کچھ دن پہلے اسلام آباد میں رات دس گیارہ بجے ایف الیون مرکز سے ناظم الدین روڈ پر آ رہا تھا۔ ایف الیون اور ایف ٹین کے درمیان ایک اشارے پر عجیب وغریب منظر دیکھا جس کا اثر کئی دن گزر جانے کے بعد بھی میرے اوپر حاوی ہے۔ وہاں ایک نوجوان بھکاری کو دیکھا‘ جسے میں برسوں سے دیکھ رہا ہوں‘ جو مسلسل چوک بدلتا رہتا ہے اور اب وہ اپنی اس نئی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ اس نوجوان گداگر کو برسوں پہلے ایف نائن اشارے پر رات کی ڈیوٹی دیتے دیکھا تھا جہاں وہ رینگ رینگ کر لوگوں سے پیسے مانگتا تھا۔ ہر رات اپنی کمال کی اداکاری سے وہ اچھی خاصی رقم اکٹھی کر لیتا ہوگا۔ ہٹا کٹا لیکن حیرانی ہوتی کہ لوگ ایسے نوجوان کو محض لنگڑانے؍ رینگنے کی اداکاری پر پیسے دے دیتے۔ اُن دنوں اسلام آباد پولیس پر دبائو بڑھا کہ پورا شہر بھکاریوں کے ہاتھ لگ گیا ہے لہٰذا پولیس نے کارروائی شروع کی۔ وہ نوجوان بھی گرفتار ہوا مگر چند دن بعد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ شاید کسی سے زیادہ لین دین پر بات ہو گئی۔ اس کی بدقسمتی کہ ایف نائن پر سی ڈی اے نے انڈر پاس اور فلائی اوور بنانے کا فیصلہ کیا اور یوں چوک‘ اشارے سب ختم ہو گئے اور ساتھ ہی اس کی روزی کا اڈہ بھی بند ہو گیا۔ گداگروں نے اسلام آباد میں اپنے علاقے اور چوک چوراہے بانٹے ہوئے ہیں۔ فوری طور اس اداکار گداگر کو وہاں سے شفٹ کر دیا گیا۔ میرا جناح ایونیو سے ایف ٹین تک تقریباً روز کا آنا جانا ہے۔ جب ایف نائن چوک کا کام شروع ہوا تو متبادل راستے کے طور پر مارگلہ روڈ سے جانا شروع کیا۔ ایک رات گھر واپس جاتے دیکھا وہی ہٹا کٹا نوجوان گداگر وہاں موجود تھا۔ اسے شاہین چوک ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔ یہ اب وہاں رینگ کر نہیں بلکہ لنگڑا بن کر مانگ رہا تھا۔ یہ ذہن میں رکھیں اسلام آباد میں ایسے کام پولیس کی معاونت کے بغیر نہیں ہوسکتے۔ پولیس پروٹیکشن آپ کو ہر جگہ درکار ہوتی ہے اور اس کے بدلے میں روزانہ حصہ ملتا ہے۔ پولیس اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جس گداگر نے ' این او سی‘ لیا ہو چوک میں صرف وہی مانگ سکتا ہے کیونکہ اس کے کاروبار میں وہ بھی شراکت دار ہیں۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا گداگر وہاں کھڑا ہو جائے جس کے پاس پولیس کا 'این او سی‘ نہ ہو تو کچھ ہی دیر بعد پولیس اسے اٹھا کر لے جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کی تصویر جاری کر کے داد وصول کی جاتی ہے کہ شہر میں گداگروں کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ہے۔ دراصل یہ وہی گداگر ہوتے ہیں جو متعلقہ تھانے سے' این او سی‘ اور گداگری کے کاروبار میں ' شراکت داری کا کنٹریکٹ سائن ‘کیے بغیر چوک کو خالی دیکھ کر مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔
بہرحال اب کی دفعہ میں نے ایک تبدیلی اس گداگر میں یہ دیکھی کہ وہ رینگ نہیں رہا تھا‘ جیسے ایف نائن چوک پر رینگ کر مانگتا تھا۔ میں حیران ہوا کہ اب یہ رینگ کیوں نہیں رہا کیونکہ اس سے لوگوں میں زیادہ ہمدردی جاگتی ہے اور دل کھول کر خیرات ملتی ہے۔ میں ابھی اسی شش وپنج میں تھا کہ اشارہ سبز ہو گیا اور میں آگے بڑھ گیا۔ پھر مجھے احساس ہوا یہ چوک نسبتاً چھوٹا ہے اور ایف نائن کا چوک بڑا تھا۔ وہاں سڑک چوڑی تھی لہٰذا رینگ کر گاڑیوں کے آگے آنے کے لیے خاصی جگہ میسر تھی۔ اب چھوٹی جگہ پر وہ رینگ کر گاڑی کے آگے نہیں آ سکتا لہٰذا اب لنگڑا بن کر بھیک مانگ رہا ہے۔ خیر کچھ ہی عرصہ اس کا کاروبار یہاں چمکا کیونکہ ایف نائن چوک پر فلائی اوور کی تعمیرات کی وجہ سے زیادہ تر لوگ یہی راستہ اختیار کر رہے تھے اور سب پرانے گاہک تھے۔ اگرچہ ایف نائن پارک والی عیاشی یہاں نہ تھی لیکن وقتی طور پر اسلام آباد پولیس نے اپنے کمائو پوت کو فوری نیا چوک الاٹ کر دیا تھا تاکہ کمائی پر اثر نہ پڑے۔ اسے کیا خبر تھی کہ ابھی اس پر ایک اور صدمہ گزرنا ہے۔ سی ڈی اے ایف نائن پارک اوور فلائی سے فارغ ہوا تو دوسرے چوک کی تلاش شروع کر دی گئی ۔ اب کی دفعہ ان کی نظر شاہین چوک پر پڑی۔ اگلے ہی دن مشینری وہاں پہنچ گئی اور ساتھ ہی ٹریفک روک دی گئی۔ اب ٹریفک دوبارہ ایف نائن انڈر پاس اور فلائی اوور سے جانا شروع ہو گئی۔ لیکن اس دفعہ وہاں کسی گداگر کے لیے کوئی موقع نہیں تھا کیونکہ وہاں اشارہ ختم ہو چکا تھا لہٰذا پولیس کے ان چند اہلکاروں اور ان کے کمائو گداگروں کے لیے نیا مسئلہ کھڑ ہو گیا کہ اب کمائی کا نیا اڈہ کہاں کھولیں۔ ایسی کمائی صرف کسی اشارے یا چوک پر ہی ہو سکتی ہے۔ ای ٹین اور ایف ٹین مارگلہ روڈ چوک ایک اچھا آپشن تھا لیکن وہاں پہلے سے کچھ پارٹیاں اور کمائو پوت کام پر لگے ہوئے تھے۔ یہ ہٹا کٹا نوجوان اچھی پرفارمنس دے سکتا تھا لہٰذا اس کیلئے ایک بڑا اور اچھا اشارہ درکار تھا۔ دوسری طرف شہر میں اشارے تیزی سے کم ہو رہے تھے۔ کہیں فلائی اوور تو کہیں انڈر پاسز سے بغیر اشاروں کے ٹریفک کی روانی بہتر ہو گئی تھی اور اب گاڑیوں کو رکنا نہیں پڑتا تھا۔ خیر اس ہٹے کٹے نوجوان کے لیے ناظم الدین روڈ پر ایف ٹین اور ایف الیون کا بڑا اشارہ خالی کرایا گیا۔ جو گداگر پہلے وہاں کھڑے تھے‘ وہ چوک ان سے خالی کرا کے دو عدد ہٹے کٹے گداگر وہاں کھڑے کر دیے گئے۔ ایک کی ڈیوٹی دن کو اور دوسرے کی رات کو ہوتی۔ ایک دلچسپ بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ کہ اس ہٹے کٹے نوجوان کو ہمیشہ رات کی ڈیوٹی دی جاتی۔ چاہے ایف الیون یا شاہین چوک ہو یا اب ایف ٹین؍ ایف الیون چوک۔ اسے اتنے برسوں میں کبھی میں نے دن میں نہیں دیکھا۔ اب جب اُس رات اسے دیکھا تو وہ ایک لکڑی کے سہارے لنگڑا کر چل رہا تھا۔ میرے سامنے ہی ایک سائیڈ سے موٹر سائیکل پر اسلام آباد پولیس کے دو اہلکار آئے اور کچھ دور سڑک کنارے کھڑے ہو گئے جہاں زیادہ روشنی نہیں تھی۔ سپاہیوں کو گداگر کو اشارہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی وہ خود ہی ان کی طرف چل پڑا۔ مزے کی بات ہے کہ اب وہ لنگڑانا بھول گیا تھا کیونکہ وہ ان سے بھیک مانگنے نہیں بلکہ انہیں کچھ دینے جا رہا تھا‘ لہٰذا اب اس کی چال میں اعتماد تھا کہ وہ بھی اپنی کمائی میں سے کسی کو بھیک دے سکتا ہے۔ اشارہ بند تھا لہٰذا میں دلچسپی سے سارا منظر دیکھنے لگا۔ پولیس اہلکاروں کے قریب جا کر اس بھکاری نے جیب سے پیسے نکالے اور ان سپاہیوں کو پکڑا دیے۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھے اہلکار نے بھکاری کے کندھے پر تھپکی دی اور پھر پیسے لے کر چلے گئے۔ وہ بھکاری اسی اعتماد سے واپس آیا اور دوبارہ لنگڑا بن کر مانگنے لگا۔ میں یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے سوچا کہ بھکاری بننے کے لیے انسان کو اپنی عزتِ نفس مارنا پڑتی ہے‘ ڈھیٹ ہونا پڑتا ہے‘کتنی دھتکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ کتنی باتیں اور گالیاں سننا پڑتی ہیں۔ مسلسل یہ سب کر کے ہی وہ مستند قسم کا بھکاری بن پاتا ہے۔ لیکن پولیس کی وردی پہن کر ہر چوک پر اپنے بھکاری کھڑے کر کے ان سے روزانہ جا کر اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے ان اہلکاروں کو کتنی محنت کرنا پڑی ہو گی؟ ایک بھکاری سے بھیک؟
بھکاری تو یہ سوچتا ہو گا کہ وہ امیروں سے مانگ رہا ہے مگر یہاں تو بھکاری سے بھیک مانگی جا رہی تھی۔ وہ سپاہی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہزاروں روپے تنخواہ لے رہے ہیں‘ عوام سے بھی مال بٹورتے ہیں اور وہ بھکاریوں سے بھی پیسے لیتے ہیں۔ ذہن میں رکھیں کہ یہ سب آپ کی حفاظت کے لیے تنخواہ لیتے ہیں۔ بھکاریوں سے بھتہ لینے والے افسران اور اہلکاروں نے ہمیں دہشت گردوں‘ قاتلوں‘ ڈاکوئوں اور راہزنوں سے بچانا ہے۔ ان کو کس نے اور کیا سوچ کر پولیس کی وردی پہنائی جو چوکوں پر بھکاری کھڑے کر کے ان سے حصہ لیتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں‘ کہاں سے آئے اور کیسے پولیس میں بھرتی کرا دیے گئے ہیں؟