تبدیل ہوتا عالمی منظر نامہ

اب سے چار ہفتے پہلے بھلا کس نے سوچا تھا کہ دبئی جسے دنیا کا معاشی‘ سیاحتی اور تجارتی مرکز مانا جاتا تھا اور جہاں روزانہ ہزاروں فلائٹس کے ذریعے لاکھوں افراد سفر کرتے تھے وہاں سے بھاگ نکلنے والے قطاروں میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ 1974ء میں قائم کیا گیا پیٹرو ڈالر کا نظام اور اس کے بدلے میں سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی حفاظت کیلئے بنایا گیا امریکی دفاعی نظام ریت کی دیوار ثابت ہوگا۔ کس نے تصور کیا ہوگا کہ اسرائیل کا کثیر جہتی دفاعی حصار محض بلند بانگ دعوے تک ہی محدود رہ جائے گا اور اسرائیل کے طول و عرض میں کامیابی سے میزائل داغ کر وہاں تباہی مچادی جائے گی۔ تاریخی اعتبار سے سمندروں پر راج کرنے والا امریکی بحری بیڑا ابراہم لنکن زخم خوردہ ہوکر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گا‘ یہ کس نے سوچا تھا۔
گزشتہ پانچ دہائیوں سے سعودی عرب‘ کویت اور متحدہ عرب امارات نے مل کر اپنے تیل کی کمائی سے ایک ہزار ارب ڈالرز سے زائد رقم سے امریکہ میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ گزشتہ سال امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے غیر ملکی سرکاری دورے کیلئے سعودی عرب‘ قطر اور متحدہ امارات کا انتخاب کیا اور اس دوران امریکی معیشت میں مزید 3.6 ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کے وعدے کئے گئے‘ جس میں سعودی عرب نے ایک ہزار ارب ڈالر‘ قطر بارہ سو ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات نے چودہ سو ارب ڈالر کی خطیر رقوم پر مبنی اعلانات کیے۔ اس کے علاوہ قطر نے چالیس کروڑ ڈالر مالیت کا ایک قیمتی جہاز صدر ٹرمپ کو تحفے کے طور پر پیش کیا۔ ان ممالک نے یہ تمام کوششیں امریکہ کی خوشنودی اور قربت حاصل کرنے کیلئے کیں کیونکہ یہ سب ممالک اس خطے میں موجود امریکی دفاعی اڈوں کو اپنی حفاظت کی ضمانت سمجھتے تھے۔
دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے اپنے اوپر مسلط کی گئی جنگ میں گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ایران نے جس فقید المثال مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور جس طاقت اور بہادری سے مقابلہ کیا ہے اس نے امریکہ اور اسرائیل سمیت ساری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ایران کے طاقتور میزائل پروگرام نے اسرائیل کے تمام بڑے شہروں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے اور سینکڑوں بلند و بالا عمارتوں کو زمین بوس کر دیا ہے۔ ایران پر اچانک چڑھ دوڑنے اور تمام تر جارحیت کے باوجود امریکہ اور اسرائیل اپنے مشترکہ اہداف حاصل کرنے میں بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ اب تک سپر پاور سمیت تمام سیاسی تجزیہ کاروں کے سب اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔28 فروری کو حملے کے وقت یہ سوچا گیا تھا کہ ایرانی قیادت کے خاتمے کے بعد ملک میں افراتفری پیدا ہو جائے گی‘ عوام اُٹھ کھڑے ہوں گے‘ حکومت کے خلاف بہت بڑے مظاہرے ہوں گے‘ کرد حملہ آور ہوں گے اور اس دوران ایرانی حکومت تبدیل کر دی جائے گی۔ یہ بھی سوچا گیا تھا کہ ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں خلیجی ریاستیں ایران کے خلاف کارروائی کریں گی اور جنگ میں براہ راست شامل ہو جائیں گی۔ مگر یہ سب اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تو اسے کھلوانے کیلئے مشترکہ فوجی آپریشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امریکہ نے برطانیہ‘ چین‘ جاپان اور یورپی یونین کو مدد کیلئے پکارا مگر کسی ملک نے مطلوبہ مثبت جواب نہیں دیا۔ ایک طرف ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے توانائی کا عالمی بحران پیدا کر دیا ہے تو دوسری طرف قطر کے ایل پی جی ذخائر پر کامیاب حملے کے دوران اس کا 17 فیصد حصہ متاثر کرکے دنیا بھر کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کرنے کی دھمکی کو حقیقت میں بدل ڈالا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ بحرین اور سعودی عرب میں مسلسل ڈرون اور میزائل داغ کر وہاں امریکی فورسز کے اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں غیر ملکی افراد وہاں سے زندہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ دبئی میں واقع دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے دفاتر بند ہو چکے ہیں اور اس کی چکا چوند روشنیاں ماند پڑ چکی ہیں۔ مگر اس کے باوجود ابھی تک کسی خلیجی ریاست نے ایران پر جوابی حملہ نہیں کیا بلکہ آخری اطلاعات کے مطابق قطر نے اس جنگ میں براہ راست شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔
یوں 1974ء میں امریکہ نے جس پیٹرو ڈالر نظام کی بنیاد رکھی تھی‘ وہ آج ہرمز کے پانیوں میں غوطے کھا رہا ہے۔ جن سمندری راستوں پر امریکہ کی حکمرانی تھی وہاں سے گزرنے والا ہر جہاز اب ایک ڈالر فی بیرل کے حساب سے ڈالر کے بجائے کرپٹو یا چینی کرنسی یوآن میں ایران کو ٹول دے کر گزرتا ہے۔ ایک بحری جہاز اوسطاً بیس لاکھ بیرل تیل کے ساتھ گزرے تو اس حساب سے دو ملین ڈالر کے مساوی ٹول کی ادائیگی لازم ہے۔ یہ اقدام یقینی طور پر امریکی ڈالر کی برتری اور مالیاتی بالادستی کے خاتمے کااشارہ دے رہا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز بند نہیں کی بلکہ اس پر مکمل کنٹرول قائم کرکے اس پر اپنی ملکیت کی مہر ثبت کردی ہے۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ جب دنیا بھر کے تجارتی جہاز امریکی ڈالر کے بجائے چینی یوآن یا کرپٹو کرنسی میں اربوں مالیت کی ادائیگیاں کریں گے تو اس سے ایک طرف عالمی منڈی میں پیٹرو ڈالر کی لگ بھگ پانچ دہائیوں سے قائم اجارہ داری کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ دوسری طرف اس مؤثر حکمت عملی کے تحت ایران کا اپنا کم و بیش 15 لاکھ بیرل تیل بحفاظت نکل کر روزانہ چین جا رہا ہے۔ اس منفرد ٹول پلازے پر جاری ناکہ بندی صرف ایران پر حملہ آور ممالک اور ان کے اتحادیوں کیلئے ہے جس سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اب پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ یہ صورتحال دنیا نے تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ دنیا کے 20 فیصد تیل کی سپلائی پر اب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو مکمل کنٹرول حاصل ہے اور امریکی بحری بیڑے یا بین الاقوامی قانون کی عملداری یکسر ختم ہو چکی ہے۔ جنگ سے پہلے یہاں سے روزانہ50 سے 60 تیل بردار جہاز گزرتے تھے‘ اب پاسدارانِ انقلاب کی منظوری کے بعد محض دو چار ہی گزر پاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت ہرمز کے باہر 400 بڑے بحری جہاز‘ 150 آئل ٹینکرز اور 120 بلک کیریئرز لائن میں لگے لارک اورقشم جزائر کے درمیان ایران کے ساحلی پانیوں سے گزرنے کے لیے آئی آر جی سی نیوی کی اجازت کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی اور آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران جنم لے گا‘ ان عوامل کو ایران پر یکطرفہ حملہ کرتے وقت خاطر میں نہیں لایا گیا تھا۔ اسے شاید وینزویلا کی طرز کا مختصر اور نتیجہ خیز فوجی آپریشن سمجھا گیا تھا جو غلط ثابت ہوا ہے۔ امریکہ میں پہلے روز سے اس جنگ کی مخالفت واضح تھی اور لگ بھگ 80 فیصد امریکیوں نے اسے مسترد کردیا تھا۔ عالمی برادری کی واضح اکثریت نے اسے اسرائیل کی جنگ سمجھتے ہوئے اس سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔ خود نیٹو کے ممالک نے اس میں براہ راست شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ حیرت انگیز طور پر سفارتی محاذ پر امریکہ اس جنگ میں تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں عدم تحفظ کا احساس زور پکڑ رہا ہے اور پیٹرو ڈالر کے تحت امریکی دفاعی نظام کا بھانڈاپھوٹ چکا ہے۔ یوں سارا عالمی سیاسی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ پانچ روزہ جنگ بندی ختم ہونے کو ہے۔ پس پردہ جاری مذاکرات کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ اگلے چند دن اہم ہیں جن میں یا تو اس جنگ بندی میں مزید توسیع کرکے نتیجہ خیز مذاکرات کی طرف پیشرفت ہو گی یا امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مزید سخت جارحیت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ مگر یہ طے ہے کہ عالمی منظر نامہ ضرور بدل جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں