مشرقِ وسطیٰ جنگ کے بادل چھٹنے کے بعد خطہ ایک نئے جیو پولیٹکل اور جیو اکنامک فریم ورک میں ڈھل رہا ہے۔ دہائیوں پر محیط سٹرٹیجک عدم استحکام کے بعد اب دنیا کا یہ اہم خطہ سرمایہ کاری اور علاقائی تجارتی رابطوں (Regional Connectivity) کی طرف گامزن ہے۔ اس بدلتی صورتحال میں جو سب سے اہم اور مثبت تبدیلی رونما ہوئی ہے‘ وہ پاکستان اور ایران کے مابین ایک نئے تزویراتی اعتماد کا پیدا ہونا ہے۔ بحران جہاں چیلنجز لاتے ہیں وہیں دیرینہ غلط فہمیوں کو دور کرنے اور نئے اتحاد قائم کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ پاک ایران تعلقات میں پیش رفت اسی نظریے کی عملی تصویر ہے۔ پاک ایران تعلقات ہمیشہ سے تاریخ‘ ثقافت اور مشترکہ سرحدوں کے امین رہے ہیں لیکن گزشتہ چند عشروں میں جیو پولیٹکل مجبوریاں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے اتنے قریب نہ لا سکیں جتنا لانا چاہیے تھا۔ افغانستان کی طرح ایران کا جھکاؤ بھی سٹرٹیجک اور اقتصادی طور پر پاکستان کی نسبت بھارت کی جانب زیادہ رہا۔ اس کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے ذہنوں میں قائم یہ تاثر تھا کہ پاکستان کا سٹرٹیجک جھکاؤ امریکہ کی طرف ہے اور وہ خطے میں واشنگٹن کے مفادات کو فوقیت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکے تو ان نازک لمحات میں بھی ایرانی سلامتی کے حلقے پاکستان پر مکمل اعتماد کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔ تہران میں یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ عالمی سفارتی دباؤ کے پیشِ نظر پاکستان ممکنہ طور پر مصلحت پسندی کا مظاہرہ کر سکتا ہے‘ جو ایران کے سکیورٹی مفادات کے منافی ہو سکتا ہے۔ تاہم حالات نے ثابت کیا کہ اسلام آباد نے اس بحران میں تہران کے ساتھ کھڑے ہو کر جیو پولیٹکل وابستگی کا عملی ثبوت دیا۔
جنگ کے دوران جب ایران پر براہِ راست حملے ہو رہے تھے اور مزید مہلک حملوں کے خطرات موجود تھے‘ اور ایران سفارتی و عسکری تنہائی کا شکار تھا‘ اس وقت پاکستان نے متوازن خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے نہ صرف ایران پر ہونے والے حملوں کی عالمی سطح پر کھل کر مذمت کی بلکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کیلئے پس پردہ سفارت کاری کا آغاز کیا۔ ایران کو ایک پائیدار امن معاہدے پر قائل کرنا اور عالمی قوتوں کے ساتھ میز پر لانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے پاکستان کو کن مشکلات سے گزرنا پڑا‘ یہ اب بین الاقوامی برادری کیلئے کوئی راز نہیں رہا۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ میں امن بحال ہو رہا ہے تو تہران کی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ مشکل ترین وقت میں جس ملک نے اسے دلدل سے نکالنے میں سب سے مخلصانہ کردار ادا کیا‘ وہ صرف پاکستان تھا۔ ایران نے حالیہ امن معاہدے کے ذریعے جو سٹرٹیجک اور اقتصادی فوائد حاصل کیے ہیں‘ وہ پاکستان کی غیر مشروط سفارتی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھے۔ نتیجتاً پاک ایران تعلقات اب مستحکم اور طویل المیعاد تجارتی سٹرٹیجی کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اسی بدلے ہوئے سٹرٹیجک تناظر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اعلیٰ سطحی سیاسی و اقتصادی وفد کے ہمراہ حالیہ دورۂ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ محض روایتی سفارتی دورہ نہیں تھا بلکہ اس کے دو بڑے اور ٹھوس مقاصد تھے۔ پہلا مقصد ایرانی قیادت کی طرف سے پاکستان کے اس مخلصانہ کردار کا اعتراف اور شکریہ ادا کرنا تھا جس نے ایران کو جنگ کے خطرات سے نکالا۔ دوسرا مقصد نئے پیدا ہونے والے تجارتی مواقع سے دوطرفہ فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ فریم ورک کی تشکیل تھا۔ ایرانی صدر کے اس دورے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب تہران اپنی اقتصادی ترجیحات کو تبدیل کر رہا ہے اور وہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ تجارت کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنانے کا خواہاں ہے۔
مشرقِ وسطیٰ جنگ کے بعد پیدا ہونے والا جیو اکنامک منظر نامہ پاکستان اور ایران کو روایتی سفارت کاری سے نکال کر ایک ٹھوس اقتصادی بلاک کی طرف لے جا رہا ہے۔ جنگ اور بین الاقوامی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی‘ جس کا ایک اثر یہ ہوا کہ چین اور دیگر عالمی منڈیوں سے ایران جانے والا کارگو پاکستان میں رک گیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت کراچی پورٹ پر تقریباً 13 ہزار سے 18 ہزار کنٹینرز موجود ہیں۔ یہ نجی شعبے کا کارگو ہے جو تہران کیلئے ایک صنعتی اور سماجی لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان پھنسے ہوئے کنٹینرز میں چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کا خام مال‘ آٹوموٹیو پرزہ جات‘ زراعت و آبپاشی کا سامان‘ ٹائر‘ طبی و سرجیکل آلات اور اہم غذائی اجناس شامل ہیں۔ جنگ کے بعد ایرانی معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے اور وہاں مینوفیکچرنگ سیکٹرکو متحرک کرنے کیلئے اس کارگو کی فوری منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس غیرمعمولی لاجسٹک چیلنج سے نمٹنے کیلئے اب روایتی راستے کے بجائے سمارٹ اور کم خرچ راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر اس کارگو کو کراچی سے گوادر اور پھر وہاں سے بحری راستے کے ذریعے ایران بھیجنے کی تجویز زیرِ بحث آئی لیکن لاجسٹک ماہرین نے اسے غیر منطقی قرار دیا۔ گوادر کے ذریعے منتقلی سے ڈبل ہینڈلنگ کے اخراجات اور پورٹ ڈیمرج چارجز میں اضافہ ہو گا‘ جو تاجروں کیلئے معاشی طور پر سود مند نہیں۔ اس کے برعکس سینئر ایرانی عہدیداروں کے مطابق سب سے سستا اور تیز ترین حل کراچی سے چابہار براہِ راست سمندری کوریڈور ہے۔ یہ متبادل نہ صرف وقت کی بچت کرے گا بلکہ ٹرانزٹ لاگت کو بھی کم ترین سطح پر لے آئے گا۔ صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بعد اس کارگو کی فوری بحری روانگی دونوں ممالک کے نئے تزویراتی اعتماد کا پہلا عملی مظاہرہ بننے جا رہی ہے۔ کنٹینرز کا یہ لاجسٹک کرائسز دراصل پاک ایران سرحد پر اکنامک انٹیگریشن کا ایک نیا گیٹ وے کھول رہا ہے۔ اس بحران کو حل کر کے دونوں ممالک طویل المیعاد تجارتی فریم ورک کی طرف بڑھ سکتے ہیں‘ جس میں تین بنیادی شعبے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ پہلا‘ ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور بجلی کی فراہمی کے منصوبے‘ جو اَب جیو پولیٹکل دباؤ سے آزاد ہو کر پاکستان کی صنعتی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ دوسرا‘ ڈالر کے متبادل کے طور پر ایک باقاعدہ کلیئرنگ ہاؤس میکانزم کے تحت بارٹر ٹریڈ کا فروغ‘ جہاں پاکستانی چاول‘ گوشت اور کینو کا ایران کے پٹرولیم فریکشنز اور کیمیکلز سے براہِ راست تبادلہ ہو سکے۔ تیسرا‘ سرحد پر منظم اکنامک زونز اور قانونی بارڈر مارکیٹس کا قیام‘ جو بلوچستان اور سیستان میں غیردستاویزی معیشت کو ختم کر کے مقامی آبادی کو سپلائی چین کا حصہ بنائیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے نئے منظر نامے نے اسلام آباد اور تہران کو اپنی جغرافیائی قربت کو تزویراتی معاشی بلاک میں تبدیل کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ بحران کے دوران پاکستان کی متوازن اور اصولی سفارتکاری نے جو سیاسی و سٹرٹیجک سرمایہ پیدا کیا تھا‘ اب اسے طویل المیعاد معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا وقت ہے۔ کراچی پورٹ پر موجود تجارتی کارگو کی سمارٹ اور محفوظ منتقلی اس جیو اکنامک سفر کا اہم ترین عملی قدم ہو گی‘ جو عالمی سطح پر پاک ایران تعلقات کو عملاً جیو اکنامکس میں منتقل کر دے گی۔ اس مشترکہ فریم ورک پر تیز رفتار اور نتیجہ خیز عملدرآمد پاک ایران سٹرٹیجک گٹھ جوڑ کو مستقبل کے بین العلاقائی تجارتی کوریڈورز کیلئے ایک ناگزیر محور بنا سکتا ہے۔