امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر جنگ مسلط کیے جانے سے پہلے بھی پاکستان میں عام آدمی شدید معاشی بحران کا شکار تھا‘ اس کی معاشی زندگی میں آسانیاں کم اور مشکلات بڑھتی جا رہی تھیں‘ وہ حکومت سے مطمئن نہیں تھا اور اس کا اعتماد بتدریج کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ تاہم امریکہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی سطح پر جو معاشی بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی اس کے منفی اثرات پاکستان میں پوری شدت کے ساتھ محسوس کیے جا رہے ہیں اور ان اثرات نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے لیکن اس اضافے کے اثرات ہمہ گیر ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف بجلی مزید مہنگی ہونے کا خدشہ بڑھا ہے بلکہ مہنگائی کی ایک نئی اور شدید لہر بھی جنم لے چکی ہے۔ حکومت کے مطابق وہ کوشش کررہی ہے کہ ان غیرمعمولی حالات میں عام آدمی پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے‘ کفایت شعاری مہم کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بتایا جاتا ہے اور حالیہ دنوں پٹرول کی قیمتوں کو 458روپے فی لٹر تک بڑھا کر پھر اس میں 80 روپے فی لٹر کی کمی بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ تاہم عوام میں بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے اور یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کشیدگی کم نہ ہوئی تو ملک میں معاشی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں خوراک کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے‘ جس نے ترسیل کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ پاکستان اور اس جیسے دیگر ممالک‘ جو پہلے ہی سیاسی اور معاشی کمزوریوں کا شکار تھے‘ اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حکمران ان حالات سے نمٹنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کیونکہ نہ صرف ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ عوامی تنقید میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کیلئے سخت اور غیرمقبول فیصلے ناگزیر ہیں‘ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی اشرافیہ ان فیصلوں سے گریزاں ہے۔ حکومتی اور بیوروکریسی کی سطح پر شاہانہ طرزِ حکمرانی میں وہ کمی نظر نہیں آ رہی جو وقت کا تقاضا ہے۔ وزیراعظم کے کفایت شعاری کے اعلان پر بھی مکمل اور مؤثر عملدرآمد نظر نہیں آ رہا جبکہ صوبائی سطح پر بھی کارکردگی میں واضح خلا دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب میں مریم نواز بطور وزیراعلیٰ سرگرم دکھائی دیتی ہیں‘ جنہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کو عارضی طور پر مفت کرنے اور موٹر سائیکل سواروں کیلئے پٹرول پر سبسڈی دینے جیسے اقدامات کا اعلان کیا‘ مگر ان فیصلوں پر عملدرآمد کی رفتار اور ان کے مؤثر ہونے پر اب بھی سوالیہ نشان ہے۔
موجودہ حالات میں اصل مسئلہ ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور معاشی عدم استحکام ہے‘ جو خصوصاً نوجوانوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ حکومت کے پاس روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت محدود ہے جبکہ روزگار کے موجود مواقع بھی سکڑتے جا رہے ہیں۔ بیروزگار نوجوان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور جو برسرِ روزگار ہیں وہ بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ یہ نوجوان کہاں جائیں اور کس پر اعتماد کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نظامِ حکمرانی کا سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔ بدقسمتی سے نہ بڑے پیمانے پر صنعتیں لگ رہی ہیں اور نہ ہی چھوٹے کاروبار کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں انہیں بھی بیوروکریٹک رکاوٹوں اور غیر یقینی پالیسیوں کا سامنا ہے۔ حکومتی سطح پر معاشی پروگرام تو سامنے آتے ہیں مگر وہ اکثر و بیشتر بدعنوانی اور ناقص عملدرآمد کی نذر ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت پاکستان کو مختلف شعبوں میں ہمہ گیر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے بارہا اس پر زور دے چکے ہیں کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی اصلاحات کے بغیر پاکستان معاشی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مگر ہمارا کمزور اور غیرمستحکم سیاسی نظام ان اصلاحات کیلئے درکار سنجیدگی اور تسلسل کا مظاہرہ نہیں کر پا رہا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ حکومتی ترجیحات میں عام آدمی کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ نظامِ حکومت بظاہر طاقتور طبقات کے مفادات کا زیادہ تحفظ کرتا نظر آتا ہے جبکہ کمزور اور متوسط طبقہ خود کو نظر انداز محسوس کر رہا ہے۔ مسئلہ کسی ایک حکومت کا نہیں مجموعی نظام کا ہے‘ جو اپنی افادیت کھورہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سنجیدہ اور عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو حقیقی معاشی ریلیف فراہم کیا جائے۔ سیاسی استحکام معاشی ترقی کیلئے بنیادی شرط ہوتا ہے مگر پاکستان میں نہ تو سیاسی نظام مستحکم ہے اور نہ ہی پالیسیوں میں تسلسل پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے بیرونی جنگیں ختم بھی ہو جائیں‘ داخلی مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریاں معاشرتی بے چینی اور انتہا پسندی کو بھی ہوا دے رہی ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم چین کے تجربات سے سیکھیں‘ جنہوں نے دیر پا منصوبہ بندی‘ تسلسل اور مؤثر عملدرآمد کے ذریعے غربت میں کمی اور معاشی استحکام حاصل کیا ہے۔
مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے بلکہ قوتِ خرید بھی محدود ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انصاف کی عدم فراہمی بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے کیونکہ کمزور طبقہ خود کو انصاف سے محروم محسوس کرتا ہے۔ سیاسی‘ عدالتی اور معاشی اصلاحات کا فقدان مجموعی طور پر جمہوری نظام کو غیرمؤثر بنا رہا ہے۔ جمہوری نظام اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے اور ان کا اعتماد حاصل کرے مگر موجودہ حالات میں یہ اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ آئین بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے مگر جب یہ حقوق عملی طور پر میسر نہ ہوں تو ریاست اور عوام کے درمیان تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔ اعتماد دو طرفہ عمل ہے‘ جو اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب نظام عوام کے ساتھ کھڑا ہو اور ان کے مسائل کے حل میں سنجیدہ نظر آئے۔ ضروری ہے کہ حکمران طبقہ اپنی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرے اور عوام دوست حکمت عملی اپنائے۔ عوام اور حکمرانوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔ جب تک یہ اعتماد بحال نہیں ہو گا نہ سیاسی نظام مستحکم ہو گا اور نہ ہی معیشت ترقی کرے گی۔ عوام کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ حکمران ان کے مسائل سے آگاہ ہیں اور ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ عوام کو نئے مواقع فراہم کیے جائیں اور حکمران خود بھی قربانی کی مثال قائم کریں۔ کفایت شعاری کی مہم اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہے جب حکمران اور عوام شریک ہوں۔ اگر عوام سے قربانی کا تقاضا کیا جاتا ہے تو حکمرانوں کو بھی عملی طور پر سادگی اور کفایت شعاری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
صوبائی حکومتوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ذمہ داری کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈالا جاتا ہے‘ جس سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کی کمزوری بھی عوامی مسائل میں اضافے کا باعث ہے۔ اگر مقامی حکومتیں مضبوط ہوں اور انہیں سیاسی‘ انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوں تو عوام کو نچلی سطح پر بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ خصوصاً پنجاب میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی ایک بڑا خلا ہے جبکہ دیگر صوبوں میں بھی مقامی ادارے مکمل خودمختاری سے محروم ہیں‘ جس کی وجہ سے وہ مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے۔پاکستان کو اپنے گورننس کے ڈھانچے میں بنیادی اور پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان اصلاحات کا مرکز عام آدمی ہونا چاہیے تاکہ اس کی زندگی میں حقیقی بہتری آ سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ریاست اور عوام کے درمیان کمزور ہوتا ہوا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔