یہ کوئی معمولی غلط فہمی نہیں‘ اور سوچیں اس کی مرتکب اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور ہے جہاں سینکڑوں ایسے ادارے اور ہزاروں محقق ہیں جو دنیا کے تمام ملکوں کے اندرونی حالات کے بارے میں کھوج لگاتے رہتے ہیں۔ امریکہ کی کئی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں جن کا کام قومی سلامتی کو محفوظ رکھنے کے لیے اطلاعات جمع کرنا ہے۔ جنگی مشقیں ہوتی ہیں اور دشمن کے سیاسی حالات اور عسکری کوائف کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ان کی روشنی میں تزویراتی حکمت عملی بنتی ہے۔ ہمارے خطے کا تو چلن ہی ایسا ہے کہ تمام طاقتوروں کو سب سے زیادہ دانشمند سمجھا جاتا ہے۔ یہ ابھی معلوم نہیں کہ ان کے سلامتی کے اداروں اور ایجنسیوں نے صدر کو کیا رائے دی ہو گی۔ مگر جو فیصلے انہوں نے ایران کے بارے میں اپنے پہلے دور میں کیے اور دوسری مرتبہ اقتدار سنبھال کر ایک تسلسل بخشا‘ ان سے ایک منفرد ذہنی افتاد کی ترجمانی ہوتی ہے۔ صدرِ امریکہ کے آئینی اختیارات اور سیاسی طاقت ایسی ہے کہ اگر اس کا کسی ایک ایشو کی طرف میلان اور گہری دلچسپی ہے تو وہ کر گزرتا ہے۔ پرانی تاریخ کو نہیں دہراتے‘ گزشتہ دوتین دہائیوں میں کچھ ایسے صدارتی فیصلوں کو ہم دیکھ سکتے ہیں۔ عراق کے خلاف بلاجواز جنگ شروع کرنے کے لیے کیا کیا ثبوت فراہم کیے گئے اور بعد میں کچھ بھی نہ نکلا۔ اسی طرح لیبیا پر حملہ اور وہاں پر بھی رجیم چینج کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے بارے میں پالیسی میں سیاسی اور قومی اتفاق سے کہیں زیادہ بطور صدر ان کی افتادِ طبع یا زاویہ نگاہ کار فرما نظر آتے ہیں۔ کئی برسوں کی طویل گفت وشنید کے بعد صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے 2015ء میں معاہدہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکہ کے مابین نہیں تھا بلکہ چین‘ روس‘ جرمنی‘ برطانیہ اور فرانس بھی اس میں شامل تھے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں مگر ایران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی گنجائش نہ ہونے کے برابر کر دی گئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کا اعلان کیا اور ایران پر پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔ معاہدہ توڑنے پر زور دینے میں اسرائیل‘ دائیں بازو کے طاقتور حلقے اور خطے کے کچھ مسلم ممالک بھی شامل تھے۔ گزشتہ سال دوبارہ اقتدار سنبھالا تو جون میں اسرائیل سے مل کر ایران کی جوہری تنصیبات پر بھرپور حملے کیے۔ سائنسدانوں اور عسکری قیادت کو بھی موقع ملنے پر نشانہ بنایا اور اس کی تیل کی برآمدات اور دیگر اقتصادی پابندیوں میں تواتر سے اضافہ کرتے رہے۔ اندر سے بھی ان دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رجیم کے مخالفین کو اکسانے اور ان کی ہر ممکن طریقے سے اعانت کی حکمت عملی جاری رکھی۔ مفروضہ یہ تھا کہ ایران اپنے جوہری اثاثے ترک کر دے اور اٹھتی ہوئی مخالفت اور معاشی بحران سے تنگ آ کر امریکہ کی مرضی کے مطابق ایک نیا جوہری معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ایران نے اندرونی خلفشار میں بھی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا اور وسائل کی تنگی کے باوجود اپنی عسکری طاقت کو برقرار رکھا۔ مزید پابندیوں اور جنگ کی دھمکیوں کے باوجود ایران کی مزاحمت میں جب کوئی کمی نہ آئی تو اسرائیل اور امریکہ نے فروری کے آخر میں بھرپور جنگ شروع کر دی۔ جی تو چاہتا ہے کہ وہ سب دعوے اور اعلانات جو انہوں نے ہزاروں بم برسانے کے ساتھ کیے‘ ان کی تفصیل یہاں دہرائی جائے لیکن ان کا ذکر کئی مضامین میں پہلے بھی ہو چکا ہے۔ کہا گیا کہ ایرانیوں اب اٹھو! اور اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لو‘ تمہاری آزادی کا وقت آگیا ہے اور رجیم کو نیست ونابود کر دیا جائے گا۔ چالیس روزہ جنگ کے بعد بھی ایران اپنے پیروں پر کھڑا رہا۔ امریکیوں کی توقعات کے برعکس وہاں اس تباہ کن جنگ کے خلاف قومی ہم آہنگی دیکھنے میں آئی اور رجیم ٹوٹنے کے بجائے آج زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔
جنگ بندی اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانا میرے نزدیک ایران کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ جہاں ان کے گھٹنے ٹیکنے کی باتیں ہو رہی تھیں وہاں ہم نے دیکھا کہ ایران کی حکمت عملی نے جنگ کو امریکہ کے علاقائی حلیفوں تک پھیلا دیا جن کی مشہوری دنیا میں سلامتی کے حصاروں کی رہی تھی۔ پہلی مرتبہ انہیں معلوم ہوا ہو گا کہ بیرونی طاقتوں کو ہمسایوں کے خلاف فوجی اڈوں کی فراہمی اور سہولت کاری کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے۔ نتیجہ جو بھی نکلے‘ اس جنگ کے علاقائی معیشت‘ سمندری راہداری کی اہمیت اور مستقبل کی عسکری صف بندی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ قیاس یہی ہے اور مستقبل بھی کہ اسرائیل اور امریکہ جو بھی کر لیں حالات شاید ان کے حق میں نہ رہیں۔ ناکہ بندی کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ کر کے ایران نے ترپ کا پتا کھیلا ہے۔ یہ ایسی چال ہے جس نے عالمی معیشت کی شہ رگ پر خنجر رکھا ہوا ہے۔ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اس جنگ کا آخری مرحلہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد بھی مفروضہ وہی ہے جو ایک سال پہلے جون کی جنگ شروع کرنے میں تھا کہ معاشی حالات کے جبر میں ایران ہتھیار پھینک کر سب امریکی شرائط کو تسلیم کرے گا۔ ابھی تک ایسا ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ الٹا ہرمز کو بند کر کے عالمی معاشی مسئلہ کھڑا کر دینے میں وہ کامیاب رہا ہے۔ ہم جیسے ملک اور عام لوگ دنیا میں سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر یہ جنگ کس نے شروع کی اور اس کے ایران کے خلاف عزائم کیا ہیں۔
سب سے بڑھ کر غلط فہمی یہ رہی ہے کہ ایران کو طاقت کے زور پر سرنڈر کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ذہن میں رہے کہ ایران پر اقتصادی اور دیگر پابندیوں گزشتہ 47 سالوں سے چلی آ رہی ہیں۔ وقت کے ساتھ اور تعلقات میں مزید بگاڑ کے موجب ان میں زیادہ شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی زیادہ سے زیادہ اذیتناک معاشی حالات سے دوچار کرنے اور بے پناہ بم برسانے کے بعد اپنی پسند کا امن معاہدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ الٹا ایران نے توانائی کا بہت بڑا بلکہ تاریخی عالمی بحران پیدا کر کے رائے عامہ کو امریکہ اور اس کے صدر کی جارحیت پسندی کے خلاف کر دیا ہے۔ اگر آج ہم مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے دیکھ رہے ہیں تو اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک انرجی کا بحران جس سے جدید دور کی صنعتی مشینری ہر شعبے میں اور ہر ملک میں متاثر نظر آتی ہے۔ تمام افراد بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرا رہے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ طاقت کے تمام وسائل استعمال کرنے کے باوجود اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جنگوں میں جب جمود کی کیفیت پیدا ہو جائے اور فتح حاصل کرنا دشوار اور بے یقینی کا شکار ہو تو مذاکرات ہی واحد راستہ رہ جاتے ہیں۔ ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے اپنی کامیاب سفارت کاری سے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے‘ جنگ بندی کرانے اور ایک جامع امن معاہدہ کرانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ دونوں جانب سے مثبت اشارے مل رہے ہیں کہ 14 نکات پر مشتمل مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ایران کے لیے یہ بہت بڑی فتح ہوگی کہ نہ صرف امریکہ آئندہ جنگ نہیں کرے گا بلکہ اس پر تقریباً نصف صدی سے عائد پابندیاں ختم ہوں گی‘ اثاثے بازیاب ہوں گے اور ایران کی ترقی کے تمام بند راستے کھول دیے جائیں گے۔ نیا تزویراتی نقشہ بھی مختلف ہو گا اور علاقے میں امریکی طاقت کا گھمنڈ بھی شاید وہ نہ رہے جو کبھی دیکھا جاتا تھا۔