"SG" (space) message & send to 7575

معرکۂ حق، پس منظر اور اثرات

تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ حق اور باطل کی جنگ ازل سے جاری ہے۔ کبھی یہ جنگ میدانِ بدر میں لڑی گئی‘ کبھی کربلا کے ریگزار میں‘ اور کبھی یہ معرکہ الفاظ‘ نظریات اور ریاستی بیانیوں کی صورت میں سامنے آیا۔ معرکۂ حق محض ایک فکر نہیں بلکہ ایک جدوجہد اور ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔
پاکستان کے تناظر میں یہ معرکہ اس لیے اہم ہے کہ جب گزشتہ برس پہلگام فالس فلیگ کی صورت میں بھارت کی جارحیت پر مبنی حکمتِ عملی اور دہشت گردی کے فروغ کی کوششیں تیز ہوئیں اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو چیلنج کیا گیا تو بھارت کی جانب سے کئے گئے اشتعال انگیز اقدامات کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کو ایسا دندان شکن جواب دیا جس کے بعد بھارت کی بدمعاشی خاک میں مل گئی اور اسے پوری دنیا میں خجالت کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی متعدد مواقع پر اپنے بیانات میں بھارتی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستان کی دفاعی تاریخ میں درخشاں باب ''بنیانٌ مرصوص‘‘ علاقائی طاقت کے توازن میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ پاکستانی افواج نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کی اور اقوامِ عالم میں ایک مضبوط اور باوقار عسکری طاقت کے طور پر ابھریں۔ افواجِ پاکستان نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور زمین‘ سمندر اور فضا میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ صرف ایک فوجی فتح نہیں بلکہ علاقائی طاقت کے توازن میں ایک فیصلہ کن پیش رفت تھی۔ معرکۂ حق نے قومی اتحاد‘ عزم اور جوش و ولولے کو بھی نئی جِلا بخشی۔ افواجِ پاکستان نے اس معرکے میں علاقائی سالمیت کا کامیاب دفاع کرتے ہوئے حب الوطنی‘ اتحاد اور قومی شناخت کے جذبے کو ازسرِ نو بیدار کیا۔ اقوامِ عالم میں پاکستان کے اصولی مؤقف اور افواجِ پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔
ملکی سطح پر اگر جائزہ لیا جائے تو گزشتہ چند برسوں میں سیاسی تقسیم‘ معاشی بحران اور اداروں کے درمیان تناؤ نے ایک غیریقینی فضا پیدا کر دی تھی۔ عوام مہنگائی‘ بیروزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے پریشان تھے جبکہ سیاسی قیادت باہمی کشمکش میں الجھی ہوئی تھی۔ ایسے میں معرکۂ حق نے قوم کو ایک نکتے پر لا کھڑا کیا اور اجتماعی وحدت کو تقویت دی۔ اس کامیابی کے پس منظر میں عسکری قیادت کا کردار خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے تدبر اور بصیرت کے ساتھ اس معرکے کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ فضائی اور بحری افواج کے سربراہان کی پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی نے اس کامیابی کو یقینی بنایا۔ اسی طرح سیاسی قیادت نے بھی قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے داخلی استحکام‘ سفارتی محاذ اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم ذمہ داری نبھائی جبکہ وزارتِ خارجہ نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا اور سفارتی محاذ پر ملک کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ معرکۂ حق کے اثرات محض عسکری کامیابی تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے قومی سطح پر ایک نئی روح پھونک دی۔ حب الوطنی‘ اتحاد اور قومی شناخت کا جذبہ ازسرِ نو بیدار ہوا۔ سیاسی تقسیم اور معاشی مشکلات کے باوجود قوم ایک بیانیے پر متفق نظر آئی۔ یہ معرکہ اس حقیقت کا مظہر بن گیا کہ جب قومی سلامتی کا سوال ہو تو پاکستانی قوم ہر اختلاف سے بالاتر ہو کر متحد ہو جاتی ہے۔ معرکۂ حق کوئی لمحاتی جنگ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے‘ اور اس میں کامیابی کے لیے عام آدمی کا ریاست‘ ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے ساتھ کھڑا رہنا ناگزیر ہے۔ قوموں کی تاریخ میں ایسے ادوار آتے ہیں جب جنگیں سرحدوں پر نہیں بلکہ بیانیوں کی صورت میں ملک کے اندر گھس کر لڑی جاتی ہیں۔ پاکستان اس وقت ایسے ہی ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں معرکۂ حق بندوق اور بارود سے زیادہ الفاظ‘ اطلاعات اور نظریات کے میدان میں جاری ہے۔ یہ معرکہ محض سیاسی کشمکش نہیں بلکہ ریاستی بقا‘ قومی شناخت اور عوامی شعور کی جنگ بن چکا ہے۔
پاکستان کا معرکۂ حق ابھی ختم نہیں ہوا‘ یہ جاری ہے اور اب اس کا اصل میدان ذہن اور شعور ہے۔ اگر قوم متحد رہی‘ سچ کو پہچانا اور ریاستی استحکام کو ترجیح دی تو یہ معرکہ سر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم تقسیم‘ غلط معلومات اور ذاتی مفادات کا شکار ہو گئے تو یہ کامیابیاں عارضی ثابت ہو سکتی ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے شعور اور اتحاد سے فتح یاب ہوتی ہیں۔ افواجِ پاکستان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت‘ عزم اور جذبے کے ساتھ خدا اور عوام کی عدالت میں سرخرو ہو چکی ہیں۔ دنیا بھر میں یہ پیغام جا چکا ہے کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے خود انحصاری کی منزل کی جانب گامزن ہے اور اب کسی بھی جارحیت سے قبل دشمن کو سو بار سوچنا پڑے گا۔
معرکۂ حق میں تاریخی کامیابی کی صورت میں 10 مئی 2025ء سے شروع ہونے والی کامیابیوں کا تسلسل ابھی ختم نہیں ہوا۔ رواں برس جب ایران امریکہ جنگ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا‘ عالمی امن کو خطرات لاحق ہوئے اور عالمی معیشت خصوصاً پٹرولیم کی قیمتوں پر اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے‘ ایسے میں یہ واضح نہیں تھا کہ جنگ بندی کیسے ممکن ہوگی۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے نیک نیتی اور امن کے ساتھ وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کی کوششوں کا آغاز کیا۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ متحارب قوتیں جہاں ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف آپشنز استعمال کر رہی تھیں‘ وہیں انہوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ پاکستان کی ان کوششوں کو چین‘ سعودی عرب اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک کی حمایت حاصل رہی۔ چین کے ترجمان نے واضح طور پر جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اس کے ثالثی کردار کی تائید کی۔ پاکستان نے بظاہر ناممکن کو ممکن بناتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ وہ عمل تھا جسے عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور بین الاقوامی میڈیا نے بھی پاکستان کے اس کردار کو سراہا۔ ماہرینِ عالمی امور کے مطابق پاکستان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اسے امریکی قیادت تک رسائی حاصل تھی جبکہ ایرانی قیادت بھی علاقائی سطح پر اس پر اعتماد کرتی نظر آئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ایک بالواسطہ مگر اہم کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے‘ جہاں وہ غیر جانبدار حیثیت برقرار رکھتے ہوئے سہولت کار اور ثالث دونوں کی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اور سوائے بھارت کے‘ پوری دنیا اس کردار کی معترف نظر آتی ہے۔ تاہم پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج معیشت کا ہے۔ بدقسمتی سے ہم تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی معاشی استحکام حاصل نہیں کر سکے اور معیشت اب بھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔ ہمارا زیادہ تر انحصار قرضوں پر ہے اور ہم ترقی کے بجائے قرضوں کے حصول کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ یہ صورتحال سیاسی اور عسکری قیادت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عمومی رائے یہی ہے کہ اگر معاشی میدان میں سنجیدگی اختیار کی جائے تو علاقائی اور عالمی سطح پر سازگار حالات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے حکومت کو مؤثر پالیسی سازی اور انتظامی اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی تاکہ معیشت کو درست سمت دی جا سکے۔ بلا شبہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال‘ دفاعی اعتبار سے مضبوط ہے اور عالمی سطح پر اس کی آواز سنی جا رہی ہے لیکن جب تک ہم کشکول توڑ کر خود انحصاری اور وقار کے ساتھ جینے کا عزم نہیں کریں گے معاشی استحکام حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا معرکۂ حق کی سالگرہ مناتے ہوئے ضروری ہے کہ ہم اپنی توجہ معیشت کی بہتری پر بھی مرکوز کریں کیونکہ معاشی خودمختاری کے بغیر عالمی سطح پر عزت و وقار کا حصول ممکن نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں