"SG" (space) message & send to 7575

اسلام آباد میں چار فریقی اہم بیٹھک

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے تناظر میں اور امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کاوشیں عروج پر ہیں اور اس ضمن میں اہم ممالک کی لیڈر شپ سے روابط اور امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتے میں اسلام آباد میں منعقدہ مشاورتی نشست کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں پاکستان کے ساتھ سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس پر اتفاق کیا کہ کشیدگی کے خاتمے‘ تصادم کے خطرات کو محدود کرنے اور بامعنی مذاکرات کیلئے ساز گار ماحول پیدا ہونا چاہیے۔ یہی وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس عمل کو آگے بڑھانے کیلئے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق خود مختاری اور علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ مذکورہ نشست کو باہمی دلچسپی کے کثیر جہتی شعبوں میں ان ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعاون اور ہم آہنگی کو مستحکم کرنے کا ایک موقع بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے بعد پاکستان ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور اسلام آباد متحارب فریقین کے مابین پیغامات کے تبادلے اور رابطے کا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ متحارب ممالک کے ساتھ روابط کا یہ سلسلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کشیدگی کے خاتمے کیلئے سرگرم ہے۔ پاکستان کا یہ کردار ماضی کی پالیسیوں کا تسلسل ہے جہاں اس نے ہمیشہ مسلم دنیا میں اتحاد اور تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں کی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کی کوششیں پاکستان کی منفرد سفارتی حیثیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا کی نظریں اسلام آباد کی طرف لگی ہیں اور پاکستان کے اس کردار کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔
جہاں تک عالم اسلام کے چار اہم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس اور اس کی نتیجہ خیزی کا سوال ہے تو ان کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر تفصیلی بات چیت ہوئی جس میں طے پایا کہ خطے میں جاری تنازعات کو ڈائیلاگ کے ذریعہ حل کرنے کیلئے سب اپنا اپنا کردار ادا کریں گے اور کشیدگی کے اس عمل کا مستقل بنیادوں پر سدباب کیا جائے گا۔ مذکورہ اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شرکا کو دی جانے والی تفصیلی بریفنگ میں پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے رابطوں پر مذکورہ ممالک کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں حوصلہ افزا نتائج مل رہے ہیں اور پاکستان کشیدگی کے خاتمے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد کے اس مثبت کردار کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ ڈائیلاگ کا یہ عمل امن و امان کی بحالی اور علاقائی استحکام میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اس ضمن میں امریکی لیڈر شپ سے بھی رابطوں میں ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کشیدگی کے خاتمہ کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ امریکہ اور ایران کی لیڈر شپ نے کشیدگی کے خاتمہ کیلئے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم آنے والے دنوں میں بامقصد مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہے ہیں۔ مذکورہ اجلاس میں چین سے روابط اور اس کے مثبت کردار سے متعلق بھی شرکا کو بریف کیا گیا اور بتایا گیا کہ چین بھی یہ چاہتا ہے کہ معاملات کو تنائو اور ٹکرائو سے نکال کر افہام و تفہیم کی طرف لایا جائے اور بات چیت ہی خطہ میں امن و استحکام کا باعث بنے گی۔وزرائے خارجہ کی اس نشست سے قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مذکورہ ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور ان کوموجودہ تنائو میں ایران کے کردار کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔ وزرائے خارجہ کو بریف کیا گیا کہ اس تنائو میں ایران بھی پُرامن حل کا حامی ہے لیکن وہ یہ چاہتا ہے کہ مسئلے کا حل مستقل بنیادوں پر ہو‘ اور جارحیت کے عمل کو رُکنا چاہیے۔ سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم نے دوست ممالک کے وزرائے خارجہ کو امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار سے آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ جنگی صورتحال مسائل کے حل کے بجائے ان کے پھیلائو کا باعث بنتی ہے جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے مسلم اُمہ کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے سعودی عرب سے اپنے جذباتی تعلقات کا حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوگا اور امن کیلئے تمام ممکنہ کوششیں جاری رکھے گا۔
چار فریقی وزرائے خارجہ نشست کو خطے میں تنائو کے خاتمے کیلئے ایک سنجیدہ نشست قرار دیا جا سکتا ہے۔ ماہرین اس نشست کو سفارتی محاذ پر ایک اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاشبہ مذکورہ اجلاس خلیجی بحران کو فوری ختم نہیں کر پائے گا لیکن اس کے مثبت اثرات ضرور سامنے آئیں گے۔ پاکستان جو امن و استحکام کیلئے سرگرم ہے‘ اس کی کوششیں اس لیے کامیابی سے جاری ہیں کہ پاکستان اس سارے عمل میں فریق بننے کے بجائے ایک غیر جانبدارانہ کردار ادا کر رہا ہے اور بطور ثالث اس کی اہمیت بنی ہے۔ اس کا بڑا ثبوت اس کی فریقین تک رسائی ہے۔جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ کیا خلیج میں جاری بحران ختم ہو سکتا ہے اور جنگ بندی عمل میں آ سکتی ہے تو اس حوالے سے حتمی بات اس مرحلہ پر نہیں کی جا سکتی لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بڑے پیمانے پر ہونیوالی سفارتی سرگرمیاں اور پاکستان کی جانب سے ادا کیے جانیوالے مصالحانہ کردار کے مثبت اثرات ضرور سامنے آئیں گے کیونکہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور معاشی بحران کے اثرات ہر سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔عام تاثر یہی ہے کہ جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو کوئی بھی ملک اس تنازعے کے اثرات سے نہیں بچ پائے گا۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران براہِ راست مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنتے تو جنگ بندی کے حوالے سے فیصلہ کن پیشرفت ممکن نہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے ۔ اگر علاقائی صورتحال پر نظر دوڑائی جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سعودی عرب ایران کے اثرو رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ ترکیہ ایک متوازن پوزیشن رکھتا ہے جبکہ مصر عرب ممالک کا حصہ بن کر کھڑا ہے۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کا کردار اس لیے زیادہ اہم ہے کہ وہ عالم اسلام میں اتحاد و یکجہتی کیلئے سرگرم ہے اور یہ اعزاز پاکستان ہی کا ہے کہ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد وہ پہلا ملک تھا جس نے اس امریکی اور اسرائیلی حملے کی نہ صرف مذمت کی بلکہ مسئلہ کے حل کیلئے مذاکرات کے آپشن کو بروئے کار لانے پر زور دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی لیڈر شپ نہ صرف پاکستان کی بلکہ پاکستانی لیڈر شپ کی بھی شکرگزار نظر آتی ہے اور پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار بھی کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ وزرائے خارجہ کی نشست سے جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کیلئے مشترکہ پیغام سامنے آیا ہے۔ اس سے ڈائیلاگ کے عمل کو فروغ ملے گا اور ڈپلومیسی فروغ پائے گی۔ پاکستان کے حوالے سے مذکورہ نشست اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کا کردار Bridge Stateکے طور پر سامنے آیا ہے اور اس کی تگ و دو سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اگر ایک طرف جنگی صورتحال طاری ہے تو دوسری طرف کشیدگی کے خاتمے کیلئے سرگرمیاں بھی نظر آ رہی ہیں۔ اس ضمن میں اصل پیشرفت کب ہو گی؟ جب بڑی طاقتیں نرم پڑیں گی! پاکستان کی کامیابی اس محاذ پر اس لیے ممکن ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب سے تاریخی و مذہبی تعلقات ہیں جبکہ ایران کیساتھ ہمسائیگی کا مستقل تعلق ہے۔ پاکستان کی جانب سے اختیار کیے جانیوالے متوازن بیانیے نے پاکستان کیلئے اعتماد کا پُل بننے کی راہ ہموار کی ہے اور اب تک کی سفارتی حکمت عملی اس لیے کامیاب ہے کہ پاکستان کھل کر نہیں بلکہ خاموشی سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور اسے ایک غیر توسیع پسند ملک سمجھا جاتا ہے اور یہی کردار پاکستان کا اصل سرمایہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں