کچھ معاملات‘ کچھ ایشوز‘ کچھ باتیں اور کچھ بیانات ایسے ہوتے ہیں جو کسی گوند کی طرح دماغ کے ساتھ چپک بلکہ چمٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے الگ ہونے کا نام نہیں لیتے۔ لاکھ کوشش کریں کہ ان سے کسی طرح جان چھوٹ جائے اور ذہن کو دوسرے معاملات کی طرف لگایا جا سکے لیکن اس میں کامیابی نہیں ملتی۔ معمولاتِ زندگی میں کھو کر اگر ان چپکی ہوئی باتوں سے کچھ وقت کیلئے دھیان بٹ بھی جائے تو جونہی بندہ ان مصروفیات سے نکلتا ہے دماغ کے ساتھ چپکی ہوئی باتیں پھر سے آن وارد ہوتی ہیں اور کچوکے لگانا شروع کر دیتی ہیں۔ کچھ باتوں کے دل و دماغ کے ساتھ چپک اور چمٹ جانے کی واحد وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ باتیں‘ وہ ایشوز‘ وہ معاملات اور وہ بیانات معمول کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ غیر معمولی ہوتے ہیں‘ قدرے مافوق الفطرت۔ یہ زمینی حقائق کو پیشِ نظر رکھ کر بولے گئے جملے نہیں ہوتے بلکہ جو کچھ کہا گیا ہوتا ہے اس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ فقط جھوٹ کو سچ کے پردے میں چھپانے اور دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہوتی ہے۔ دن کی روشنی کو اندھیرا ثابت کرنے اور رات کی تاریکی کو روشن صبح ظاہر کرنے کی ایک ضد‘ جسے کوئی بھی ذی شعور قبول نہیں کر سکتا۔ چند روز پہلے دیا گیا ایک بیان میرے بھی دل و دماغ کے ساتھ چمٹ چکا ہے اور ہر طرح کی کوشش کرنے کے باوجود میں اب تک اس سے اپنی جان نہیں چھڑا سکا۔ میرا ضمیر بار بار مجھے کچوکے لگا رہا ہے کہ تم جانتے ہو کہ جو کچھ کہا گیا ہے اس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تو پھر تم بولتے کیوں نہیں؟ بات کیوں نہیں کرتے؟ احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ حقائق کو اجاگر کیوں نہیں کرتے؟ میں نے بہت کوشش کی کہ اس سوچ سے کسی طرح دامن بچا کر نکل سکوں لیکن کامیاب نہیں ہو سکا‘ اس لیے آج میں نے اس چپکی ہوئی سوچ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور یہ کالم لکھنے بیٹھ گیا۔
وہ بیان جس کا میں ذکر کر رہا ہوں وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب نے دیا ہے۔ فرمایا: جو شخص8401 روپے ماہانہ کماتا ہے وہ غریب نہیں ہے جبکہ صرف وہ شخص غریب ہے جو 8400 روپے ماہانہ کماتا ہے۔ اقتصادی سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہانہ 8483 روپے کمانے والا شہری غربت کی لکیر سے اوپر شمار کیا جاتا ہے‘ جو ماہانہ 30.5 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔ سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث لاکھوں افراد دوبارہ غربت کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں جبکہ عدم مساوات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاید یہ بات مذاق میں کی گئی لیکن پھر پتا چلا کہ معاملہ سنجیدہ ہے۔ کیا لوگوں کو حقائق کا علم نہیں یا پھر جان بوجھ کر ایسی باتیں کی جاتی ہیں تاکہ خود کو ٹھیک اور دوسروں کو غلط ثابت کیا جا سکے؟ حقائق کیا ہیں‘ آئیے میڈیا رپورٹس سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
حالیہ جاری کردہ اقتصادی سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے شہری علاقوں میں غربت 11سے بڑھ کر 17.4اور دیہی علاقوں میں 28.2سے بڑھ کر 36.2فیصد ہو گئی ہے جبکہ ایک سال کے دوران مزید آٹھ لاکھ شہری بیرونِ ملک چلے گئے۔ یہ تو اپنے حکمرانوں کا خیال ہے۔ غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر اقوام متحدہ ڈویلپمنٹ پروگرام اور آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کی غربت انڈیکس رپورٹ کے مطابق دنیا میں غربت کی شرح میں خطرناک اضافہ ہوا ہے‘ دنیا میں ایک ارب دس کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 47 فیصد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں‘ اس کے بعد ایتھوپیا‘ نائیجیریا اور جمہوریہ کانگو کا نمبر آتا ہے۔ عالمی بینک نے حال ہی میں غربت کی پیمائش کے عالمی معیارات کو تبدیل کیا ہے جس کے مطابق پاکستان کی کم و بیش 44.7 فیصد آبادی‘ جو تقریباً 10کروڑ 80 لاکھ افراد بنتی ہے‘ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2025ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بھوک کا درجہ تشویشناک (سیریس) قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان اس انڈیکس میں 123 ممالک میں سے 106ویں نمبر پر ہے۔ ڈبلیو ایف پی اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس میں پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کے سنگین خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے‘ جہاں ایک بڑی آبادی اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں غذائی قلت کی شرح انتہائی تشویشناک حد تک زیادہ ہے‘ جو طویل مدتی غذائی کمی کا نتیجہ ہے۔ ورلڈ بینک کی سوچ سب سے مختلف ہے۔ اس کے مطابق پاکستان میں جو شخص مہینے میں 35 ہزار سے کم کمائی کرتا ہے وہ غریب ہے جبکہ پاکستان کے اربابِ اختیار کہتے ہیں جو شخص مہینے بھر میں 8500 روپے کماتا ہے وہ امیر ہے جبکہ 8480 روپے ماہوار سے کم کمانے والا غریب ہے۔
غربت کی پیمائش کا معیار کم از کم ضروری اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت کو قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ معیار غربت کو ناپنے کے لیے کافی اور مناسب ہے؟ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میں آٹھ‘ نو ہزار روپے ماہانہ کمانے والا غریب نہیں ہے ان سے یہ عرض کی جانی چاہیے کہ وہ نو ہزار روپے میں تین یا چار افراد پر مشتمل گھرانے کا بجٹ بنا کر دکھا دیں۔ آٹھ نو ہزار روپے میں تو مہینے بھر کی کھانے پینے کی چیزیں ہی پوری نہیں ہوں گی۔ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان میں سادہ روٹی 20 روپے اور نان 30 روپے کا مل رہا ہے۔ ایک مزدور اگر 1200 روپے کی دیہاڑی لگاتا ہے تو وہ دوپہر کو دو نان بھی کھائے تو اسے ایک سالن کی پلیٹ کے ساتھ وہ کھانا ڈھائی سو روپے میں پڑے گا۔ باقی 900 روپے میں وہ اپنے گھر کے باقی تین افراد کے کھانے کا بندوبست کرے گا تو پہنے گا کہاں سے اور دوسری ضروریات کہاں سے پوری کرے گا۔ نو ہزار روپے ماہانہ کا مطلب ہے روزانہ 300 روپے۔ آٹا 130 روپے کلو مل رہا ہے۔ تین یا چار افراد دو وقت دو دو روٹیاں بھی کھائیں تو آٹھ روٹیاں بنتی ہیں۔ اس کے لیے کم از کم ایک کلو آٹا درکار ہو گا۔ اب یہاں پہ سستی سے سستی سبزی بھی پچاس ساٹھ روپے کلو مل رہی ہے تو ایک کلو سبزی اگر 50 روپے کی ملے تو اس کے دوسرے لوازمات پورے کرنے کے لیے کم از کم 100 روپے مزید درکار ہیں۔ یہ ڈیڑھ سو روپے ہو گئے یعنی ٹوٹل 280 روپے‘ باقی 20 روپے بچ جائیں گے تو اس سے وہ کیا خریدے گا اور کیا پہنے گا اور کیسے دوسری ضروریات پوری کرے گا؟ بیانات دینے والوں نے شاید اس بارے میں نہیں سوچا اور ان کے خیال میں بندہ بس دو وقت کی روٹی کھا لے اور زندہ رہے تو یہی اس کے لیے امیر ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ اس طرح جو بندہ 15 ہزار روپے مہینے کا کما رہا ہے یا 20 یا 30 ہزار روپے کما رہا ہے وہ تو دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہو جائے گا۔ میرے خیال میں یہی سوچ ہے جو حکمرانوں کو بار بار غریب عوام کے استعمال کی چیزوں اور توانائی کے ذرائع پر ٹیکس اور لیویز بڑھانے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت عوام بہت زیادہ تکلیف میں ہیں۔ آج کے زمانے میں نو ہزار روپے تو کیا نوے ہزار روپے میں بھی گزارہ کرنا مشکل ہے۔ عوام کو طفل تسلیاں نہ دیں‘ انہیں جینے کا حق دیں۔