جاپانی حکومت کی طرف سے بسا اوقات پاکستان کے وفاقی اور صوبائی افسران کو مطالعاتی دورے پر ٹوکیو آنے کی دعوت دی جاتی ہے جس کا مقصد وہاں کے انتظامی ڈھانچے اور گورننس کے نظام کو سمجھنا اور واپس آ کر ان کی قابلِ تقلید مثالوں کو وطن عزیز میں رائج کرنا ہوتا ہے۔ جاپان سے لوٹنے والے کئی افسران سے گفتگو رہی اور انہوں نے جاپانی قوم کے نظم و ضبط‘ وقت کی پابندی‘ صاف گوئی اور عجز و انکسار سے متعلق بہت سے چشم دید واقعات سنائے۔ وہ چشم کشا حقائق پر مبنی تمام باتیں سن کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے کسی دیو مالائی دنیا کے قصے کہانیاں سنا رہے ہوں۔ مثلاً جاپان کے سرکاری دفاتر میں سائل کا آنا جانا ناپید ہے اور اسے بہت معیوب عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کے تمام امور اور معاملات ایک خودکار نظام کے ذریعے نمٹا دیے جاتے ہیں اور سائلین کو تمام تر سہولتیں اور خدمات ان کے گھر کی دہلیز پر ہی فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر کسی سرکاری ادارے کے بڑے ہال میں کوئی سائل داخل ہو جائے تو سروس کاؤنٹرز پر موجود سرکاری ملازمین کی جان پر بن آتی ہے اور ان سب کی نگاہیں اس سائل پر مرکوز ہو جاتی ہیں اور یہ سوچ کر ہر ایک کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے کہ کہیں وہ سائل اس کے کاؤنٹر کی طرف نہ آجائے۔ جس کاؤنٹر پر سائل جا کر رک جائے تو تمام رفقا کار اس اہلکار کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں کہ اس کی غفلت اور نااہلی کے باعث ایک سائل کو خود چل کر دفتر آنا پڑا۔ جاپان کے انتظامی نظام اور معاشرتی اقدار میں اس نالائقی کی گنجائش نہیں اور ایسے افراد کا سخت محاسبہ کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف عین ممکن ہے کہ وہ متعلقہ افسر یا اہلکار احساسِ ندامت اور خود احتسابی کے دباؤ اور ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو کر دفتر سے گھر پہنچ کر خودکشی سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان میں خودکشی کی شرح کافی زیادہ ہے جس کی ایک بنیادی وجہ ذہنی دباؤ ہے کیونکہ وہاں صحیح غلط اور سچ جھوٹ کی حدِ فاصل واضح ہے اور لوگوں کے اخلاقی معیارات بہت بلند ہیں‘ جن میں ذرا سی اونچ نیچ برداشت کرنا بھی ان کیلئے ناممکن بن جاتا ہے اور وہ خود اپنی جان کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔
جاپان میں جرائم کی شرح خطے کے دوسرے ممالک کی نسبت بہت کم ہے اور اس کا شمار محفوظ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک معاشی اور سماجی مساوات ہے‘ سب کا معیارِ زندگی تقریباً ایک جیسا ہے۔ قانون کی عملداری سب کیلئے یکساں ہے اور جرم کی صورت میں 99 فیصد تک سزا پانے کے امکانات واضح ہیں۔ تیسری بڑی وجہ اجتماعی سوچ ہے جس کے نتیجے میں جاپان کو جرم سے محفوظ رکھنا مشترکہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے اور یہ ان کی معاشرتی زندگی کا کلیدی جزو ہے۔ اجتماعی سوچ ان کے شہروں کی صفائی ستھرائی میں بھی جھلکتی ہے۔ ٹوکیو جیسے گنجان آباد شہر میں کوئی کوڑے دان نہیں رکھا گیا کیونکہ شہر کی صفائی ہر فرد کی انفرادی ذمہ داری میں شامل ہے۔ وہاں کوئی شخص سڑک پر کچرا نہیں پھینکتا کیونکہ یہ اجتماعی احساسِ ذمہ داری ان کی انفرادی تربیت میں شامل ہے۔ اسی طرح جاپان میں وقت کی پابندی سے متعلق مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے کا اصول رائج ہے۔ اگر آپ میٹنگ یا تقریب میں مقررہ وقت پر پہنچیں تب بھی آپ لیٹ تصور کیے جاتے ہیں۔ وہاں عملی طور پر لوگ ٹرین کے اوقات کے ساتھ اپنی گھڑیوں کی سوئیاں ملاتے ہیں۔ اگر کبھی کبھار کسی تکنیکی رکاوٹ یا معقول وجہ کے باعث ٹرین ایک آدھ منٹ تاخیر کا شکار ہو جائے تو ڈرائیو سر جھکائے بڑی عاجزی سے باقاعدہ معذرت طلب کرتا ہے۔ ریلوے حکام لوگوں کے سامنے اس تاخیر کی تفصیل بیان کرتے ہیں اور اعلانیہ معذرت کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ذاتی سطح پر جاپان کے لوگوں میں صاف گوئی اس قدر زیادہ ہے کہ جھوٹ بولنے کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ عجزو انکساری ایسی کہ بڑے سے بڑے عہدے پر فائز شخص اپنے کام کاج خود کرتاہے اور وہاں نوکر چاکر رکھنے کا رواج نہیں۔
یہاں پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جاپان میں یہ اجتماعی سوچ اور انفرادی احساسِ ذمہ داری کیسے پیدا کیا گیا۔ اس کا جواب انتہائی سادہ اور آسان ہے۔ وہ ہے جاپان کا نظامِ تعلیم۔ جاپان میں بچے کو ذہین فطین اور ٹاپر نہیں بلکہ سب سے پہلے ایک اچھا شہری بنایا جاتا ہے۔پہلی سے تیسری جماعت تک کوئی ٹیسٹ نہیں اور نہ ہی کوئی پوزیشن ہے بلکہ وہاں پہلی سے تیسری جماعت تک پڑھائی سے زیادہ شخصیت و کردار کی تعمیر و تشکیل پر کام ہوتا ہے۔ ان کے نظامِ تعلیم کی اساس اس سنہرے اصول پر قائم کی گئی ہے کہ مضبوط اخلاقی معیارات کے بغیر علم کا حصول خطرناک ہے۔ اجتماعی احساس پیدا کرنے کیلئے تعلیمی اداروں میں سے پہلے ''میں‘‘ کی جگہ ''ہم‘‘ کا تصور اجاگر کیا جاتا ہے اور انفرادی کارکردگی کے بجائے بطور کلاس ایک ٹیم کا جذبہ پروان چڑھانے پر زور دیا جاتا ہے۔ ایک بچے کی غلطی پوری کلاس کی ذمہ داری تصور کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ جہدِ مسلسل پر زور دیا جاتا ہے کہ ہار نہیں ماننی بلکہ کوشش کرتے رہنا ہے۔ صفائی‘ کھیل‘ پڑھائی سب میں سو فیصد دینا ہے۔ تھک ہار کے بیٹھ جانا ان کی لغت میں شامل نہیں۔
اس کے علاوہ بچوں میں دوسروں کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور رونے والے بچے کو پوری کلاس چپ کراتی ہے۔ اخلاقیات کا پیریڈ روزانہ کے معمولات میں شامل ہے جس میں استاد مختلف قسم کی سبق آموز کہانیاں سناتے ہوئے اخلاقی تعلیم دیتے ہیں۔ روزانہ کے موضوعات میں ایمانداری‘ وعدہ نبھانا‘ بڑوں کی عزت کرنا اور کوڑا نہ پھینکنا جیسے کلیدی امور شامل کیے جاتے ہیں۔ بچوں میں قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے پوری کلاس کو چھ سے آٹھ طلبہ و طالبات میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ہر گروپ میں ایک لیڈر مقرر کیا جاتا ہے‘ جو ہر ہفتے بدل جاتا ہے تاکہ سب کو یکساں طور پر یہ کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ بطور گروپ لیڈر اس کی ذمہ داری میں حاضری لگانا‘ کھانا تقسیم کرنا‘ کمرہ صاف کرنا اور لڑائی جھگڑا سلجھانا شامل ہوتا ہے۔ اس سارے عمل میں جہاں بچوں میں اجتماعی سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے وہاں انفرادی تربیت پر بھی نمایاں زور دیا جاتا ہے۔ ہر دن دو بچے کلاس کیپٹن کا رول پرفارم کرتے ہیں جو صبح وائٹ بورڈ صاف کرتے ہیں‘ استاد کے آنے پر سب سے سلام کراتے ہیں اور چھٹی کے وقت سب سے شکریہ استاد کے الفاظ کہلواتے ہیں۔ ہر جمعہ کو کلاس کی صفائی کا مقابلہ ہوتا ہے اور جیتنے والے کو سرٹیفکیٹ ملتا ہے۔ بچے دوپہر کا کھانا کلاس روم میں ہی کھاتے ہیں۔ کھانے کے بعد ہر بچہ اپنی پلیٹ‘ چمچ‘ میز خود صاف کرتا ہے۔ چھٹی سے 10منٹ پہلے پوری کلاس دائرے میں بیٹھتی ہے اور خود احتسابی سے متعلق اس طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ آج ہم نے کیا اچھا کیا؟ کیا غلطی ہوئی؟ کل کیسے بہتر کریں گے؟ بچے خود بتاتے ہیں‘ آج میں نے فلاں کو دھکا دیا جس پر معذرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔تعلیمی اداروں میں چپڑاسی نہیں ہوتا۔ ہر روز 20 منٹ ٹائلٹ‘ راہداری اور کلاس روم بچے خود دھوتے ہیں۔ پرنسپل سمیت تمام سٹاف ممبران بھی بچوں کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ پہلے تین سال ایک ہی استاد بچوں کے ساتھ رہتا ہے جس دوران وہ بچے کی نفسیات اور اس کے گھر کے حالات سمیت سب جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے والدین سے زیادہ اپنے استاد کی بات مانتے ہیں۔ والدین ہوم ورک میں مدد نہیں کرتے کیونکہ تعلیمی اداروں میں ہوم ورک میں غلطی کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ سیکھنے کے عمل کا لازمی جزو مانا جاتا ہے۔
اب آپ تھوڑی دیر کیلئے اپنے نظامِ تعلیم پر توجہ مرکوز کریں اور اس میں نمبروں کی دوڑ اور اس سارے عمل میں جائز وناجائز ہتھکنڈوں کا استعمال‘ بچوں پر پڑنے والے ذہنی دباؤ اور تربیت کے فقدان پر غور کریں تو کردار میں کج روی اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم اور سماجی برائیوں کی وجوہات کو سمجھنا مشکل نہیں رہے گا۔