راجیو گاندھی نے ابھی ماں کی آخری رسومات ادا کرنی تھیں اور تین دن سے دہلی آگ میں جل رہا تھا۔ سکھوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا جا رہا تھا۔ راجیو گاندھی کو مشورہ دیا گیا کہ اس وقت انہیں وہی کچھ کرنا ہو گا جو 1947ء کے ہندو مسلم فسادات میں مہاتما گاندھی اور نہرو نے کیا تھا۔ دہلی کے سابق کمشنر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ مسلمانوں پر جب حملے شروع ہوئے تو گاندھی جی اپنی لاٹھی لے کر وہاں بیٹھ گئے اور مسلمانوں کی جانیں بچائیں۔ خوفزدہ مسلمان گاندھی جی کو دہلی سے باہر نہیں جانے دیتے تھے کہ انہیں خطرہ تھا کہ ان کے باہر جاتے ہی ہندو ان کے محلوں پر دھاوا بول دیں گے۔ دہلی کی بعض مسجدوں میں پاکستان سے گئے ہندو مہاجرین کو بسایا گیا تھا مگر گاندھی نے وہ مسجدیں خالی کرا لیں۔ گاندھی جی نے دہلی انتظامیہ کو منع کیا کہ جو مسلمان پاکستان چلے گئے ہیں‘ ان کے خالی گھر کسی ہندو مہاجر کو الاٹ نہ کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات نارمل ہونے پر وہ خود پاکستان جا کر دہلی کے اُن مسلم خاندانوں کو واپس لا کر ان کے گھروں کی چابیاں ان کے حوالے کریں گے۔ کنور مہندر سنگھ لکھتے ہیں کہ ایک رات وزیراعظم نہرو کو بتایا گیا کہ ہندوئوں کا ایک جتھہ مسلمانوں کے محلوں پر حملے کر رہا ہے۔ ان کے بقول وہ دوڑتے ہوئے وہاں گئے اور قتل وغارت رکوائی۔ اب راجیو گاندھی کیلئے وہ لمحہ آن پہنچا تھا جو برسوں پہلے ان کے نانا نہرو پر آیا تھا۔ جب راجیوگاندھی ان علاقوں میں خود گئے جہاں سینکڑوں سکھوں کو قتل اور ان کے گھروں کو جلایا گیا تھا تو حالات میں بہتری کی کچھ امید پیدا ہوئی۔ راجیو گاندھی کو دہلی کی بربادی اور قتل عام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حالات کس قدر خراب ہیں اور اپنی ماں کی آخری رسومات کو بھول کر ریاست کی رِٹ قائم کرنا ہو گی۔ راجیو گاندھی نے فوری طور پر بھارت کے آرمی چیف کو فون کیا اور انہیں سخت ہدایات دیں کہ فوج کی مدد سے فوری طور پر حالات کو قابو میں لایا جائے۔ دوپہر تک انڈیا گیٹ پر بھارتی فوجی دستوں نے پٹرولنگ شروع کر دی تھی۔ فوج کو البتہ دیر سے بلایا گیا‘جس کی وجہ سے سکھوں کا بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان ہو چکا تھا۔ فوج بلانے کا فیصلہ راجیو گاندھی نے اُس وقت کیا تھا جب انہوں نے خود ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں لہو کی بدترین ہولی کھیلی گئی تھی۔
فوج طلب کیے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد اندرگاندھی کی آخری رسومات شروع ہو گئیں۔ جب گاندھی جی کو قتل کیا گیا تو ان کے آخری دیدار کیلئے ان کی میت بھارتی عوام کے سامنے رکھ دی گئی تھی۔ بڑی تعداد میں لوگ آئے تاکہ اپنے لیڈر کا آخری دیدار کر سکیں۔ وزیراعظم نہرو اور لال بہادر شاستری کی موت کے بعد بھی ان کے آخری دیدار کیلئے بہت بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلے۔ لیکن جب اندرا گاندھی کا جسد خاکی گن کیرج پر لایا گیا تو میت کا چہرہ کھلا رکھا گیا اور جب اسے شمشان گھاٹ لیجایا جا رہا تھا تو اس وقت دہلی کی سڑکیں سنسان تھیں۔ بھارتی عوام کے بارے مشہور تھا کہ وہ اپنے وزیراعظم کے آخری دیدارکیلئے ہزاروں کی تعداد میں نکلتے ہیں‘ لیکن اس دن اندرا گاندھی کا آخری دیدار کرنے کوئی نہیں نکلا تھا۔ اس کی وجہ وہی خوف تھا جس نے بھارتی شہریوں کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ راجیو گاندھی اپنی ماں کی ارتھی کے قریب کھڑے تھے اور حیران تھے کہ وہ اپنی ماں کی وراثت کو کیسے سنبھالیں گے۔ راجیو کو بیٹا ہونے کے ناتے اپنی ماں کی خوبیوں اور کمزوریوں کا بخوبی علم تھا اور یہ کہ وہ کس مزاج کی وزیراعظم تھیں۔ راجیو کو احساس ہوا کہ ان کی ماں کی کمزوریاں ہی ان کے قتل کا سبب بنیں۔ راجیو کو یہ بھی احساس تھا کہ ان کی ماں کی سکیورٹی میں بڑے پیمانے پر غفلت بلکہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔
پولیس گائیڈ لائنز کے مطابق وزیراعظم کی سکیورٹی میں وزیراعظم کے گرد سکیورٹی کا ایک حصار ہونا چاہیے تھا۔ جس صبح انہیں قتل کیا گیا‘ ایسا کچھ نہیں تھا۔ وہاں کوئی سکیورٹی حصار نہیں تھا۔ اس دن ستونت سنگھ‘ جس نے اندرا گاندھی کو گولی ماری‘ اس کے وزیراعظم ہائوس میں ڈیوٹی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ وہ گورداسپور کے اپنے گائوں میں دو ماہ کی چھٹیاں گزار کر واپس وزیراعظم ہائوس ڈیوٹی کرنے پہنچا تھا۔ اس وقت بھارتی پنجاب میں گولڈن ٹیمپل آپریشن کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آ رہا تھا۔ سکھ سمجھتے تھے کہ اندرا گاندھی نے مسلح فوجی دستوں سے ان کے مقدس مقام پر چڑھائی کر کے سنگین گستاخی کی اور ان کے مذہبی جذبات مجروح کیے۔ بپھرے ہوئے سکھ انتقام لینے کیلئے بے چین تھے۔ ستونت سنگھ کے افسران کو اس وقت تک اسے وزیراعظم ہائوس کی سکیورٹی ڈیوٹی سے دور رکھنا چاہیے تھا جب تک یہ تسلی نہ ہو جاتی کہ وہ چھٹیوں کے دوران گائوں میں عسکریت پسندوں یا اُن سکھوں سے رابطے میں نہیں رہا جو اندراگاندھی کی جان لینا چاہتے تھے۔ ستونت سنگھ نے واپس پہنچ کر ایک ساتھی سمیت اپنی ڈیوٹی وزیراعظم ہائوس کے اندر لگوا لی اور حملے کیلئے بہانہ تلاش کر رہا تھا۔ اس نے اپنے ڈیوٹی افسر کو کہا کہ اس کا پیٹ خراب ہے‘ اس وجہ سے اسے ایسی جگہ ڈیوٹی دی جائے جہاں سے واش روم قریب ہو۔ دوسرے گارڈ بنیت سنگھ کے بارے بھی ڈیوٹی افسران کو یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ دہلی کے گوردوارے میں سکھ عسکریت پسندوں سے ملتا رہا ہے۔ اسے ان رپورٹس کے بعد دہلی آرمڈ پولیس کے سکواڈ سے ہٹا دیاگیا تھا۔ تاہم حیران کن طور پر اندرا گاندھی نے اصرار کر کے مستقبل کے اپنے قاتل کو دوبارہ وزیراعظم ہائوس کی ڈیوٹی پر بحال کرایا۔ خود راجیو گاندھی کو بھی وزیراعظم ہائوس میں آتے جاتے ستونت سنگھ کے عجیب وغریب رویے پر کچھ شک ہوا تھا اور ایک دفعہ تو اسے وزیراعظم ہائوس کے سکیورٹی دستے سے ہٹوا بھی دیا تھا۔
اندرا گاندھی کے قتل کے چار ماہ بعد وزیراعظم راجیو گاندھی نے بھارتی صحافی ایم جے اکبر کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ وزیراعظم آفس میں میٹنگ کرتے تھے اور جب وہ رات کو ایک یا دو بجے پیدل اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے ہوتے تو دو‘ تین دفعہ ستونت سنگھ کی عجیب وغریب حرکتوں پر انہیں حیرانی ہوئی۔ راجیو نے بتایا کہ وہ وہاں کھڑا ہو کر اپنی بندوق کا رخ میری طرف کر لیتا۔ اگرچہ دیگر سکیورٹی گارڈ بھی ساتھ ہوتے لیکن میں سوچتا کہ اگر وہ ٹریگر دبا دے تو اتنے قریب سے چلائی گئی گولی کو کون روک سکتا ہے‘ وہ تو پہلے ہی پوزیشن لے کر کھڑا ہے۔ ان واقعات کے بعد راجیو نے اسے سکیورٹی سے ہٹوا دیا لیکن ان کی ماں اسے واپس لے آئی۔ گولڈن ٹیمپل آپریشن کے بعد اندرا گاندھی کو بہت دھمکیاں مل رہی تھیں۔ کئی خطوط موصول ہوئے۔ بی بی سی دہلی آفس کو بھی اندرا گاندھی کو قتل کرنے کی دھمکی بھرا خط بھیجا گیا‘ تاہم اندرا گاندھی نے ان سب کی انکوائری نہیں کرائی نہ ہی انہیں سنجیدہ لیا۔ اتنے بڑے واقعے کے بعد بھی قاتلوں کو موقع پر قتل کر کے رہے سہے ثبوت بھی ختم کر دیے گئے کہ اس سب کے پیچھے کون تھا۔ جب اندرا گاندھی کو ملنے والی دھمکیاں بہت سنگین ہو گئیں تو اِنڈو تبت بارڈر پولیس کے کمانڈوز وزیراعظم کی سکیورٹی کیلئے لائے گئے مگر انہوں نے قاتلوں کو موقع پر ہی گولیاں مار دیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اندرا گاندھی کو سامنے اور پیچھے‘ دونوں طرف سے بیس گولیاں ماری گئی تھیں۔
یہ سب تفصیلات پڑھتے ہوئے مجھے تین ہزار سال پرانا یونانی ڈرامہ ''ایڈی پس کنگ‘‘ یاد آیا کہ ہونی ہو کر رہتی ہے۔ بیٹے نے جس سکیورٹی گارڈ کو مشکوک سمجھ کر سکیورٹی سے ہٹوایا‘ اس کی ماں اسے واپس لے آئی کہ اس کے ہاتھوں ہی اسے قتل ہونا تھا۔ راجیو کو ماں سے شکایت تو تھی ہی لیکن اسے علم نہ تھا کہ ایک دن وہ خود بھی اپنی سکیورٹی غفلت کی وجہ سے مارا جائے گا۔ وہی یونانی کہاوت کہ ہونی ہو کر رہتی ہے۔ (ختم)