"IYC" (space) message & send to 7575

چاچا کرکٹ اور آلو

پاکستان کے مشہور چاچا کرکٹ رواں برس بلکہ اگلے ہفتے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین ہونے والا تیسرا ون ڈے میچ آخری میچ ہو گا جو 77سالہ عبدالجلیل عرف چاچا کرکٹ اپنے ملک میں سٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھیں گے‘ اس کے بعد وہ کبھی کسی سٹیڈیم میں نظر نہیں آئیں گے۔ ہم سب نے دیکھ رکھا ہے کہ چاچا کرکٹ میچ کے دوران کس طرح شائقین اور پاکستانی کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھاتے تھے۔ وہ اب تک پاکستان کرکٹ ٹیم کے 500میچز سٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھ چکے ہیں۔ 1999ء کے ورلڈ کرکٹ کپ کے دوران انگلینڈ میں پاکستان ٹیم کی بھرپور حمایت کے بعد انہیں عالمی شہرت ملی تھی۔ انہوں نے پاکستان کی کئی تاریخی فتوحات اپنی آنکھوں سے دیکھیں‘ جن میں جاوید میاں داد کا 1986ء میں بھارت کے خلاف میچ میں آخری گیند پر چھکا اور 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی کا فائنل بھی شامل ہیں۔ وہ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کے مستقل حمایتی کے طور پر مشہور ہوئے تھے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی یونیفارم کٹ سے ہم آہنگ سبز اور سفید لباس اور ٹوپی ان کی پہچان بن گئے اور وہ چاچا کرکٹ کہلائے جانے لگے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق چاچا کرکٹ نے پہلی بار 1968-69ء کے سیزن میں لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سٹیڈیم میں دیکھا تھا یعنی انہیں کرکٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 58برس ہو چکے ہیں۔ اس سارے عرصے میں انہوں نے کرکٹ کے میدان میں میچوں کے حوالے سے بہت سے Thick and Thins دیکھے لیکن کبھی دلبرداشتہ نہیں ہوئے‘ لیکن حالیہ برسوں میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی نے انہیں مایوس کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی سے تو پوری قوم مایوس ہے۔ چاچا کرکٹ تو ریٹائرڈ ہو جائیں گے‘ سوال یہ ہے کہ قوم کیا کرے‘ کدھر جائے؟
آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو آلوؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ آلو دنیا کی اہم ترین غذائی فصلوں میں شمار ہوتا ہے اور چاول اور گندم کے بعد انسانی خوراک کے لیے سب سے بڑی فصل ہے۔ آلو دنیا کی اہم غذائی فصلوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی پیداوار تقریباً ہر براعظم میں کی جاتی ہے۔ آلو کاربوہائیڈریٹس‘ وٹامن سی اور معدنیات کا بہترین ذریعہ ہے‘ اسی لیے یہ کروڑوں لوگوں کی خوراک کا اہم حصہ ہے۔ ہم روٹی اور سالن کھاتے ہیں لیکن یورپ کے لوگوں کا دو وقت کا کھانا زیادہ تر اُبلے ہوئے آلوؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس بارے میں تحقیق کرنا پڑے گی کہ مسلسل آلو کھانا متوازن خوراک کہلائے گی یا نہیں۔
یہ ایک ایسی سبزی ہے جو ہر گھر میں پائی جاتی ہے اور ہر قسم کی سبزیوں کا حصہ بن کر لذت میں اضافہ کرتی ہے۔ بینگن‘ مٹر‘ پالک‘ گوبھی‘ شملہ مرچ‘ گوشت‘ انڈا غرض کون سی سبزی ہے اور کون سی کھانے کے طور پر استعمال ہونے والی چیز ہے جس میں آلو استعمال نہ ہوتے ہوں۔ یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہو گا کہ پاکستان میں آلو سب سے زیادہ سموسوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اگر آلو کو سبزیوں کا بے تاج بادشاہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ عالمی سطح پر اگر کسی سبزی کو عوامی مقبولیت کا ایوارڈ مل سکتا ہے تو یقینا آلو پہلے نمبر پر آئے گا۔ گویا آلو سبزیوں کی دنیا کا وہ حصہ ہے جو ہر پارٹی میں بلا دعوت پہنچ جاتا ہے اور سب سے زیادہ پسند بھی کیا جاتا ہے۔ اگر کچھ دوست سیاستدان برا نہ منائیں تو میں آلو کو ہر حکومت کا حصہ بن جانے والی شخصیتوں سے تشبیہ دینا چاہوں گا۔ یہ بھی ہر سالن میں گھس جاتا ہے۔ آلو کی سب سے بڑی خوبی اس کی برداشت ہے۔ اسے بھون لیں‘ ابال لیں‘ تل لیں یا کرش کر لیں یہ کبھی شکایت نہیں کرتا بلکہ اسی روپ میں ڈھل جاتا ہے جس روپ میں کوئی اسے کھانا پسند کرتا ہے۔ فرنچ فرائز کی شکل میں آلو بچوں کی پسندیدہ خوراک ہے۔ چپس کی صورت میں یہ سینما یا گھر میں فلم دیکھنے والوں کا ساتھی ہے کہ فلم بھی دیکھتے جاؤ اور چپس کے مزے بھی لیتے جاؤ۔ آلو کے پراٹھوں کا ناشتہ تو ہم سب نے کر رکھا ہے بلکہ مجھے یاد ہے کالج کے زمانے میں لیٹ نائٹ پڑھتے ہوئے جب اکتا جاتے تو اپنی اپنی موٹر سائیکل نکالتے اور رات کے دو بجے لاہور میں مزنگ چونگی پہنچ جاتے تھے جہاں کے آلو کے پراٹھے بہت مشہور ہیں اور یقین جانیں مزا آ جاتا تھا۔ یہ پراٹھے اب بھی اسی طرح ساری رات دستیاب ہوتے ہیں۔ کبھی لاہور آنا ہو تو آلو کے یہ پراٹھے ضرور کھائیے گا۔
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ آلو موٹا کرتا ہے مگر سبزی پکی ہو تو پلیٹ میں سب سے پہلے آلو ہی تلاش کرتے ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ مجھے میٹھا پسند نہیں ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مٹھائی کی پوری پلیٹ صاف کر دے۔ کسی دن اگر دنیا سے آلو غائب ہو جائے تو تصور کیجیے کیا ہو گا؟ سموسے اداس ہو جائیں گے‘ چپس کی فیکٹریاں بند ہو جائیں گی اور پراٹھے اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے۔ ریستورانوں کے مینو آدھے رہ جائیں گے اور بچوں کی خوشی بھی کم ہو جائے گی۔ آلو گوشت کا سالن آ جائے تو ہم سب سے پہلے آلو کا کچومر نکال کر شوربہ گاڑھا کرتے ہیں۔
دنیا بھر میں آلو کی سالانہ پیداوار کم و بیش 39کروڑ ٹن ہے۔ Food and Agriculture Organization کے 2024ء کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی پیداوار 390.4ملین ٹن رہی۔ سب سے زیادہ آلو پیدا کرنے والے ممالک میں چین تقریباً 94ملین ٹن‘ بھارت تقریباً 54ملین ٹن‘ یوکرین تقریباً 21ملین ٹن‘ امریکہ تقریباً 19ملین ٹن‘ روس 18ملین ٹن آلو ہر سال پیدا کرتا ہے۔ پاکستان بھی دنیا کے بڑے آلو پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور 2024ء میں اس کی پیداوار تقریباً 8.4ملین ٹن رہی۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی‘ بہتر بیج اور مناسب آبپاشی آلو کی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آلو سے چپس‘ فرائز اور دیگر غذائی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس کی معاشی کے ساتھ ساتھ صنعتی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ آلو کی عالمی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اب جبکہ دنیا غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہے تو آلو جیسی فصلوں کی پیداوار تیزی سے بڑھا کر اس خطرے سے نمٹا جا سکتا ہے۔ آج کے آلوؤں کے عالمی دن کا اس سے بڑا پیغام اور کیا ہو سکتا ہے۔
آخر میں مشتاق احمد یوسفی کا آلو کے بارے میں بیان یاد آ رہا ہے: ہم نے چمک کر پوچھا ''اب کیا بات ہے؟‘‘ کہنے لگا ''کچھ نہیں‘ منیجر صاب ہنس رہے تھے‘ بولتے تھے کمرہ نمبر ایک کے ہاتھ بٹیر لگ گئی ہے!‘‘ ہم نے طنزاً اٹیچڈ تنور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ''تمہارے ہوٹل ہذا میں اور کون سا من و سلویٰ اترتا ہے؟‘‘ بولا ''حرام گوشت کے علاوہ دنیا بھر کی ڈش ملتی ہے‘ جو چاہیں آرڈر کریں جناب! آلو مٹر‘ آلو گوبھی‘ آلو میتھی‘ آلو گوشت‘ آلو مچھی‘ آلو بریانی‘ اور خدا تمہارا بھلا کرے آلو کوفتہ‘ آلو بڑیا‘ آلو سموسہ‘ آلو کا رائتہ‘ آلو کا بھرتا‘ آلو کیماں (قیمہ)‘‘ ہم نے روک کر پوچھا ''اور سویٹ ڈش؟‘‘ بولا ''آلو کی کھیر‘‘۔ ہم نے کہا ''بھلے آدمی! تم نے تو آلو کا پہاڑہ سنا دیا۔ تمہارے ہوٹل میں کوئی ایسی ڈش بھی ہے جس میں آلو کا نام نہ آئے۔ فاتحانہ تبسم کے ساتھ فرمایا ''کیوں نہیں! پوٹیٹو کٹلٹ! حاضر کروں جناب؟‘‘
آلوؤں کے عالمی دن کے موقع پر آلوؤں کو اس سے زیادہ کیا خراجِ تحسین پیش کیا جا سکتا ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں