ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ جو ابھی ختم تو نہیں ہوئی‘ کچھ دیگر صورتوں میں جاری ہے‘ ایک دن کسی معاہدے پر ضرور ختم ہو گی۔ پس پردہ تجاویز‘ شرائط اور مطالبات کا تبادلہ جاری ہے۔ ثالثی اور میزبانی کا شرف ہمیں حاصل ہوا ہے‘ بات آگے بھی بڑھی ہے اور ہمارا کردار ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے جنگ کو ختم کیا جائے تاکہ علاقائی امن اور سلامتی کو بحال کیا جا سکے۔ ایک اور بحث بھی چل نکلی ہے کہ متوسط درجے کی طاقتوں کا آئندہ وقتوں کی تزویراتی بساط پر اثر ونفوذ کتنا بڑھے گا۔ میرے نزدیک ایران کے خلاف جنگ دیکھنے میں ایک تازہ واقعہ ہے مگر یہ ایک طویل کشمکش کا حصہ ہے‘ جو 47 سال قبل ایرانی انقلاب کے بعد شروع ہوئی۔ جنگ کا خاتمہ شاید ابھی وہ سیاسی تضادات ختم نہ کر سکے جو ایران کی انقلابی حکومت کے داخلی نظریات اور بیرونی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ جس طویل لڑائی کی طرف اشارہ ہے یہ اس ٹکرائو کا نتیجہ ہے جو امریکہ اور اس کے علاقائی حلیفوں کے خلاف پیدا ہوا۔ ایران نے پراکسی گروہوں کو اپنی جارحانہ دفاعی علاقائی حکمت عملی کا اسی طرح حصہ بنایا کہ وہ اسے تزویراتی گہرائی دے سکیں۔ اس کی بنیاد کٹر مسلک‘ فرقہ اور مذہب تھے۔ ملک کے اندر جس طرح متوازی حکومتی نظام بنایا گیا‘ اسی طرح علاقے کے مسلم ممالک میں بھی کچھ ایسی تنظیموں کی حمایت کی گئی جو ایران کے مفادات کے تحفظ میں اپنی حکومتوں پر دبائو ڈال سکیں۔ ظاہر ہے کہ جب ایسی تنظیموں نے اپنی ریاستوں کے اندر اپنے لیے بزور طاقت جہاں کہیں جگہ بنانے کی کوشش کی‘ ان کی حکومتوں نے ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ تقریباً سب ایسے ممالک نے ایک نئی صف بندی کی‘ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھایا اور کچھ امریکہ کے دفاعی حصار کا حصہ بن گئے۔
پہلے تو عراق کو ایران کے خلاف تیار کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین ایک خوفناک جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ دونوں جانب کے لاکھوں لوگ جاں بحق ہوئے۔ اس جنگ کا ایران کی پراکسی پالیسی تشکیل دینے میں بنیادی کردار تھا۔ غیر ریاستی عناصر پر ایران کا انحصار اور بھی بڑھا اور ردِعمل کے طور پر ایران کے خلاف احاطہ بندی کی پالیسیوں میں بھی اسی قدر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جنگ سے پہلے بھی ایران سخت اقتصادی پابندیوں کی زد میں تھا جو دہائیوں سے بڑھتی چلی آ رہی ہیں۔ ایران کو کمزور کرنا اسی طویل کشمکش کا بنیادی مقصد رہا ہے تاکہ اسے اپنی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ایران کی مذہبی مقتدرہ نے اپنے بیانیوں اور ملک کے کردار کو مزاحمت کے سانچے میں ڈھال رکھا ہے اور ان کے دیگر ملکوں میں حامی بھی زبانوں پر اسی کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں۔ بہت سوں کو یہ بات قابلِ فخر اور دلکش محسوس ہوتی ہے کہ ایران اکیلا وقت کی بڑی طاقت امریکہ اور اس کے حلیفوں کے خلاف کھڑا ہے اور ابھی تک‘ ایک سال کے اندر دو جنگوں کے باوجود اس نے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ جذبات میں سموئی باتوں اور زمینی حقیقتوں میں فرق صرف اس وقت محسوس ہوتا ہے جب حالات پر نظر ڈالنے کے لیے معروضیت کا پیمانہ استعمال کیا جائے۔ جنگ کی کیفیت میں تو معروضیت ہر طرف شعلوں اور دھوئیں کی نذر ہو جاتی ہے۔
گزشتہ 47سال میں ایران کا مقابلہ خلیج میں اس کی حریف چھوٹی امارتوں سے کریں تو فرق آپ پر واضح ہو جائے گا۔ ایک طرف کھربوں ڈالر میں سرمایہ کاری ہوئی۔ یہاں تک کہ ریت کے ٹیلوں پر قیمتی برج کھڑے کیے گئے‘ تو دنیا بھر کے امیر لوگ وہ کچھ اپنے نام کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے پر گرتے پڑتے دیکھے گئے۔ لاکھوں لوگ وہاں سیر وتفریح اور خرید وفروخت کے لیے جاتے ہیں۔ ان چھوٹی ریاستوں کے ہوائی اڈے اور فضائی بیڑے اب دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔ ذاتی طور پر میں ان کی ترقی اور خوشحالی کا کبھی معترف نہیں رہا مگر یہ سب کچھ ایران کے ساتھ تقابل کے لیے اس لیے زیر بحث ہے کہ معاشی طاقت‘ قومی وقار اور احترام‘ مادہ پرستی کے سرمایہ داری دور میں‘ یہی سکہ رائج الوقت ہے۔ ایران کے اندر کے حالات کا تذکرہ کرنا فی الحال کچھ مناسب نہیں مگر اپنے چند دوروں کے دوران جو دیکھا ہے اس سے تو پتا چلتا ہے کہ باہر بھاگنے کی دوڑ ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
اس طویل جنگ اور 40 دنوں کی خون ریزی اور تباہی کے بارے میں ہم وہی پرانی باتیں سنیں گے۔ ہمیشہ کی طرح‘ دونوں جانب فتح کے دعوے ہوں گے۔ ایرانی قیادت اور امریکہ بار بار اپنی کامیابی کے اعلانات دہراتے رہیں گے۔ ہمارے نزدیک جدید جنگیں کوئی جیتتا ہے اور نہ جیت سکتا ہے۔ کامیابی کا معیار بھی وہ نہیں جو پرانے زمانوں میں ہوتا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اپنے حریف یا حریفوں کو کتنا نقصان پہنچاتے ہیں تاکہ وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں اور ایک عرصے تک پھر اٹھ نہ سکیں۔ کہنے کو تو سوویت یونین اور امریکہ افغانستان کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ بات درست ہے مگر اس ملک کی حالت دیکھیں۔ جب ریاست اور معاشرہ تباہ ہوئے تو پھر توازن‘ استحکام اور کوئی سمت متعین نہ ہو سکی۔ عراق‘ شام‘ لیبیا‘ یمن اور لبنان کا بھی یہی حال ہے۔ حالیہ جنگ میں ایران کو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کی فوج اور پاسداران اپنی سیاسی اور عسکری قیادت تک کا دفاع نہ کرسکے۔ تیاری تو انہوں نے کافی کر رکھی تھی اور جواباً حملے بھی کیے‘ مگر عرب ہمسایہ ممالک پر‘ اور جواز یہ تھا کہ انہوں نے امریکہ کو فوجی اڈے دے رکھے ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ایران نے اپنے خلاف جنگ کو علاقائی سلامتی کا مسئلہ بنانے اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے تاکہ دیگر ریاستیں اس کے خلاف جنگ شروع کرنے والوں کو اس کا موجب قرار دیں۔ لیکن آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش اور اس کو غیر محفوظ کرنے سے خطرہ یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک ایران کے خلاف صف آرا نہ ہو جائیں۔
ابھی امید باقی ہے کہ اسلام آباد سے شروع ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے۔ جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے اور دونوں جانب سے اپنی شرائط کو نرم کر کے باہمی سمجھوتا کرنے کی خواہش بھی موجود ہے۔ پھر بھی اعتماد کے ساتھ کچھ کہنا حتمی طور پر مشکل ہے۔ ایران کے حق میں ہرگز نہیں کہ جنگ دوبارہ چھڑ جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اسے بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آج ایران اکیلا کھڑا جذباتی طور پر تو قابلِ تعریف ہے مگر حقائق کی دنیا میں بہت بڑی کمزوری کا شکار ہے۔ اس کا وہ تزویراتی حصار جو پراکسی گروہوں کی صورت مرتب ہوا تھا‘ تباہ ہو چکا ہے۔ اب حالات ایسے ہیں اور ہوں گے کہ شاید وہ حکمت عملی دوبارہ نہ بنائی جا سکے۔ پس پردہ مذاکرات میں ایک یہ بھی نکتہ ہے۔ ہماری رائے ہمیشہ یہ رہی ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری طاقت کو خواب پورا نہیں کر سکے گا۔ بات حق اور استعدادی صلاحیت حاصل کرنے کی نہیں‘ مخالفت میں زور‘ جبر اور عالمی نظام کے توازن کی ہے۔ شاید اپنا بھرم اور ناک رکھنے کے لیے کچھ منوا لے مگر سرخ لکیر کی حد سے اسے پیچھے رکھا جائے گا۔ اس وقت ضروری ہے کہ اس کی بحری ناکہ بندی ختم ہو۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا یہ حربہ جاری رہا تو ایران کے اندر کے حالات بگڑیں گے اور عسکری اور سیاسی قیادت بھی کمزور صورتحال میں تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایسی جنگوں میں ہار جیت کا حساب کوئی معنی نہیں رکھتا۔ نقصان تو سب کا ہوتا ہے مگر ایک طرف صرف گولہ بارود اور ہتھیاروں کا زیاں اور دوسری طرف معاشرے اور معیشت کی تباہی‘ تو فرق واضح ہے۔ ابھی تک تو ایران کی ثابت قدمی اس کی فتح ہے مگر مزید جنگ اور ناکہ بندی اسے کئی آزمائشوں میں ڈال سکتی ہے۔