میں سالانہ 24ارب ڈالر سے زائد کا خطیر ریونیو حاصل کرتا ہے۔ موجودہ جنگی حالات اور خطرات نے ان بندرگاہوں کے انشورنس چارجز میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے‘ جس سے وہاں سے تجارت کرنا انتہائی مہنگا اور غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس اگر بین الاقوامی بحری نقل وحمل اور کارگو ٹریفک کا ایک چوتھائی حصہ بھی پاکستان کی طرف منتقل ہوتا ہے تو پاکستان کی معیشت کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سی پیک کے تحت بنیادی ڈھانچہ اور سڑکوں کا نیٹ ورک پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے‘ جس کی وجہ سے چین سے آنے والی تجارتی ٹریفک اور مشرقِ وسطیٰ کی متبادل بحری ٹریفک کا جب کراچی اور گوادر پر ملاپ ہو گا تو پاکستان انتہائی آسانی کے ساتھ سالانہ 24ارب ڈالر سے زائد کا ریونیو صرف لاجسٹکس اور پورٹ سروسز کی مد میں کما سکتا ہے۔ پاکستانی بندرگاہوں کی اسی غیر معمولی اور گیم چینجر اہمیت کو دیکھتے ہوئے دشمن قوتوں کی جانب سے کراچی اور خصوصاً گوادر کے حالات اور امن وامان کو سبوتاژ کرنے کی مسلسل اور منظم بیرونی کوششیں کی گئیں‘ تاکہ پاکستان کو اس عظیم اقتصادی فائدے سے محروم رکھا جا سکے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران نے عالمی برادری پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کیلئے پاکستانی بندرگاہوں کی سکیورٹی اور پوزیشن ناگزیر ہے۔
مشرقِ وسطیٰ بحران سے پاکستان کو حاصل ہونے والا تیسرا بڑا اور دوررس فائدہ ملک کی سافٹ پاور اور بین الاقوامی امیج میں ہونے والا اضافہ ہے۔ پاکستان کے متوازن‘ غیر جانبدارانہ اور علاقائی امن کیلئے مخلص سفارتی کردار کی بدولت دنیا کے بڑے اور بااثر ممالک اب پاکستان کو محض ایک روایتی ملک نہیں‘ بلکہ ایک ذمہ دار جوہری ریاست اور عالمی امن کے ناگزیر داعی کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔ جب کسی ملک کی خارجہ پالیسی کو عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر اس ملک کے شہریوں‘ اس کی ثقافت اور سب سے بڑھ کر اس کے پاسپورٹ کی ساکھ پر پڑتا ہے۔ اس تبدیلی کا عملی مشاہدہ حال ہی میں ہم نے امریکہ اور انگلینڈ وزٹ کے دوران کیا‘ جہاں امریکی اور برطانوی ایئرپورٹس پر پاکستانی پاسپورٹ دیکھتے ہی ہمیں بہ آسانی کلیئرنس دے دی گئی۔ حالانکہ ماضی میں عالمی ہوائی اڈوں پر پاکستانی شہریوں کو طویل‘ تھکا دینے والی اور بعض اوقات تذلیل آمیز سکیورٹی سکریننگ‘ اضافی جانچ پڑتال اور طویل ترین امیگریشن کائونٹرز پر گھنٹوں انتظار کے بعد کلیئر کیا جاتا تھا۔ لیکن ہم نے بذاتِ خود اس کا مشاہدہ کیا کہ امیگریشن حکام نے گرین پاسپورٹ کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا اور محض دو منٹ میں تمام کلیئرنس مرحلے مکمل ہو گئے۔ پاکستانی شہری ہونے کے ناتے بین الاقوامی سطح پر یہ تبدیلی ہمارے لیے انتہائی خوش آئند اور باعثِ فخر ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...