وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا: وزیر اعظم اور کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور قیمتیں ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے جا رہی ہے‘ اور وزیر اعظم نے اس مقصد کے لیے ان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب پٹرول کی قیمتوں میں خاصا استحکام پایا جاتا تھا۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اگر کوئی ردوبدل ہوتا بھی تھا تو صرف سالانہ بجٹ کے موقع پر‘ اس کے بعد پورا سال قیمتیں مستحکم رہتی تھیں۔ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیادوں پر کیا جانے لگا۔ یہ معاملہ چل نکلا تو قیمتیں پندرھواڑ تبدیل کی جانے لگیں۔ عوام یہ بھی سہہ گئے تو کچھ عرصہ بعد قیمتیں ہر ہفتے تبدیل کی جانے لگیں اور اب حالات اس نہج کو پہنچ گئے ہیں کہ قیمتوں پر روزانہ نظر ثانی ہو گی۔ موقع تو اچھا نہیں ہے لیکن تسلیم فاضلی کی ایک مشہور غزل کے دو شعر یاد آ رہے ہیں کہ حکومت کا عوام کے ساتھ معاملہ کچھ ایسا ہی محسوس ہونے لگا ہے:٭رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے؍ پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں ہو گئے٭ پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے؍ آپ سے پھر تم ہوئے پھر تُو کا عنواں ہو گئے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے بھی صورتحال جانِ جاناں اور تُو کے عنواں تک پہنچ چکی محسوس ہوتی ہے کیونکہ سارے تکلف مٹتے جا رہے ہیں اور حکمران عوام کی ہستی کا ساماں بنتے جا رہے ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرنے کے منفی اور مثبت‘ دونوں طرح کے اثرات و نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ کچھ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ یہ نظام عالمی منڈی میں اتار چڑھاو ٔ کے مطابق قیمتوں کو فوری طور پر ایڈجسٹ کرتا ہے‘ جس سے حکومت یا کمپنیوں کو غیر ضروری مالی بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا (یاد رہے کہ یہاں ماہرینِ معاشیات نے حکومت یا کمپنیوں کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانے کی بات کی ہے‘ صارفین کو نہیں۔ یہ تقریباً ویسی ہی اپروچ ہے جیسی سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے چند روز پہلے دکھائی جب انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو لے کر مبینہ طور پر یہ بیان دیا تھا کہ ''اگر آپ فوری طور پر پٹرول کی قیمتیں کم کرتے ہیں تو جن کمپنیوں کے پاس کروڑوں‘ اربوں لٹر پڑا ہے‘ کیا وہ اسے برداشت کر پائیں گی؟ ان کا نقصان کیسے کور ہو گا؟ کمپنیاں دیوالیہ ہو جائیں گی‘ اس لیے ان کا پریشر بھی دیکھنا ہے‘‘۔ یہ ایک ایسا مائنڈ سیٹ ہے جس میں عوام کی کوئی حیثیت نہیں‘ کارپوریٹ کلچر کو ہی تمام تر اختیارات دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسی کی پوجا کی جاتی ہے۔ جب پٹرول وغیرہ کی قیمتیں یکدم اچھی خاصی بڑھا دی گئی تھیں تو عوام کا خیال کس نے رکھا تھا؟)۔ دوسرا فائدہ یہ گنوایا جاتا ہے کہ چونکہ اس سسٹم کے تحت قیمتیں ہر روز بدلتی رہتی ہیں اس لیے منافع خور اور ذخیرہ اندوز مافیا اشیا کو ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا نہیں کر سکیں گے۔ میرے خیال میں یہ ایک خام خیالی ہے۔ جن کے پاس پٹرول کا سٹاک ہو گا قیمت میں ہر اضافے کے ساتھ ان کے وارے نیارے ہوتے رہیں گے۔
منفی پہلو یہ ہیں کہ پٹرول اور روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں روز بڑھنے یا کم ہونے سے غریب اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہو گی۔ روزانہ قیمتیں تبدیل ہونے سے کاروباری افراد کے لیے بھی اپنے اخراجات اور بجٹ کا تخمینہ لگانا مشکل ہو جائے گا۔ قیمتوں کے اس نظام خصوصاً پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی تبدیلی کو عوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یہ براہِ راست عام آدمی کی جیب پر اثر انداز ہو گا اور عوام اسے حکومت کی ناکامی سے جوڑیں گے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظام معاشی لحاظ سے خاصا لچکدار ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں مہنگائی پہلے ہی عروج پر ہے‘ یہ عام آدمی کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کی تجویز کو پٹرول پمپ مالکان اور عوامی حلقوں کی جانب سے مسترد کیا جا رہا ہے۔ آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیلی پرائس میکانزم انہیں ہرگز قابلِ قبول نہیں‘ کیونکہ ہفتہ وار قیمتوں کے نظام سے ہی پٹرول پمپ مالکان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے‘ روزانہ قیمتوں کے تعین سے سٹاک مینجمنٹ اور مالی منصوبہ بندی مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ سنا ہے کہ نئے طریق کار کے مطابق پہلے ہی اضافے کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔
میرے خیال میں پٹرول کے صارفین کا ردِ عمل بھی اس سے مختلف نہیں ہو گا کیونکہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل سے ہی خاصے برہم اور خائف نظر آتے ہیں‘ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتیں کم یا زیادہ ہوں گی تو ان کی الجھنوں میں اضافہ ہو گا اور کون ہو گا جو روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتوں کا دھیان رکھ سکے گا؛ چنانچہ اس پالیسی کی آڑ لے کر عوام کو لوٹنے والے پھر متحرک ہو جائیں گے اور کسی کو پٹرولیم کی اس روز کی قیمت کا صحیح پتا نہیں ہے تو پٹرول پمپ والے کوئی بھی قیمت بتا کر اسے لوٹ سکتے ہیں۔
ویسے بھی حکومت کی ذمہ داری عوام کے لیے سہولتیں پیدا کرنا اور لوگوں کے مسائل حل کرنا ہوتا ہے‘ نہ کہ ان کے لیے خلجان بڑھانا۔ عوام پہلے ہی خاصے پریشان ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے ان کے لیے زندگی کے مسائل کی شدت بڑھا دی ہے۔ عوام روزانہ رات کو اس فکر کے ساتھ سوئیں کہ پتا نہیں آج پٹرول مہنگا ہو گا یا سستا‘ اور صبح اٹھ کر پھر اس فکر میں مبتلا ہو جائیں کہ پٹرول کی قیمت میں جو اضافہ ہوا ہے اسے اپنے روزانہ کے اخراجات میں کیسے ایڈجسٹ کیا جائے؟ روزانہ قیمتوں کے تعین کی پالیسی اختیار کرنے کا مطلب ہو گا ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں جو حکومت پٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل کو چند دن کے لیے بھی برداشت کرنے کو بھی تیار نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پٹرول کی قیمتیں روزانہ بڑھائی گئیں تو نہ مہنگائی کنٹرول میں رہے گی اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے اور گلی محلوں اور مارکیٹوں میں اشیائے صرف کی قیمتوں پر اور سڑکوں پر کرایوں کے تعین پر تو تو میں میں اور لڑائی مار کٹائی روز کا معمول بن جائے گی۔ لوگ پہلے ہی اشیائے صرف کی قیمتوں میں بار بار کے اضافوں پر تپے بیٹھے ہیں‘ توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور نئے نئے ٹیکسوں نے بھی ان کی مالی صحت کو متاثر کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے روزانہ قیمتوں میں اضافے کا اقدام ان کی برداشت ختم کر سکتا ہے۔ اب تو ملک کے اندر سے بھی خاصا تیل اور بڑی مقدار میں گیس حاصل ہو رہی ہے۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کچھ کمی لائی جاتی‘ لیکن الٹا نہ صرف نرخ مسلسل بڑھائے جا رہے ہیں بلکہ اب روزانہ عوام کا امتحان لینا مقصود نظر آتا ہے۔
لیکن میرا یہ بھی خیال ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کو تسلیم کر لینا چاہیے کیونکہ اگر کسی بزرجمہر کے ذہن میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر گھنٹے بعد یا ہر تین گھنٹے بعد یا ہر چھ گھنٹے بعد ردوبدل کا خیال آ گیا تو آپ جانتے ہیں کیا ہو گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments