"SG" (space) message & send to 7575

مذاکرات میں تسلسل ناگزیر کیوں؟

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات اگرچہ کسی باضابطہ معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے لیکن انہوں نے ایک اہم پیغام ضرور چھوڑا ہے۔ میرے نزدیک ایران نے مذاکرات کی میز پر وہ کچھ حاصل کر لیاہے جو شاید وہ میدانِ جنگ میں بھی حاصل نہ کر پاتا۔ کئی برسوں سے امریکہ کو دنیا کی سب سے طاقتور ریاست سمجھا جاتا رہا ہے۔ کئی ممالک عموماً واشنگٹن کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت دباؤ محسوس کرتے ہیں مگر اسلام آباد میں جو منظر دیکھنے کو ملا وہ اس سے مختلف تھا۔ ایران نہ تو کمزور نظر آیا اور نہ ہی خوفزدہ دکھائی دیا۔ وہ پُراعتماد اور پُرعزم ملک کے طور پر سامنے آیا جو اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کیلئے تیار تھا۔ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکراتی عمل تقریباً 21گھنٹے تک جاری رہا‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کو اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب ایک سپر پاور اتنا وقت مذاکرات پر صرف کرے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ دوسرا فریق حقیقی اہمیت کا حامل ہے۔
ایک اور اہم پہلو ایران کا امریکی دباؤ کے آگے نہ جھکنا ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کرتا آ رہا ہے اور اسے ایک بڑا خطرہ تعبیر کرتا ہے‘ مگر ایران کیلئے یہ پروگرام محض طاقت کا نہیں بلکہ سلامتی کا معاملہ ہے۔ یورینیم کی محدود افزودگی کو وہ اپنے دفاعی حق کے طور پر دیکھتا ہے اسی لیے اس معاملے پر لچک دکھانے کیلئے تیار نہیں۔ وہ امریکہ یا اسرائیل کی خواہش پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے تحت معاہدہ کیلئے تیار ہے۔ اسی طرح خطے میں ایران کا اثر و رسوخ بھی ایک اہم معاملہ ہے‘ جسے امریکہ ایک چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ ایران اسے اپنی طاقت سمجھتا ہے۔ وہ اپنے کردار کو محدود کر کے ایک کمزور ریاست نہیں بننا چاہتا بلکہ ایک مؤثر علاقائی قوت کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن امور کو امریکہ اپنی ریڈ لائنز قرار دیتا ہے وہی ایران کے نزدیک اس کی اصل طاقت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان فاصلہ برقرار ہے۔ اس لیے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے کیونکہ کوئی بھی اپنے بنیادی مفادات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بغیر کسی معاہدے کے واپس جانا بھی واشنگٹن کی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے دباؤ اور سخت انتباہات پر انحصار کرتا آیا ہے مگر اس معاملے میں یہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ ایران نے صبر اور تسلسل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کیا اور یہ واضح کر دیا کہ محض دباؤ سے اسے جھکایا نہیں جا سکتا۔
دوسری جانب پاکستان کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان مذاکرات کی میزبانی کر کے پاکستان نے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں دونوں فریق کھل کر بات کر سکے۔ اسلام آباد نے ایسا ماحول مہیا کیا جس میں ایران خود کو ایک مضبوط اور برابر کے فریق کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہا۔ یہ پیش رفت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی حقیقت پر مبنی پالیسی کو دنیا پھر میں سراہا گیا۔تہران میں شکریہ پاکستان کی صدائیں بلند ہوئیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے نظر آئے۔یہ جذباتی ردعمل نہیں بلکہ مؤثر پالیسی اور حکمت علمی کا نتیجہ ہے۔اس وقت دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کردار صرف ایک وقتی سفارتی کامیابی تک محدود نہ رہے بلکہ اسے ایک مستقل پالیسی کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔ موجودہ حالات میں جب دنیا تصادم کے بجائے مذاکرات کی طرف دیکھ رہی ہے‘ پاکستان کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان مکالمے کی بحالی اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار مزید فعال بنائے۔
جہاں تک مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلے کا سوال ہے تو خارجہ امور کے ماہرین مذاکرات کے تسلسل کو ناگزیر قرار دیتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ بغیر کسی تاخیر کے جاری رہنا چاہیے۔ ویسے بھی عالمی سطح پر پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں یہ تحریک موجود ہے کہ پاکستان اس عمل کو آگے بڑھائے۔ حالیہ ہفتہ میں عالمی شخصیات خصوصاً جاپان‘ کینیڈا اور دیگر اہم ممالک کے ذمہ داران نے وزیراعظم شہبازشریف سے رابطہ کرکے جہاں جنگ بندی کے خاتمہ اور مذاکراتی عمل کے انعقاد پر پاکستانی کردار کی تعریف کی وہاں انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مذاکراتی عمل کو جاری رہنا چاہیے اور اسے نتیجہ خیز بنانا چاہیے۔ لہٰذا پاکستان اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے اور فریقین سمیت اہم ممالک کے ساتھ رابطوں میں ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے بھی امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کو جاری رکھتے ہوئے کسی حل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق برطانیہ سمجھتا ہے کہ جنگ بندی برقرار رکھنا ضروری ہے اور فریقین کو مزید کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک سابق مذاکرات کارایرون ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ایران امریکہ مذاکرات کی نتیجہ خیزی لازم ہے اور امریکہ کو سمجھنا چاہیے کہ ایران امریکہ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے جبکہ وہ اپنے جغرافیہ کو بھی بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نہ صرف آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے بلکہ اب اسے مؤثر انداز میں منظم بھی کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زمین حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مذاکراتی محاذ پر آگے بڑھا جائے۔ اس لیے مذاکراتی عمل کے حوالے سے دنیا بھر میں پیدا شدہ تحریک کو حوصلہ افزا اور پُرامید قرار دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس امر کاامکان موجود ہے کہ جلد ہی جنگ کے فریقین مذاکرات کی میز پر موجود ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا پر یہ خبریں آ رہی ہیں کہ مذاکرات کے دوسرا مرحلہ آئندہ ہفتہ متوقع ہے۔
اُدھر کچھ قوتیں اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت و حیثیت پر پریشان نظر آ رہی ہیں۔ پہلے پہل انہوں نے کوشش کی کہ مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار پر اثر انداز ہوا جائے جب ایسا ممکن نہ ہو پایا اور فریقین کشیدگی کی صورتحال میں بھی اسلام آباد پہنچ گئے اورانہوں نے اکثر نکات پر اتفاق کر لیا تو ان کے عزائم پر اوس پڑ گئی ۔ مذاکرات کا پہلا مرحلہ نتیجہ خیز نہ ہونے کے باوجود فریقین پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے دکھائی دیے۔ اور اب وہ قوتیں کوشاں ہیں کہ مذاکراتی عمل کا دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں منعقد نہ ہو کیونکہ ان سے یہ ہضم نہیں ہو رہا کہ عالمی میڈیا پر اسلام آباد مذاکرات اور پاکستان کے سفارتی کردار کا ڈنکا بج رہا ہے جبکہ فریقین بھی پاکستان کی تعریف کررہے ہیں۔ خارجہ امور کے ماہرین جہاں مذاکراتی عمل کے تسلسل پر زور دیتے نظر آ رہے ہیں وہاں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے پاکستان کا ایک بڑا اور ذمہ دارانہ کردار سامنے آیا ہے اور فریقین کو پاکستان کی ثالثی پر اعتماد ہے تو مناسب یہی ہوگا کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی اسلام آباد میں منعقد ہو۔دانشمندانہ حکمت عملی کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھایا جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے‘ ایسا پل جو محاذ آرائی کو مکالمے میں بدل دے۔ اسلام آباد مذاکرات نے جہاں ایران کی سفارتی برتری کو اجاگر کیا وہیں پاکستان کیلئے بھی ایک نئی راہ متعین کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس عمل کو وقتی کامیابی تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل سفارتی حکمت عملی میں ڈھالے تاکہ مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری رہے اور خطہ ایک پائیدار امن کی طرف بڑھ سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں