ہم دیہات کے اصل قدیمی ماحول میں پیدا ہوئے‘ جہاں فطری بہائو کھیتوں سے لے کر کھانے پینے‘ رہن سہن‘ روایات‘ تہواروں اور عام تعلقات تک تھا۔ آبپاشی رہٹ کنوئوں سے یا سیلابی پانی سے ہوا کرتی تھی۔ تقریباً ہر گھر میں گائے‘ بکریاں‘ بھیڑیں اور مرغیاں عام سی بات تھی۔ کسی کے پاس کچھ زیادہ تو کسی کے پاس کم۔ کم خاندا ن ایسے تھے جو دوسروں کو محتاج ہوتے۔ ابھی دودھ فروخت کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ضرورتمندوں کو مفت دیا کرتے تھے۔ کھانوں کا یہاں ذکر کرنا زیادہ اہم ہے کہ جس انداز میں شہری زندگی کا عکس دیہات میں تیزی سے پھیل رہا ہے‘ وہ غریبوں کے بچوںکیلئے‘ خصوصاً صحت کیلئے تباہ کن ہے۔ گوشت کھانے کا رواج ہی نہ تھا۔ گائے کا گوشت تو مجبور ی میں کھایا جاتا اور گائے ذبح بھی اس وقت کی جاتی جب بیمار‘یا قریب المرگ ہوتی۔ ہندو تہذیب کی چھاپ نمایاں تھی۔ تحت الشعور میں تقدس تھا لیکن مشہور تھا کہ گائے کا گوشت ہضم نہیں ہوتا‘ فائدے سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ بکری یا بھیڑ کا گوشت بھی عام طور پر لوگوں کو میسر نہ ہوتا۔ اپنی بھیڑ بکریاں ہوتیں لیکن صرف مجبور ی کے تحت ہی ذبح کی جاتیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر اکثر جگہوں پر بکرے کا گوشت پکتا۔ اگر لوگ گائے کا سنتے تو اسے میزبان کی کنجوسی یا غربت خیال کیا جاتا۔ ہمارے گھروں میں اکثر دالیں اور سبزیاں پکتیں اور وہ بھی شام کے وقت۔ صبح کے ناشتے میں گندم کی تازہ روٹی مکھن اور لسی کے ساتھ۔ دوپہرکو صبح کی پکی چپاتیاں‘ پیاز اور اچار یا پھر دوبارہ لسی کا مٹکا سامنے رکھ کر نوش کرتے۔ صرف دور سے مہمان آنے کی صورت میں دوپہر کو کھانا تیار ہوتا۔
وہ سادگی‘ پاکیزگی‘ کم خوری اور نامیاتی سبزیاں وپھل‘ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے کسی اور جنم میں تھے۔ کبھی نہیں سنا تھا کہ آموں کے پیڑوں اور سبزیوں کے کھیتوں میں کوئی کھاد ڈالی جاتی ہے یا ان پر کیمیائی ادویات کا سپرے کیا جاتا ہے۔ جہاں کہیں کوئی رہٹ کنواں تھا جس کا پانی بیل جوت کر نکالا جاتا‘ وہاں ہر قسم کی سبزی کاشت ہوتی تھی۔ ہر خاندان سبزیوں میں تقریباً خودکفیل ہوتا اور اگر ضرورت سے زیادہ پیدا ہوتیں تو اپنے عزیزوں اور دوستوں میں تقسیم کی جاتیں۔ یہ بات درست ہے کہ پیداوار کم ہوتی تھی‘ مگر اسوقت آبادی بھی کم تھی۔ آبادی بڑھی تو خوراک کی پیداوار بڑھانے کے نئے طریقے ایجاد ہونے لگے۔ مغرب کی سائنسی ترقی کے ثمرات ہمارے ہاں بھی کھادوںاور کیڑے مار ادویات کی صورت نمودار ہونے لگے۔ بیج بھی نئے تیار ہوئے۔ کاش میں لفظوں میں اپنے علاقے کی قدیم گندم اور چاولوں کا ذائقہ اور خوشبو بیان کر سکتا۔ وہ قسمیں صدیوں سے ہمارے ہاں پیدا ہو رہی تھیں۔ کہیں نہ کہیں چاولوں کی اُس قسم کے چند پودے کئی سال پہلے تک کھیتوں میں کہیں نظر آ جاتے تھے۔ عزیزوں اور دوستوں سے کئی بار درخواست کی کہ انہیں بچائیں اور علیحدہ رکھیں۔ کیا کریں! سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ سنا ہے کہ وہ قسم سندھ کے کچھ زمینداروں کے پاس اب بھی دستیاب ہے کہ اب سوغات کے طور پر وہ چاول‘ جسے ہم سٹھڑی کہتے تھے‘ محفوظ ہے۔ یہ چونکہ فصل صرف ساٹھ دنوں میں تیار ہو جاتی تھی‘ اسلئے اسے سٹھڑی کہتے تھے۔ دیسی گندم کی بھی تلاش جاری ہے‘ شاید کہیں سے مل جائے۔ اب میکانکی اور سرمایہ داری زراعت میں ہدف زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہے تاکہ منافع کمایا جائے‘ جو آج کل کی ہر فصل میں بھاری سرمائے کی وجہ سے ضروری ہو چکا ہے۔
ہمارے دیہاتی لوگوں کے کھانے پینے کی عادات گزشتہ چند دہائیوں میں یکسر بدل چکی ہیں۔ ہمارے چھوٹے سے قصبہ نما گائوں میں ایک بھی چائے خانہ نہیں تھا۔ اب کم از کم دس پندرہ تو ضرور ہوں گے‘ جہاں منوں کے حساب سے روزانہ دودھ پتی صبح سویرے شروع ہوکرشام تک چلتی رہتی ہے۔ لوگوں کی کھانے پینے کی عادتیں دیکھتے ہی دیکھتے تبدیل ہو گئی ہیں۔ یہ صرف چائے کی لت نہیں‘ دو نمبر بلکہ تین نمبر بیکریاں‘ جو بڑے شہروں میں نجانے کیسے ماحول میں رس‘ جنہیں مقامی لوگ پاپے کہتے ہیں‘ بنا کر دیہات میں روزانہ سپلائی کرتی ہیں۔ جس حالت میں فارمی مرغیوں کو غلیظ ویگنوں میں بند کرکے ملک کے مختلف علاقوں اور شہروں کے اندر لے جاتے دیکھتے ہیں‘ ہمارا جی ایسے گوشت کو کھانے کی طرف راغب نہیں ہوتا۔ ہم پرانے لوگ جو ٹھہرے! مگر نئے لوگ دیہات میں منوں کے حساب سے خرید کر کے گھرلے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی مہنگائی کا رونا بھی روتے رہتے ہیں۔
دیہات اور دیہاتیوں میں کبھی توند نکلے شخص کو نہیں دیکھا تھا۔ لوگ شکل وصورت سے اور ذہنی طور پر بھی صحتمند نظر آتے تھے۔ کسی کو غصہ کرتے‘ لڑائی جھگڑا کرتے اور اچانک مزاج بگڑتے نہیں دیکھا تھا۔ اب یہ ہمارے دیہات میں عام مشاہدے میں آتا ہے کہ ایک ہی محفل میں کوئی بات ہو یا نہ ہو‘ غصہ‘ گھبراہٹ اور زبان کی تندی محسوس ہوتی ہے۔ میری نظر ہمیشہ سماجی اور معاشی حالات کے بڑھتے ہوئے اعصاب شکن دبائو کے ساتھ لوگوں کے کھانے پینے کی عادات کی طرف جاتی ہے۔ چائے نوشی‘ مرغن غذائیں‘ گوشت ہی گوشت اور روٹیوں کے ڈھیر اب معمول کے دستر خوان ہیں۔ دال سبزی کا کچھ نہ کچھ رواج ابھی باقی ہے‘ مگر جب یہ بھی گھی میں تیر رہی ہوتی ہیں تو عام آدمیوں میں بلڈ پریشر‘ شوگر‘ دل کے دورے‘ معدے کی تیزابیت‘ پھولا ہوا منہ اور آگے نکلی ہوئی توند اب عام ہیں۔ دودھ اور مسالوں میں ملاوٹ اب اتنی ہے کہ ہاتھ لگانے کو جی نہیں چاہتا۔ یہ دیکھ کر حیرانی کی انتہا نہیں رہتی کہ دودھ کی سپلائی دیہات میں نزدیک کے بڑے قصبوں سے ہو رہی ہوتی ہے‘ جہاں کوئی ڈیری فارم بھی نہیں۔ ''دودھ سازی‘‘ کی چھوٹی چھوٹی خفیہ فیکٹریاں موجود ہیں۔ شہروں کا حال تو پہلے ہی برا تھا‘ اب یہ وبا دیہات تک پھیل چکی ہے۔ اسلام آباد کے مضافات میں اپنے جنگل میں قیام کے دوران ایک ہمسائے سے دودھ منگوایا تو اُسے باہر پھینکنے میں ہی غنیمت جانی کہ شکل اور بو سے اس مائع کا دودھ سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ جب معاشرہ اوپر کے طبقات کی کرپشن‘ لوٹ مار اور لاقانونیت کی وجہ سے زوال پذیر ہو تو دیہات اور عام آدمی بھی ایسی ہی پست اخلاق روش اختیار کرتے ہیں۔ کاروبار ی شہری معیشت اور اس کی دو نمبری نے دیہاتی زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ہم پرانے لوگ تازہ‘ خالص اور نامیاتی کی تلاش میں سر کھپاتے ہیں مگر اس زمانے میں یہ نعمتیں آسانی سے دستیاب نہیں ہو سکتیں۔ کاشتکاروں کو نامیاتی سبزیاں اور پھل کاشت کرنے کی ترغیب دینا ایسے ہی ہے جیسے انہیں فاقہ کشی پر راضی کرنا۔ اگرچہ بڑے شہروں میں یہ فیشن عام ہو رہا ہے کہ جہاں نامیاتی سبزیاں مل جائیں تو متمول افراد زیادہ سے زیادہ قیمت دینے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ اچھی بات ہے کہ اگر یہ رجحان عام ہو جائے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ مناسب پیداوار کے ساتھ انہیں محفوظ طریقوں سے اگانے کا نامیاتی ہنر عام کیا جائے‘ جس سے اکثریت بالکل نابلد ہے۔ ہمارا اپنا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ کم از کم اپنے لیے ایسی سبزیاں اور پھل اگائے جا سکتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے اگر حصہ دار بن جائیں تب بھی ہم کوئی کیمیائی دوائی استعمال نہیں کرتے۔ غیر کیمیائی مادے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ محنت اور تردد کچھ زیادہ کرنا پڑتا ہے‘ مگر جو ذائقہ نامیاتی سبزیوں میں ہے‘ وہ بازار سے خریدی چیزوں میں نہیں۔ دنیا بھر میں یہ طریقے سکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ میں ایک ایسے ہی رسالے کو جس کا نام نامیاتی باغبانی تھا‘ برسوں سبسکرائب کیا اور وہ سارے ساتھ لایا۔ اب تو رسالوں کی ضرورت نہیں‘ سب کچھ آپ انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے دیہات بھی اپنی سادگی اور پاکیزگی سے محروم ہو رہے ہیں۔ شہروں کی طرف سے اور بھی بلائیں آئی ہیں‘ مگر ان کا ذکر پھر سہی۔