"IYC" (space) message & send to 7575

ایران امریکہ معاہدہ اور فساد کی اصل جڑ

بالآخر وہ معاہدہ ہونے جا رہا ہے جس کے بارے میں پچھلے کئی دنوں سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اس حوالے سے اگلے 24 گھنٹے اہم ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اگلے روز سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں یہ خوش کن خبر سنائی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج دنیا نے امن کا تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے‘ جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا‘ امریکہ اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کر دیا ہے اور اس بات کی تصدیق ایرانی حکومت کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے۔ اس تصدیق کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکرز سمندر میں روانہ ہو چکے ہیں۔ معاہدے پر دستخطوں کی تقریب ہو گی تو سوئٹزرلینڈ میں لیکن عنوان اس کو اسلام آباد معاہدے کا دیا جائے گا کیونکہ یہ معاہدہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ہو رہا ہے۔
دعا یہ ہے کہ یہ معاہدہ کامیاب ٹھہرے اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ پر کئی ماہ سے چھائے جنگ کے بادل چھٹ جائیں اور پورے خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے‘ لیکن ماضی کے کچھ معاہدوں پر نظر ڈالی جائے تو کئی خدشات سامنے آ جاتے ہیں۔ پھر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے مابین ہو رہا ہے اور اسرائیل جو ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے‘ ایک طرف کھڑا ہے‘ بلکہ اس نے اس معاہدے ہی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے ایران امریکہ معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا‘ ہم اس معاہدے میں پارٹی نہیں ہیں۔ بن گویر نے یہ بھی کہا کہ یہ معاہدہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا‘ ہم حزب اللہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی بھی چیز پر مطمئن نہیں ہو سکتے۔ لبنان میں مکمل جنگ بندی ایران کا بنیادی مطالبہ ہے جب یہی نہیں پورا ہو گا تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو معاہدہ ہونے جا رہا ہے اس کا کیا مستقبل کیا ہو گا‘یا یہ کہ اس پر کتنا عملدرآمد ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں اصل اور حقیقی Bone of contention اسرائیل ہے تو فساد کی اس جڑ کو‘ جڑ سے ختم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم ہونا کسی طور ممکن نظر نہیں آتا۔ وجہ یہ ہے کہ کسی تنازع کا حل تبھی ممکن ہوتا ہے جب بات چیت کی جائے اور کسی نتیجے پر پہنچ کر معاہدہ ہو جائے اور پھر اس معاہدے پر عمل درآمد بھی ہو۔ لیکن جب تنازع کا کوئی فریق 'میں نہ مانوں‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہو تو کیا کِیا جا سکتا ہے۔ ہوتا یہ رہا ہے کہ معاہدے تو بہت ہوئے لیکن ان پر عملدرآمد کرانے والا کوئی نہیں تھا جس کی وجہ سے معاہدے ہو جانے کے بعد بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا سلسلہ جاری رہا‘ جو اَب تک جاری ہے اور ظاہر ہے کہ تنازعات بھی پہلے ہی کی طرح برقرار ہیں۔
چونکہ ایران اسرائیل مخاصمت کے پیچھے بھی اسرائیل فلسطین تنازع کارفرما ہے اس لیے مثال کے طور پر اسی اسرائیل فلسطین تنازع کو طے کرنے کے لیے ہونے والے معاہدوں کا مختصر ذکر کرتا ہوں۔ 1993ء میں اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے درمیان پہلا براہِ راست معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقوں (غزہ اور مغربی کنارے کے کچھ حصوں) میں محدود خود مختاری دی گئی اور فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس معاہدے کو اوسلو معاہدے کا نام دیا گیا کیونکہ یہ ناروے کے شہر اوسلو میں طے پایا تھا۔ 1995ء میں ایک اور عبوری معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت کچھ اور انتظامی معاملات طے پائے اور یہ بھی قرار دیا گیا کہ ایک حتمی اوسلو معاہدے کے لیے مزید کام کیا جائے گا۔ اسے اوسلو معاہدہ ٹو کا نام دیا گیا تھا۔ آج اوسلو معاہدہ ون‘ ٹو‘ تھری کہاں ہیں؟
23 اکتوبر 1998ء کو اسرائیل اور فلسطین کے مابین ایک اور امن معاہدہ ہوا تھا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی ثالثی میں یہ معاہدہ امریکہ کی ریاست میری لینڈ کے مقام وائے ریور (Wye River) پر ہوا تھا اس لیے اسے وائے ریور معاہدے کا نام دیا گیا۔ اس پر فلسطین کی جانب سے یاسر عرفات اور اسرائیل کی جانب سے وزیراعظم (موجودہ بھی) بینجمن نیتن یاہو نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد 1995ء کے اوسلو معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔ معاہدے کی اہم شرائط میں علاقوں کی منتقلی بھی شامل تھی۔ اسرائیل نے مغربی کنارے (West Bank) کے تقریباً 13فیصد علاقے سے مرحلہ وار انخلا پر اتفاق کیا تاکہ فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول بڑھایا جا سکے۔ اس کے بدلے میں فلسطینی اتھارٹی نے دہشت گردی کی روک تھام‘ غیر قانونی ہتھیاروں کی تلفی اور اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی ختم کرنے کی ذمہ داری لی تھی۔ یہ وائے ریور معاہدہ اب کہاں ہے؟
اس کے بعد 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ سربراہی اجلاس ہوا تھا۔ یہ حتمی تصفیے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت تھی‘ لیکن یروشلم کی حیثیت‘ پناہ گزینوں اور سرحدوں کے تنازعات کی بنا پر یہ عمل ناکام ہو گیا تھا۔ اسی طرح 2003ء میں امریکہ‘ یورپی یونین‘ روس اور اقوام متحدہ (Quartet) کی جانب سے روڈ میپ برائے امن پیش کیا گیا جس کا ہدف ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام تھا لیکن کچھ وجوہ کی بنا پر یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔ 2005ء میں شرم الشیخ مفاہمت کے نام سے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی نے تشدد کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے اقدامات پر اتفاق کیا تھا‘ لیکن اس پر بھی پوری طرح عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اور غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تو ابھی چند ماہ پہلے ہی ہوئے ہیں۔ ان پر کتنا عمل درآمد کرایا جا سکا؟ اس کے علاوہ بھی اسرائیل اور فلسطین کے مابین مختلف ادوار میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے بالواسطہ معاہدے ہوتے رہے ہیں‘ جن میں مصر اور قطر بطور ثالث کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں ہونے والے ان سبھی معاہدوں کا مقصد طویل مدتی امن کا حصول رہا ہے‘ لیکن یروشلم کی حیثیت‘ مہاجرین کی واپسی اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے بنیادی تنازعات پر اختلافات کے باعث ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
امسال فروری سے اب تک جاری جنگ میں ایران اور امریکہ نے ایک دوسرے کا خاصا نقصان کیا‘ اس لیے ان کے معاہدے پر تیار ہونے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اسرائیل کی ہٹ دھرمیوں کو کون کنٹرول کرے گا؟ معاہدہ ہو جانا چاہیے کہ امن کا یہی تقاضا ہے لیکن مشرقِ وسطیٰ کو نیتن یاہو کی شر انگیزیوں کا سامنا کرنے کے لیے پھر بھی تیار رہنا ہو گا کیونکہ پوری دنیا میں صرف اسرائیل اور بھارت ہی دو ایسے ممالک ہیں جنہیں مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی کوششیں ایک آنکھ نہیں بھا رہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں