انارکی کا اردو میں متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی تو انگریزی کے اس مختصر لفظ کا ترجمہ طوائف الملوکی ملا۔ دوسرے معنی نراج اور فوضیت نظر آئے جو غیر معروف ہیں اور کبھی کسی عبارت میں آج تک نہیں پڑھے۔ افراتفری اور لاقانونیت البتہ بہتر طور پر انارکی کے تصور کی تشریح کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر اب انارکی کا راج ہے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایسا کب نہ تھا۔ جدید ریاستوں کے قیام سے پہلے سلطنتوں کے دور میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ امن میں تب رہتیں جب ان میں طاقت کا توازن ہوتا۔ جنگوں کی تیاری جاری رہتی اور جونہی کوئی قریب یا دور کی سلطنت کمزور دکھائی دیتی تو کوئی بادشاہ اسے فتح کرنے کے لیے نکل پڑتا۔ مقصد کمزوروں کی لوٹ مار اور انہیں اپنے تابع رکھنے کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ دور دور سے آ کر باہر کے حملہ آوروں کے لیے وسائل کے اعتبار سے امیر مگر فوجی استعداد میں کمزور معاشروں پر حکومت قائم کرنا قابلِ فخر بات تھی۔ قرونِ وسطیٰ کی کلیسائی سلطنت جب یورپ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تو اس کی جگہ جاگیرداری سلطنتوں نے لینا شروع کی جو آپس میں وسائل‘ آبادی اور علاقہ گیری کے لیے تقریباً ایک سال تک جنگیں کرتی رہیں۔ مذہب‘ فرقہ اور قومیت بھی باہمی تفریق اور لڑائیوں میں اہم عناصر تھے۔ ہمارے خطوں میں تین بڑی سلطنتیں مغل‘ ایرانی اور عثمانی تھیں۔ ان کے حکمران کہنے کو ایک مذہب سے تعلق رکھتے تھے مگر موقع ملتے ہی ایک دوسرے کے خلاف عسکری قوت استعمال کرتے ہوئے بھاری تاوان کا مطالبہ کرتے۔
پوری انسانی تاریخ انارکی کی کیفیت کی گواہی دیتی ہے جو کسی ایک مخصوص طبقے‘ خطے‘ مذہب اور تہذیب تک محدود نہ تھی۔ انارکی میں اپنا وجود قائم رکھنے کا صرف ایک ہی منطقی طریقہ ہے۔ وہ اپنے معروضی حالات کے مطابق طاقت کا حصول اور اپنا دفاع ہے۔ اگر ایسا کرنا حالات کے جبر کے سامنے ممکن نہ رہے‘ شکست کا منہ دیکھنا پڑ جائے تو غلامی کے سوا پرانے دور اور معاشروں میں کوئی راستہ نہ تھا۔ سامراجیت کی پوری تاریخ بھی مغرب میں جدید ریاستوں کے قیام کے بعد عالمی سطح پر انارکی کی ایک مثال ہے۔ طاقتوروں کے خلاف نہ کوئی قانون تھا اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ جو لاقانونیت کو روک سکے‘ جیسا کہ قومی ریاست۔
آج کل کی جدید ریاستیں سلطنتوں کے خاتمے کے بعد وجود میں آئیں۔ مغرب میں بہت پہلے‘ تقریباً سولہویں صدی میں ایسا ہوا مگر ہماری جیسی مملکتیں سامراجیت کے خاتمے کے بعد وجود میں آئیں۔ جدید ریاستوں کے قیام کے چند اصول وضع ہوئے جو اَب بھی کمزور ریاستیں اپنے خلاف جارحیت کے مقابلے میں دلائل کے طور پر استعمال کرتی ہیں‘ جو کہ قومی اقتدارِ اعلیٰ‘ داخلی خود مختاری‘ اپنے قدرتی وسائل پر کنٹرول اور اپنے داخلی نظام میں دوسروں کی عدم مداخلت ہیں۔ یہ سب اقوام متحدہ کے منشور میں ہے‘ اور اس سے پہلے لیگ آف نیشنز کے اقرار نامے میں شامل تھا۔ اس کا مقصد تو یہ تھا کہ ہر قوم اپنی ریاست کی حدود کے اندر اپنے قومی عزائم‘ استحکام‘ امن و سلامتی‘ ترقی اور خوشحالی کے خوابوں کی تعبیر میں خود مختار ہو۔ ریاستیں جب ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی‘ ثقافتی اور سیاسی رابطے بڑھائیں گی‘ معاشرے ایک دوسرے کو قریب سے دیکھیں گے تو ان میں ہم آہنگی پیدا ہو گی‘ نفرتیں ختم ہوں گی اور افہام و تفہیم کی روشنی پھوٹے گی۔ یہ سب مفروضے ہیں جو لفظوں کی ساخت میں آنکھوں میں تراوت اور کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ دنیا کے معروضی حالات نے کمروں میں بیٹھے امن پسند فلاسفروں کے خیالات کی ترجمانی کبھی نہیں کی اور نہ کریں گے۔ طاقت اور طاقتور ریاستوں اور ریاستوں کے اندر حکمرانوں کی اپنی منطق رہی ہے۔ ہمارا ذاتی نظریاتی جھکاؤ تو امن پسندوں کی طرف رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا‘ اس امید کے ساتھ کہ قانون کی حکمرانی ہی ایک اچھا معاشرہ ترتیب دے گی۔ یہ صرف دلیل اور فلسفہ تک محدود خواہش نہیں بلکہ اگر آپ جدید دور کی ترقی یافتہ اور ترقی کی منازل طے کرتی کسی بھی مشرقی اور مغربی ریاست کو دیکھیں تو قانون کی حکمرانی کو ایک لازمی جزو کے طور پر دیکھیں گے۔ منصوبہ بندی‘ وسائل کی فراہمی اور صنعت کاری سے لے کر عام تعلیم اور سائنسی ترقی سب راستے قانون کی بالا دستی سے کھلتے ہیں۔
ایک صدی قبل عالمی جنگ کے بعد امن پسندوں نے جنگوں کے آئندہ تدارک کے لیے عالمی سطح پر قانون کی راہ دکھائی‘ عالمی ادارے بنانے کی تجاویز رکھیں اور تجارت پر پابندی ختم کر کے اسے آزاد کرنے کی ترغیب دی۔ مقصد یہ تھا کہ اگر قومیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور باہمی انحصار کے رشتوں میں جڑ جائیں تو امن اور سلامتی کا عالمی ماحول پیدا ہو گا۔ یہ مفروضہ آج بھی پُرکشش ہے مگر جب قومیت پرستی اور ہٹلر جیسے مغرور آمروں نے طاقت کے زور پر دوسروں کو زیر کرنا شروع کیا تو سب مفروضے بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے سامنے دم توڑ گئے۔ طاقت کا مقابلہ پھر طاقت سے ہوا۔ پرانے یورپی طاقتور دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی سامراجی سلطنتوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر واپس اپنے قومی حصار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تو نئی طاقتور ریاستیں ابھر کر سامنے آئیں۔ سوویت یونین اور امریکہ جو جرمنی اور جاپان کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے حلیف تھے اور نظریاتی اختلاف کو جنگ نے پیچھے دھکیل دیا مگر جب دونوں فتح یاب ہوئے تو وہ پھر کھل کر آمنے سامنے آگئے اور سرد جنگ کا نیا دور شروع ہوا جس میں ہم نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ بالائی سطح پر طاقت کا توازن جوہری ہتھیاروں نے پیدا کیا مگر وہ صرف ایک دوسرے سے براہِ راست جنگ کرنے سے بچنا تھا۔ پراکسی جنگ جاری رہی اور دونوں بڑی طاقتوں نے کسی قانون کی پروا کیے بغیر اپنی جارحیت اور توسیع پسندی جاری رکھی۔ مقصد یہ تھا کہ ایران‘ لبنان کے خلاف جنگ اور غزہ میں تاریخ کی گھناؤنی نسل کشی کا تاریخ کے تناظر میں ذکر ہو جائے تاکہ بنیادی بات ہمیں سمجھ آ سکے۔ دنیا طاقت کے نظام کا کھیل ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ کرنسی نہیں اور آپ کو معروضی حالات یعنی ارد گرد کے جغرافیہ اور ماحول اور ہمسایوں کی طاقت اور عزائم کا ادراک نہیں تو آپ پھر کسی برے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایران کی جنگ سے پہلے افغانستان‘ لیبیا‘ عراق‘ شام‘ یمن اور سوڈان تک نظر دوڑائیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ فوجی قوت ہی ریاستی وجود کی بنیادی ضمانت ہے۔ باقی باتیں نظریاتی تو بہت ہیں جو فلسفوں کی حد تک پُرکشش ہیں مگر انارکی کے عالمی ماحول میں ایک کمزور دلیل کے علاوہ ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایک اور اہم بات بہرحال ذہن میں رکھیں کہ فوجی طاقت کے ذرائع اور وسائل کبھی بھی محض عسکری قوت پر منحصر نہیں ہوتے۔ قومی ہم آہنگی‘ صنعتی ترقی‘ قدرتی وسائل کا بامعنی استعمال اور سیاسی استحکام انتہائی اہم عوامل ہیں جو عسکری طاقت میں اثر اور دوام پیدا کرتے ہیں۔ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ‘ جو اَب پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے‘ اور اسرائیل اور امریکہ کی گزشتہ سال سے لے کر اب تک کی جنگوں نے عالمی انارکی کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ گزشتہ سال ہمارے جغرافیہ کے لحاظ سے بڑے مگر سوچ کے اعتبار سے کوتاہ نظر ہمسایے نے بھی ماحول تبدیل ہوتا دیکھ کر آزمائشی وار کیا تھا۔ اگر ہم تیار نہ ہوتے اور اسے لینے کے دینے نہ پڑتے تو آج ہمارا عالمی سطح پر جو مقام‘ عزت و احترام اور کردار ہے وہ نہ ہوتا۔ کاش کہ مشرقِ وسطیٰ کی ریاستیں عالمی انارکی‘ اس کی تاریخ اور اثرات کو اپنی تزویراتی سوچ میں سمو سکتیں اور طاقت کا توازن باہمی تعاون سے پیدا کرتیں تو انسانی المیہ اور تباہی جو ہم دیکھ رہے ہیں‘ ان کا مقدر نہ ہوتے۔