پنجاب میں نئے خریدے گئے جہاز پر تنازع اب بھی جاری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی یہ معاملہ اسی طرح زیرِ بحث رہے گا۔ کہیں نہ کہیں‘ کوئی نہ کوئی اس پر سوال اٹھائے گا اور حکمران جماعت کا کوئی رہنما یا وزیر اس کا جواب دے گا اور یوں یہ معاملہ زندہ رہے گا۔ اگر سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کر لی جائے تو یہ تاثر پیدا ہو گا کہ گویا جرم تسلیم کر لیا گیا‘ اور اگر وضاحت دی جائے تو بھی چند روز تک معاملہ ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا کی زینت بنا رہے گا‘ اور یہی اپوزیشن اور میڈیا کی منشا ہوتی ہے۔ ایسے معاملات دو دھاری تلوار کی مانند ہوتے ہیں جو کسی بھی سمت سے وار کر سکتی ہے۔ جس لہجے میں مریم اورنگزیب صاحبہ نے پنجاب اسمبلی میں کہا کہ ہاں‘ جہاز خریدا ہے‘ ہو سکتا ہے بہت سے دوست کہیں کہ اس میں چھپانے والی کون سی بات ہے؟ اب تو پورے جہان کو علم ہے‘ اگر انہوں نے صرف تصدیق کر دی ہے تو اس میں ایسا کیا برا ہے؟ تصدیق تک تو بات ٹھیک تھی لیکن اصل بات لہجے کی ہے۔ یقینا وزیراعلیٰ کے کیمپ میں داد دی گئی ہو گی کہ دیکھا! مریم اورنگزیب نے کیسا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ جاؤ‘ جو کرنا ہے کر لو۔ مگر یہ جمہوری جواب نہیں ہے۔ یہ اتھارٹی کے زعم کا اظہار ہے۔ مریم اورنگزیب کبھی بینظیر بھٹو‘ نصرت بھٹو‘ سیدہ عابدہ حسین‘ حنا ربانی کھر اور مریم نواز کی طرح براہِ راست الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ میں نہیں آئیں لہٰذا ان پر عوامی نمائندگی کا وہ بوجھ نہیں ہے جو براہِ راست الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں آنے والی خواتین پارلیمنٹیرینز محسوس کرتی تھیں یا آج بھی کرتی ہیں۔
میں آصفہ بھٹو زرداری کو بھی اس فہرست میں شامل کرتا لیکن پیپلز پارٹی کے دوستوں سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ انہیں پہلا الیکشن ہی بلامقابلہ جتوا کر ان کے ساتھ بھلائی نہیں کی گئی۔ آصفہ بھٹو نے جیت تو ویسے بھی جانا تھا۔ اگر سیاست کے اس خطرناک کھیل میں انہیں انٹری دلوانا مقصود تھی تو بلاول کی طرح باقاعدہ الیکشن لڑنے دیتے۔ انہیں اپنے مقابلے کے امیدوار کا سامنا کرنے دیتے۔ بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو بھی تو مشکل ترین حالات میں برسوں تک یہی کرتی آئی تھیں۔ آصفہ بھی عوام میں جاتیں‘ جمہوریت کے بنیادی اسباق اور اس کی اہمیت وہ والدین کی وراثت سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی تجربات سے سیکھتیں تو سیاسی طور پر زیادہ میچور ہو کر پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرتیں۔ صدر زرداری کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی سے ایوانِ صدر میں بات ہو رہی تھی تو وہ کہنے لگے کہ آصفہ بہت سمجھدار اور میچور ہیں۔ مرتضیٰ سولنگی کی رائے یقینا اہمیت رکھتی ہے لیکن میں نے ان سے بھی یہی کہا کہ آصفہ کو بلامقابلہ منتخب کرا کے ان کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کی گئی۔
پیپلز پارٹی کو چاہیے تھا کہ وہ بھٹو صاحب کے 1977ء والے فیصلے سے سبق سیکھتی‘ جب انہوں نے پہلے خود کو بلامقابلہ منتخب کرایا اور پھر ان کی دیکھا دیکھی چاروں وزرائے اعلیٰ نے بھی یہی کام کیا‘ اور ساتھ ہی بڑے بڑے وزیروں نے بھی خود کو بلامقابلہ منتخب کرا لیا‘ حالانکہ ان سب نے جیت جانا تھا۔ یوں بھٹو صاحب نے اپوزیشن کو خود ہی میدان فراہم کر دیا کہ وہ ان کے خلاف دھاندلی کی تحریک چلائیں۔ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں کہ بھٹو صاحب کے ساتھ اس ایک فیصلے کی وجہ سے کیا ہوا۔ اسی لیے جو لوگ عوام کے براہِ راست ووٹ لے کر آتے ہیں ان کا جمہوری رویہ کچھ مختلف ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے مرحوم دوست ڈاکٹر ظفر الطاف اکثر کہا کرتے تھے کہ بینظیر بھٹو ایک ٹف وزیراعظم تھیں جو کابینہ کے اجلاسوں میں اپنے ساتھ اخبارات کے تراشوں کی پوری فائل لے کر آتی تھیں اور پھر متعلقہ وزیروں اور سیکرٹریوں کی خوب دھلائی ہوتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب زراعت کے وفاقی سیکرٹری تھے‘ اس لیے بینظیر بھٹو ان سے زیادہ بحث کرتی تھیں کیونکہ ڈاکٹر صاحب آگے سے جواب دیتے تھے جبکہ دیگر افسران ''جی میڈم پرائم منسٹر‘‘ کہہ کر خاموش ہو جاتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب بتایا کرتے تھے کہ بینظیر بھٹو کو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے پر بہت غصہ آتا تھا کیونکہ ان کا ووٹر غریب مزدور تھا اور انہیں عوام کی فکر رہتی تھی۔ اسی لیے آپ کے پاس کتنا ہی سرپلس بجٹ یا پیسہ کیوں نہ ہو‘بعض اوقات آپ کو سادگی سے زندگی گزارنا ہوتی ہے تاکہ آپ کے ووٹر یا عوام کو یہ احساس نہ ہو کہ ان کا حکمران ان سے ٹیکس لے کر اپنی ذاتی عیاشیوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف لوگوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہو‘ ان کا جینا دشوار ہو اور دوسری طرف حکمران اپنے لیے ہوائی جہاز خرید رہے ہوں تو عوام میں غصہ پیدا ہونا فطری ہے۔ ایک لیڈر کا طرزِ زندگی عوامی ہونا چاہیے۔ اگر جہاز پر سوال اٹھا تو اس کا جواب وہ نہیں بنتا جو مریم اورنگزیب صاحبہ نے اسمبلی میں دیا کہ ''ہاں خریدا ہے جہاز ‘‘۔ گویا 'کر لو جو کرنا ہے‘۔ اگر آپ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں تو یہ جواب مناسب نہیں تھا۔ اس سے بہتر تھا کہ آپ خاموش رہتے یا یہ بتاتے کہ جہاز کیوں خریدا گیا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ عوام کے پیسوں سے کوئی چیز خرید کر کہا جائے کہ ہاں خریدا ہے‘ جاؤ جو کچھ کرنا ہے کر لو۔
مریم نواز کی پرفارمنس بہت سے معاملات میں اچھی رہی ہے‘ اور ان کے ناقدین بھی بعض اقدامات کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔ جب ناقدین بھی آپ کے اقدامات کی تعریف کر رہے ہوں تو اس وقت آپ کو زیادہ سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر اپنے پاؤں مضبوطی سے زمین پر رکھنے چاہئیں نہ کہ جوشِ جذبات میں ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جو بعد میں سیاسی مسئلہ بن جائیں۔ جہاز خریدنے کا فیصلہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ بیٹھے بٹھائے ایسا فیصلہ کیا گیا جو اپوزیشن کوایک اہم ایشو دے گیا‘ اور یہ حکومت کو مسلسل تنگ کرتا رہے گا۔ عوام بھی اس پر ناراض ہیں‘ اور ان کی ناراضی بجا ہے۔ اب اگر حکومت جہاز خریدنے کا مناسب جواب نہ دے سکے اور تکبر سے بھرپور جواب دے تو اس سے عوام میں مزید غصہ پیدا ہو گا‘ اور یہی اپوزیشن کا مقصد تھا۔
مریم نواز اگرچہ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں‘ اور انہیں شاید اپنے ارد گرد کسی ایسے سیانے فرد کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی جو انہیں مشورہ دے‘ لیکن پھر بھی اعلیٰ عہدے پر بیٹھے فرد کو اپنے اردگرد سیاسی طور سمجھدار چند لوگوں کو ضرور رکھنا چاہیے‘ جو وقتاً فوقتاً سیاسی مشورے دیتے رہیں تاکہ وہ جذبات اور تکبر کا شکار نہ ہوں۔ مریم نواز نے چند اچھے‘ غیرمقبول مگر ضروری فیصلے بھی کیے جن کی سب نے داد دی‘ جیسے لاہور شہر میں تقسیم سے پہلے کے ناموں کی بحالی۔ میرے خیال میں ایسے اچھے فیصلوں کے پیچھے ہمارے دوست سینیٹر پرویز رشید جیسے ماڈریٹ اور پروگریسو لوگوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ پرویز رشید یقینا اپنا اثر و رسوخ ایسے مثبت فیصلوں کیلئے استعمال کرتے ہوں گے کیونکہ مجھے لندن کے دنوں سے ذاتی طور پرمعلوم ہے کہ نواز شریف‘ شہباز شریف اور مریم نواز سب ان کی عزت کرتے اور ان کے مشوروں کو اہمیت دیتے ہیں۔ یقینا جہاز خریدنے والا مشورہ پرویز رشید کا نہیں ہو گا۔ لیکن باقی جو ہجوم اس وقت مریم صاحبہ کے گرد اکٹھا ہے‘ یا انہوں نے خود اکٹھا کر رکھا ہے ان میں شاید کسی میں یہ جرأت نہیں کہ وہ انہیں ان کے مزاج کے برعکس کوئی مشورہ دے سکے۔ کسی حکمران کو اس کے مزاج کے خلاف مشورہ دینے کیلئے بڑے سیاسی قد اور مضبوط ذاتی کردار کی ضرورت ہوتی ہے‘ تبھی حاکم بات سنتا ہے۔
اب نہ مریم نواز صاحبہ اکبر بادشاہ ہیں اور نہ ہی ان کے گرد نورتنوں جیسے ذہین فطین لوگ ہیں۔ لہٰذا پھر یہی جواب سامنے آئے گا جو مریم اورنگزیب صاحبہ نے دیا: ہاں خریدا ہے جہاز... جو کرنا ہے کر لو!