"SG" (space) message & send to 7575

وزیراعظم کے دورۂ چین کے ثمرات

وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کا بنیادی مقصد تو چین میں منعقدہ پاک چین تعلقات کی پون صدی کی تقریبات میں شرکت کرنا تھا لیکن دیکھا جائے تو اس دورے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ اس لیے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان خلیج میں جنگ بندی کے لیے سرگرم تھا۔ جب وزیراعظم شہباز شریف چین کیلئے روانہ ہو رہے تھے تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران کے محاذ پر سرگرم تھے‘ جہاں انہوں نے ایرانی لیڈرشپ سے ملاقاتیں کرکے ثالثی کے عمل کو آگے بڑھانے اور مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے بنیادی کردار ادا کیا۔ تہران کا دورہ مکمل کر کے فیلڈ مارشل بھی بیجنگ روانہ ہو گئے جہاں بیجنگ کے گریٹ ہال میں چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ نے ان کا خصوصی خیر مقدم کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف چین میں معاشی سفارتکاری کی راہ پر گامزن نظر آئے۔ وزیراعظم نے چینی صدر اور وزیراعظم سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں اور چینی لیڈرشپ کو امریکہ‘ ایران مفاہمت اور مذاکراتی عمل کے حوالے سے پاکستانی کردار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایران معاہدہ مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امن بحال ہوگا اور خطے میں استحکام آئے گا۔ وزیراعظم سے ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے ساتھ اپنے سفارتی اور سٹرٹیجک تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان ناقابل شکست روایتی دوستی پر قائم ہیں اور چین پاکستان سے اپنے تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کے حوالے سے پاکستانی کردار کو سراہا اور کہا کہ پاکستانی کوششوں کے نتیجے میں امن واستحکام کی راہ ہموار ہو گی۔ چینی صدر کی جانب سے علاقائی محاذ پر پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کی تحسین پاکستان کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ یہ چین ہی تھا جس نے جنگ بندی کے بعد پاکستان کے ثالثی کردار کی تائید وحمایت کی تھی اور اس کو سراہا تھا۔
ماہرین کے مطابق چین بظاہر امریکہ ایران جنگ کے دوران زیادہ سرگرم نظر نہیں آ رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ چین ہی تھا جس نے گرین سگنل دیتے ہوئے پاکستان کو سفارتی اور ثالثی عمل میں ہر طرح کی مدد ومعاونت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اب جب تنائو کی جگہ ٹھہرائو نظر آ رہا ہے تو وزیراعظم چینی قیادت کو اپنی کوششوں‘ کاوشوں اور ثالثی عمل بارے بریف کرتے نظر آئے۔ گریٹ ہال کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی جنگ اور بحرانی کیفیت سے آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں ہم نے نیک نیتی سے مخلصانہ کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں فیلڈ مارشل کے فعال اور مثبت کردار کا بھی خصوصی ذکر کیا اور بتایا کہ وہ دونوں جانب مسلسل رابطے میں رہے اور اب بھی مذاکرات کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے سرگرم عمل ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر چینی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جو اس بات کی تصدیق وتائید ہے کہ چین پس پردہ رہ کر پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی کامیابی کیلئے سرگرم ہے۔ مذکورہ صورتحال کے پیش نظر ایک بات تو واضح ہے کہ چین نے امریکہ ایران جنگ کے دوران صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے بجائے ذمہ دارانہ اور خطے میں قیامِ امن کے حوالے سے کردار ادا کیا۔ اگر چین کی پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو چین عمومی طور پر تصادم کے بجائے مذاکرات‘ معاشی استحکام اور سفارتی توازن کی پالیسی پر زور دیتا ہے اور مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا نظر آیا ہے کہ ایران سے جوہری مسئلہ یا کشیدگی کا حل جنگ نہیں بلکہ افہام و تفہیم اور مذاکرات ہیں۔ بیجنگ نے ہمیشہ فریقین کو بات چیت کی طرف آنے کا مشورہ دیا۔ دیکھا جائے تو چین کی پالیسی خطے کے استحکام کے گرد گھومتی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے۔ بہت حد تک پاکستان کی بھی یہی پالیسی رہی‘ نہ صرف مثبت کردار ادا کر کے پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں کودنے سے بچایا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ عالمی تنازعات کا حل جنگ وجدل سے نہیں بلکہ افہام و تفہیم سے نکالا جاتا ہے۔ پاکستان نے اپنی مؤثر ثالثی سے اس کا ثبوت بھی فراہم کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی کیریئر کا جائزہ لیا جائے تو وہ سیاسی مخالفتیں پالنے کے بجائے ڈیلیور کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ خاص طور پر چین کی طرف دیکھتے اور ان کی محنت‘ جدوجہد اور لگن کا اعتراف کرتے ہیں۔ علاقائی محاذ پر بھی وہ چین کو ہر لحاظ سے ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چینی قیادت پاکستان کی معاشی ترقی میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی محنت اور تگ و دو کو سراہتی نظر آتی ہے۔ چینی حکام اور سرمایہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کو معاشی خود انحصاری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف نے اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف ملکی معیشت کو خطرناک زون سے نکالا بلکہ معیشت کا قبلہ درست کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا۔ حکومتی اصلاحات اور اقدامات کا معیشت کی بحالی میں کس قدر کردار ہے‘ اس پر تو دو آرا ہو سکتی ہیں لیکن بیشتر حلقوں کی یہ مشترکہ رائے ہے کہ وزیراعظم معاشی ترقی کے حوالے سے سنجیدہ ہیں اور پاکستان کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ دورۂ چین کے دوران وزیراعظم کی مصروفیات کا زیادہ حصہ مختلف چینی کمپنیوں کے دورے اور ان کے سی ای اوز سے ملاقاتوں پہ مبنی تھا۔ ژی جیانگ صوبے میں ڈیجیٹل معیشت‘ ای کامرس‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ ٹیلی کمیونیکیشن‘ زراعت‘ قابل تجدید توانائی‘ جدید صنعتکاری اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں ہونے والی ترقی پاکستان کیلئے بروئے کار لانے کا اعادہ کیا گیا۔ مذکورہ شعبہ جات میں تعاون اور ترقی کا یہ عمل سی پیک کو آگے بڑھانے اور اس کی نتیجہ خیزی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے دو اہم دستاویزات پر دستخطوں کی تقریب میں بھی شرکت کی جن میں ایک صوبہ پنجاب اور ژی جیانگ کے مابین مؤثر تعلقات کے قیام سے متعلق تھی جس کے تحت تجارت‘ سرمایہ کاری‘ زراعت‘ تعلیم‘ ثقافت‘ سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے ہانگژو نارمل یونیورسٹی اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے مابین 'چین پاکستان مشترکہ ریسرچ سنٹر‘ کے قیام سے متعلق دستاویز پر دستخطوں کی تقریب میں بھی شرکت کی جو تعلیمی تعاون‘ تحقیق اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر پاک چین روابط کو فروغ دے گی۔
چین تو بہت دیر سے پاکستان کی ترقی اور معاشی مضبوطی کا خواہاں رہا ہے اور یہ خود اس کے مفاد میں بھی ہے‘ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ترقی کے عمل میں وہ سنجیدگی نظر نہیں آتی جس کی یہ متقاضی ہے۔ دوسرا‘ ہم پاکستان میں ایسا ماحول پیدا نہیں کر سکے جس کے نتیجے میں یہاں ترقی وخوشحالی کا عمل آگے بڑھ سکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں سیاسی انتشار اور خلفشار ہے‘ جو ملک کو استحکام کی منزل پر لے جانے میں اصل رکاوٹ بنا رہا۔ جب تک پاکستان میں معاشی محاذ پر سنجیدگی قائم نہیں ہوتی اور سازگار ماحول نہیں بنایا جاتا‘ معاشی ترقی کا عمل نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا‘ لہٰذا پہلی ذمہ داری حکومت کی یہ ہے کہ وہ اس حوالے سے قومی ذمہ داری کا احساس کرے اور ایسی فضا قائم کرے جس میں معاشی ترقی کا عمل آگے بڑھ سکے۔ امریکہ ایران تنازع سلجھانے کی کاوش سے پاکستان کا سفارتی قد کاٹھ بلند ہوا ہے‘ پاکستان کے لیے کثیر معاشی امکانات جنم لے سکتے ہیں لیکن اس کیلئے پہلے اپنے ہائوس کو اِن آرڈر کرنا ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں