بجٹ یا عوام کیلئے سالانہ چارج شیٹ

ایک بادشاہ کا قصہ ہے کہ اس نے محل کے سامنے کارندے بٹھا دئیے کہ جو بھی گزرے اس سے محصول لیا جائے۔ رعایا نے شور کیا تو بادشاہ نے کہا ملک چلانا ہے۔ پھر اس نے کنوؤں پر ٹیکس لگا دیا‘ بازار میں اشیا پر ٹیکس لگا دیا‘ راستوں پر ٹیکس لگا دیا۔ ایک دن وزیرِ خاص نے پوچھا: حضور! رعایا پریشان ہے‘ ان کے گھروں میں کھانے کو کچھ نہیں۔ بادشاہ نے کہا: چھوڑو‘ محل تو آباد ہے۔ ہماری کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ یہاں حکومتیں ہر سال بجٹ نہیں بناتیں رعایا پر تاوان عائد کرتی ہیں۔ فرانز کافکا نے کہا تھا‘ بعض نظام ایسے ہوتے ہیں جن میں آدمی جرم جانے بغیر سزا کاٹتا ہے۔ ہمارے ملک کے عام شہریوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔بجلی ‘گیس‘ پٹرول اور اشیائے خورونوش کی مہنگائی ان کا مقدر بن چکی ہے اور ہر بحران کی قیمت انہی کی جیبوں سے نکالی جاتی ہے۔ وہ بینکوں سے قرضے لے کر معاف نہیں کراتے‘ ٹیکس ایمنسٹی سکیموں سے کالا دھن سفید نہیں کرتے‘ جعلی کمپنیوں کے ذریعے پیسہ باہر نہیں بھیجتے‘ سرکاری ٹھیکوں میں کمیشن نہیں کھاتے‘ چینی اور آٹے کی امپورٹ‘ ایکسپورٹ کا کھیل نہیں کھیلتے‘ مگر ہر بجٹ میں سزا اُنہی کے نام لکھی جاتی ہے۔ وہ نہ سرکاری پروٹوکول میں چلتے ہیں‘ نہ بلٹ پروف گاڑیوں میں‘ نہ مفت بجلی لیتے ہیں‘ نہ مفت پٹرول‘ نہ سرکاری پلاٹ‘ نہ بیرونِ ملک علاج‘ نہ مراعات یافتہ پنشن لیتے ہے۔ پھر بھی جب کبھی ملک معاشی تنگی کا شکار ہوتا ہے تو سب سے پہلے انہی کی قوتِ خرید پر زد پڑتی ہے‘ انہی کے بچوں کی فیس‘ دوائی‘ بجلی اور خوراک پر ٹیکس بڑھایا جاتا ہے۔ طاقتور کے لیے سو طرح کے قانونی راستے نکل آتے ہیں مگرکمزور کیلئے صرف بِل نکلتے ہیں۔ یہاں اشرافیہ بحران میں بھی مراعات لیتی ہے اور عام آدمی استحکام کے نام پر اپنی زندگی گروی رکھ دیتا ہے۔ موبائل بیلنس پر ٹیکس‘ پٹرول پر ٹیکس‘ بجلی اور گیس پر ٹیکس۔ دودھ‘ چینی‘ آٹا‘ چائے‘ صابن‘ کپڑا‘ جوتی‘ دوا‘ ہر چیز پر ٹیکس۔ عوام حکومت کو کئی طرح کے ٹیکس دیتے ہیں‘ تنخواہ دار طبقہ تو براہِ راست ٹیکس دیتا ہے‘ صارف ہر خریداری پر سیلز ٹیکس دیتا ہے‘ گاڑی والا پٹرولیم لیوی دیتا ہے‘ بجلی صارف سرچارج‘ فیول ایڈجسٹمنٹ اور ڈیوٹیز دیتا ہے‘ موبائل صارف وِد ہولڈنگ ٹیکس دیتا ہے‘ کسان کھاد‘ ڈیزل‘ بجلی اور مشینری پر ٹیکس دیتا ہے‘ مگر پھر بھی حکومت کہتی ہے عوام کم ٹیکس دیتے ہیں۔ حالانکہ گزشتہ چار سال میں ایف بی آر نے 34 ہزار 367ارب روپے کے قریب وصولی کی‘ 11 ہزار ارب روپے نان ٹیکس ریونیو‘ 560 ارب روپے رائلٹیز اور فیسوں سے حاصل کیے۔ قرضے الگ! مجموعی طور پر تقریباً 78 ٹریلین روپے ریاست کے ہاتھ آئے لیکن اس عرصے میں اخراجات 105ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ قرضوں کے سود پر تقریباً 34ٹریلین روپے خرچ ہوئے۔ پنشن پر چار ٹریلین سے زائد‘ حکومتوں کے اخراجات پانچ ٹریلین کے قریب‘ سبسڈیز چار ٹریلین اور سرکاری اداروں کے خساروں پر 6.6 ٹریلین روپے کھپ گئے۔ یہ ملک غریب نہیں‘ خرچ کرنے والے بے رحم ہیں۔ یہ خزانہ خالی نہیں‘ نیت کھوٹی ہے۔
دنیا نے ترقی کیسے کی؟ جنوبی کوریا نے جنگ کے بعد تعلیم‘ صنعت‘ برآمدات اور ٹیکنالوجی کو قومی نصب العین بنایا۔ سنگاپور نے بندرگاہ‘ قانون‘ میرٹ اور شفاف انتظامیہ کو بنیاد بنایا۔ ملائیشیا نے صنعت و زراعت کو جوڑا۔ چین نے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا کیونکہ اس نے پیداوار کو نعروں پر ترجیح دی۔ ویتنام نے جنگ کے ملبے سے ایک برآمدی معیشت کھڑی کر دی۔ وہاں حکمرانوں نے قوم کو نعرے نہیں بیچے‘ قوم کو پیداوار کا حصہ بنایا۔ اور ہم! ہم نے قرض کو پالیسی‘ ٹیکس کو اصلاحات‘ مہنگائی کو استحکام اور عوام کی چیخوں کو عارضی مشکلات کا نام دیا۔ یہاں حکمران عوام کیلئے نہیں جیتے۔ یہ اپنے لیے جیتے ہیں‘ اپنے خاندان کیلئے‘ اپنی جماعت کیلئے‘ اپنی اشرافیہ کیلئے‘ اپنے کلب کیلئے‘ اپنے پروٹوکول کیلئے۔ عالیشان سرکاری گھر‘ بڑی گاڑیاں‘ سرکاری پٹرول‘ محافظوں کے قافلے‘ پروٹوکول کی دھول‘ ایئرکنڈیشنڈ اجلاس‘ فائلوں میں ترقی‘ تقریروں میں خوشحالی‘ اور زمین پر عام آدمی کی ٹوٹی کمر۔ مجال ہے کسی نے غریب کیلئے دل سے آواز اٹھائی ہو۔ یہاں ہر ایک کو اپنی پڑی ہے۔ کوئی اگلی پوسٹنگ بچا رہا ہے‘ کوئی اگلا ٹکٹ‘ کوئی اگلا ٹھیکہ‘ کوئی اگلی الاٹمنٹ‘ کوئی اگلی مراعات۔
پنجاب کی بات کریں تو کاغذوں میں ترقی کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ ہر رپورٹ میں منصوبے‘ ہر پریزنٹیشن میں اصلاحات‘ ہر پریس ریلیز میں عوامی خدمت۔ مگر غریب کا سوال وہی ہے ہسپتال میں دوا کہاں ہے؟ سرکاری سکول میں استاد کہاں ہے؟ صاف پانی کہاں ہے؟ بجلی کا بل کیسے دوں؟ اگر سب کچھ بہتر ہے تو زندگی اتنی مشکل کیوں ہے؟ سندھ میں عشروں سے ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ کراچی ملک کا معاشی دل ہے مگر نالے‘ پانی‘ ٹرانسپورٹ‘ کچرا اور شہری سہولتیں آج بھی سیاست کی یرغمال ہیں۔ اندرون سندھ غربت کو ووٹ بینک بنایا گیا ہے‘ علاج کو احسان‘ نوکری کو سفارش اور ترقی کو نعرہ۔ وہاں بھی عوام کا نام بہت لیا جاتا ہے‘ عوام کو دیا کم جاتا ہے۔ ان طرم خان سیاستدانوں کے بیانات سنیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں مگر حقائق یکسر مختلف ہیں۔ مسائل کے انبار ہیں اور کوئی پرسانِ حال نہیں۔ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے نام پر کئی تجربے ہوئے۔ دعوے بہت ہوئے مگر صوبہ قرض‘ سکیورٹی‘ کمزور ریونیو اور ادارہ جاتی مسائل میں پھنسا ہوا ہے۔ عوام نے نعرے سنے مگر روزگار اور بنیادی سہولتوں کی کمی اپنی جگہ کھڑی رہی۔ بلوچستان تو جیسے ریاستی ترجیحات میں کبھی تھا ہی نہیں۔ معدنیات وہاں کی‘ ساحل وہاں کے‘ محرومیاں وہاں کی اور وعدے اسلام آباد کے۔ ہر بجٹ میں بلوچستان کیلئے بیانات ہوتے ہیں مگر بلوچستان کو بیانات سے زیادہ انصاف چاہیے۔ وفاق سب کو لیکچر دیتا ہے مگر اپنے اخراجات کم نہیں کرتا۔ صوبے وفاق کو الزام دیتے ہیں مگر اپنے اندر اشرافیہ کم نہیں کرتے۔ سب ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اس سب کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے کبھی نہیں کہا کہ بجلی چوروں کو مت پکڑو۔ آئی ایم ایف نے نہیں کہا کہ سمگلنگ جاری رکھو۔ آئی ایم ایف نے نہیں کہا کہ ہول سیل‘ ریٹیل‘ طاقتور صنعتکار‘ زراعت اور بااثر طبقات کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ یہ سب ہمارے اپنے فیصلے ہیں۔ ہم کمزوروں سے وصولی اور طاقتوروں سے مفاہمت کرتے ہیں۔
بجٹ آئندہ چند روز میں آیا چاہتا ہے۔ پھر کہا جائے گا کہ مشکل فیصلے ناگزیر تھے‘ مگر مشکل فیصلے ہمیشہ عوام کیلئے ہی ناگزیر کیوں ہوتے ہیں؟ کبھی کسی حکمران طبقے کیلئے بھی ناگزیر ہوں۔ کبھی سرکار کیلئے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگے۔ کبھی پروٹوکول میں کمی آئے۔ کبھی سرکاری رہائش گاہیں کم ہوں۔ کبھی مفت بجلی‘ مفت پٹرول‘ مفت سہولتوں کا حساب لیا جائے۔ کبھی پوچھا جائے کہ ریاست کے خرچ کا پہاڑ عوام کے سینے پر کیوں رکھ دیا گیا ہے؟ یہ بجٹ اگر اسی پرانی کتاب کا نیا باب ہوا تو نتیجہ بھی پرانا ہو گا۔ نئے ٹیکس‘ نئی مہنگائی‘ نئی بے بسی اور پرانی اشرافیہ کی نئی مسکراہٹ۔ پاکستان کو ٹیکس گزار عوام سے نہیں‘ ٹیکس خور نظام سے مسئلہ ہے۔ قوم سے مزید لینے سے پہلے ریاست کو یہ بتانا ہوگا کہ گزشتہ کھربوں روپے کہاں گئے۔ اگر 105 ٹریلین روپے خرچ کرنے کے بعد بھی سکول‘ ہسپتال‘ پانی‘ روزگار اور باعزت زندگی نہیں ملی تو پھر سوال بجٹ کا نہیں‘ حکمرانی کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ہے۔ یہ ملک غریب نہیں تھا‘ اسے غریب بنا دیا گیا۔ اور ہر بجٹ اس واردات کی نئی قسط ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں