"IYC" (space) message & send to 7575

العطش العطش

یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر نے امیر‘ غریب سب کے کڑاکے نکال دیے ہیں اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ مدر نیچر کے اپنے قوانین ہیں اور یہ سب کیلئے برابر ہیں۔ جو بھی ان کے ساتھ کھلواڑ کرے گا اسے پھر قدرت کے کھلواڑ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 40ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والے درجہ حرارت نے یورپ والوں کی مت مار دی ہے۔ ان کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں۔ شدید ہیٹ ویو کے باعث یورپ بھر میں اب تک تقریباً 1500سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں جبکہ یورپ کے تمام ملکوں کے سبھی ہسپتال گرمی سے متاثرہ مریضوں سے اٹے پڑے ہیں۔ صرف فرانس میں گرمی سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سپین میں ہیٹ ویو کے باعث 327اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ پولینڈ میں گرمی نے ایک صدی پرانا درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا‘ جبکہ سربیا میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او یعنی عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ 15 کروڑ یورپی شہری شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ شدید گرمی کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں جبکہ البانیہ میں جنگلات میں لگنے والی آگ سے جھاڑیوں اور زیتون کے باغات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
جس درجہ حرارت پر یورپ والے پگھلے جا رہے ہیں اور العطش العطش کی صدائیں بلند کر رہے ہیں وہ ہمارے یعنی برصغیر کے باسیوں کیلئے عام سی بات ہے۔ ہم ہر سال ایسا شدید موسم اور اس کی تیز دھوپ سہتے ہیں اور اُف تک نہیں کرتے بلکہ ہماری روزمرہ کی سرگرمیاں ایسے جاری رہتی ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ یہاں پنجاب میں موسم گرما میں درجہ حرارت 40 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔ پاکستان کا گرم ترین علاقہ صوبہ سندھ کا شہر جیکب آباد ہے۔ وہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ جیکب آباد دنیا کے بھی گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سندھ میں دادو‘ موہنجودڑو‘ نواب شاہ اور بلوچستان میں تربت بھی پاکستان کے گرم ترین علاقوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان سبھی علاقوں کے باسیوں نے کبھی اتنا واویلا نہیں مچایا جتنا اہلِ یورپ اس وقت مچا رہے ہیں۔ ہمارے کسان اسی گرمی میں کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ہمارے مزدور اسی چلچلاتی دھوپ میں سڑکیں کھود رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح کے دوسرے محنت طلب کام کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کبھی ایسی صدائے احتجاج بلند نہیں کی جیسی یورپ سے اٹھ رہی ہے‘ العطش العطش۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی زمانہ موسم جو تیور بدل بدل کر انسان کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے‘ اس کی وجہ روئے ارض پر رونما ہونے اور شدت اختیار کرنے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ماحولیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلیاں آج کے دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہیں‘ جن کے اثرات دنیا کے تقریباً ہر خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس بڑے ممالک میں شامل ہے۔ انہی اثرات میں سے ایک خطرناک اور تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہیٹ ویو یا شدید گرمی کی لہر کا ہے۔ یہ ہیٹ ویوز نہ صرف انسانی صحت بلکہ زراعت‘ معیشت‘ ماحول اور بنیادی ڈھانچے پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ہیٹ ویو کب آنی ہے‘ کہاں آنی ہے‘ کتنی دیر رہنی ہے‘ اس بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا‘ نہ ہی جان سکتا ہے۔
ہیٹ ویو کیا ہے؟ ہیٹ ویو سے مراد ایسی غیر معمولی گرمی کی لہر ہے جس میں ایک ہی علاقے میں مسلسل کئی دنوں یا کئی ہفتوں تک معمول سے کہیں زیادہ درجہ حرارت برقرار رہے۔ یورپ میں جاری ہیٹ ویو کی سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ گیسیں زمین کی حرارت کو فضا میں واپس جانے سے روکتی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگلات کی کٹائی‘ صنعتی ترقی‘ کوئلے‘ تیل اور گیس جیسے ایندھن کا بے تحاشا استعمال اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ان ایندھنوں کے جلنے سے 74فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ 19فیصد میتھین‘ پانچ فیصد نائٹرس آکسائیڈ اور تین فیصد فلورینیٹڈ گیسز پیدا ہوتی ہیں۔ مضرصحت اور مضر ماحولیات گیسوں کے پیدا کرنے میں یورپ کا حصہ نو فیصد بنتا ہے۔ چین مضر گیسوں کا سب سے زیادہ اخراج کرتا ہے جو پوری دنیا میں ہونے والے اخراج کا 21 فیصد بنتا ہے۔ امریکا 14فیصد ایمیشن کرتا ہے جبکہ بھارت پانچ فیصد اخراج کا ذمہ دار ہے۔ ان سارے اخراجوں میں سے بھی انرجی کی پیداوار سے اور صنعتوں سے پیدا ہونے والی گیسوں کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو یورپ میں ہیٹ ویوز مزید شدید اور طویل ہو جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں پانی کی قلت‘ غذائی بحران‘ جنگلات میں آگ‘ بیماریوں اور معاشی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یورپ میں ہیٹ ویو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کی واضح مثال ہے۔ یہ مسئلہ صرف یورپ تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک انتباہ ہے کہ اگر ماحول کے تحفظ کیلئے بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے واقعات مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
یورپ والے اگر مستقبل میں اس سے زیادہ شدت والی ہیٹ ویوز سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے طرزِ زندگی میں کچھ تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔ ٹھیک ہے Luxurious زندگی گزارنے کی خواہش ہر بندہ کرتا ہے لیکن ایسی بھی کیا پُرتعیش زندگی جو آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک کر دے؟ ہیٹ ویو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ مسلسل زیادہ درجہ حرارت کے باعث جسم میں پانی کی کمی‘ ہیٹ سٹروک‘ دل کی بیماریوں اور سانس کی تکالیف کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہیٹ ویو یورپ کی زرعی پیداوار کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔ کیا ہم آنے والی نسلوں کو ایک ایسی دنیا دے کر جائیں گے جو بار بار ہیٹ ویو کا شکار ہوتی ہے‘ جہاں موسمیاتی تبدیلیاں شدید بارشوں‘ قحط اور سیلابوں کا باعث بن رہی ہیں؟
خدارا پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کمی لائی جائے اور توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کیے جائیں۔ اس کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی‘ جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جا سکے۔ درخت لگانے‘ شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانے اور دوسری ماحول دوست پالیسیوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ حکومتوں اور اداروں کو اجتماعی لحاظ سے اور عام شہریوں کو انفرادی طور پر مشترکہ کوششوں کے ذریعے ماحول دوست پالیسیاں اپنانا چاہئیں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ‘ صحت بخش اور متوازن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ہیٹ ویو سے نمٹنے کا واحد موثر راستہ عالمی تعاون‘ سائنسی منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال میں پوشیدہ ہے۔
دنیا میں بہت سے ادارے موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار کو کم کرنے اور پھر حتمی طور پر روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ وہ اپنی کوششوں میں تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب مضر ماحول گیسیں اور مواد خارج کرنے والے ممالک اس اخراج کو کم کریں گے۔ ہیٹ ویو گزر جائے تو اہلِ یورپ کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے تاکہ توانائی کے ایسے متبادل ذرائع ڈھونڈے جا سکیں جن سے آلودگی کم سے کم پھیلتی ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں