امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط جنگ اور پاک افغان کشیدگی کے بعد سفارتکاری کے میدان میں پاکستان کے چیلنجز نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت‘ جن میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار شامل ہیں‘ غیر معمولی طور پر متحرک نظر آتے ہیں اور ان کی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ انہیں موجودہ صورتحال کی نزاکت کا مکمل ادراک ہے۔ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے دوران ایک طرف براہِ راست سعودی قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں تو دوسری جانب خلیجی ممالک اور ایرانی قیادت سے مسلسل روابط اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے سنجیدہ سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ ایران کیجانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایران اس مؤقف پر قائم ہے کہ اگر اسکے خلاف ان اڈوں کو استعمال کیا گیا تو وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے اور ایران کے حوالے سے انکے تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں سعودی عرب‘ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان کسی بھی نوعیت کی کشیدگی پاکستان کے مفادات کیخلاف ہے کیونکہ پاکستان سبھی ممالک کیساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔
پاکستان مسلسل یہ کوشش کر رہا ہے کہ سعودی عرب‘ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان توازن پر مبنی پالیسی سامنے آئے تاکہ تمام فریق ایک دوسرے کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھ سکیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے شدہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کے دفاع کا ذمہ دار ہے۔ ایسے میں اگر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان پر سعودی عرب کی حمایت میں کھل کر سامنے آنے کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے جو حکومت کیلئے ایک مشکل سفارتی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں حکومتِ پاکستان نے اب تک ایک متوازن اور محتاط پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام فریقوں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ پاکستانی قیادت اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو اسکے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری کا بنیادی محور اس وقت کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی کوشش ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کی اہمیت میں واضح اضافہ ہوا ہے اور متعدد ممالک خطے میں بہتری کیلئے پاکستانی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اسکی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں اور امریکی قیادت نے بھی متعدد مواقع پر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب پاک افغان کشیدگی بھی پاکستان کیلئے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ اب چار روزہ جنگ بندی عمل میں آ چکی ہے مگر حالیہ کارروائیوں کے بعد افغان طالبان قیادت سخت دباؤ میں ہے اور اس نے بڑے ممالک سے پاکستان کے ساتھ ثالثی کی درخواست کی ہے۔ اس تناظر میں چین ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جبکہ قطر‘ ترکیہ اور سعودی عرب بھی اس حوالے سے کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے واضح اور دوٹوک ہے کہ جب تک افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانت فراہم نہیں کی جاتی‘ اس وقت تک اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں ملک کے امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہیں اور افغان قیادت اس حوالے سے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے جس کے نتیجے میں افغان قیادت کو دباؤ کا سامنا ہے۔
مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک طرف ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے تو دوسری طرف ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے‘ جبکہ تیسری جانب پاک افغان تنازع بھی جاری ہے۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر نہایت محتاط اور فعال سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو خارجہ پالیسی کیلئے ایک مثبت عنصر ہے۔ اسی طرح اپوزیشن سمیت دیگر سیاسی جماعتیں بھی ان معاملات میں ریاست کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں کیونکہ سب کو اس بات کا ادراک ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو اس کے اثرات داخلی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
پاکستان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فوری جنگ بندی ہو اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اسی طرح سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری بھی خطے کے استحکام کیلئے نہایت اہم ہے۔ اگرچہ ایران بھی کشیدگی میں کمی کا خواہاں دکھائی دیتا ہے‘ تاہم اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان خود کو ایک ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ خطے میں جنگ کے بجائے امن کو فروغ دیا جائے۔ سعودی قیادت بھی پاکستان کے کردار کو اہم سمجھتی ہے اور اس پر اعتماد کرتی ہے کہ وہ ایران کو سعودی عرب کے خلاف ایک حد سے آگے بڑھنے سے روکنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو پاکستان پر کسی ایک فریق کے ساتھ کھل کر کھڑے ہونے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے جو اس کیلئے ایک نازک صورتحال ہوگی۔
جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات بھی پاکستان کے لیے باعث تشویش ہیں۔ تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان جیسے ممالک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اس کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے اور کمزور معیشتیں زیادہ متاثر ہوں گی۔حالیہ دنوں میں آئل اور گیس تنصیبات پر حملوں سے ان خدشات میں مزید شدت آئی ہے۔ اگر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے، جس کا براہ راست اثر پاکستان پر ہوگا۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، درآمدی اخراجات میں اضافہ اور معاشی دباؤ پاکستان کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کرے۔ ترکیہ سمیت دیگر ممالک کیساتھ پس پردہ سفارت کاری بھی جاری ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ سعودی عرب کی سفارتی سرگرمیاں بھی اس حوالے سے اہم ہیں، جنہوں نے پاکستان کیساتھ قریبی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنگ سے بچنے کا واحد راستہ مؤثر سفارت کاری اور سیاسی حکمت عملی ہے اور پاکستان اسی راستے پر گامزن ہے۔
اگرچہ پاکستان کو اندرونی معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی سطح پر اس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کو جو سفارتی پذیرائی ملی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ علاقائی اور عالمی تنازعات میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان اپنی سفارتی حکمت عملی کو کس حد تک مؤثر بناتا ہے اور کس طرح ان پیچیدہ حالات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے امن کے فروغ میں کردار ادا کرتا ہے۔ اگر پاکستان اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ امر نہ صرف اس کی عالمی ساکھ کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں استحکام کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔