اٹھائیسویں ترمیم اور اشرافیہ کا ریلیف

وطنِ عزیز میں معیشت اب صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں رہی بلکہ یہ عوام کے اعصاب کا امتحان بن چکی ہے۔ وہ عوام جنہیں ہر بجٹ میں ''ریلیف‘‘ کے خواب دکھائے جاتے ہیں‘ آج آٹے‘ بجلی‘ گیس‘ ادویات‘ سکول فیس‘ کرایے اور پٹرول کے درمیان پِس رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جسے ہر بحران میں رعایت ملتی ہے‘ ہر ایمرجنسی میں استثنیٰ‘ ہر قانون میں راستہ‘ ہر ٹیکس میں چھوٹ اور ہر احتساب میں ریلیف۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 2025-26ء کیلئے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.6فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ حکومت نے فوراً تالیاں بجائیں کہ دیکھیں معیشت سنبھل رہی ہے۔ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے 3.7فیصد کا تخمینہ بھی منظور کردیا۔ مگر اصل کہانی تب شروع ہوئی جب آئی ایم ایف نے مالی سال 2026-27ء کیلئے گروتھ ریٹ 3.5فیصد بتا دیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کس ملک میں ہو رہا ہے؟ اسی ملک میں جہاں کھاد کی شدید قلت کا خطرہ ہے‘ جہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کی زندگیاں اجیرن بنا رہی ہے‘ جہاں صنعت پہلے ہی بمشکل سانس لے رہی ہے‘اندیشہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے طول کھینچا تو مالی سال 2026-27ء میں گروتھ 2.5فیصد تک گر سکتی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہو گا کہ فی کس آمدنی مزید سکڑے گی اور بیروزگاری نو فیصد سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔ مگر حیرت ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں اب بھی جشنِ استحکام کی تقریبات چل رہی ہیں جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ رواں برس فروری میں افراطِ زر سات فیصد تھی‘ جو مارچ میں 7.3 اور اپریل میں 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے باوجود عوام کو بتایا جارہا ہے کہ مہنگائی قابو میں آگئی ہے۔ اگر یہ قابو ہے تو بے قابو صورتحال کیسی ہو گی؟
بجلی کے شعبے کو دیکھ لیجیے۔ نیپرا کے ریکارڈ کے مطابق صرف جولائی 2017ء سے جون 2025ء تک نجی پاور پلانٹس کو کپیسٹی چارجزکی مد میں 8623ارب روپے ادا کیے گئے۔ یعنی عوام بجلی استعمال کریں یا نہ کریں بجلی گھر مال بناتے رہیں گے۔ ڈالرز میں یہ رقم 30ارب ڈالرز سے زائد بنتی ہے۔ اب ذرا یہ موازنہ دیکھیے۔ حکومت کی اپنی اکنامک سروے رپورٹ کہتی ہے کہ 101آئی پی پیز سے کل 35ارب ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری آئی۔ یعنی عوام نے پلانٹس لگانے والوں کو تقریباً سرمایہ کاری کے برابر رقم واپس کردی مگر پھر بھی بجلی مہنگی ہے‘ لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوئی اور گردشی قرضہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یہ چارجز کون ادا کررہا ہے؟ وہ آدمی جو صبح موٹر سائیکل میں دو سو کا پٹرول ڈلوا کر روزی کی تلاش میں نکلتا ہے۔ وہ خاتون جو بچوں کا دودھ کم کرکے بجلی کا بل دیتی ہے۔ وہ باپ جسے بچوں کی سکول فیس اور اپنی دوا کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ مگر جن کیلئے یہ پورا نظام بنایا گیا‘ ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت کسی میں نہیں۔ چیئرمین ایف بی آر خود کہہ چکے کہ ملک کا امیر ترین پانچ فیصد طبقہ تقریباً 1600ارب روپے کا ٹیکس چوری کرتا ہے مگر ہر بجٹ میں ٹیکس کس پر لگتا ہے؟ تنخواہ دار طبقے پر‘ بجلی کے بل پر‘ پٹرول پر‘ موبائل بلز پر‘ کھانے پینے پر‘ دوائیوں پر۔ بڑے لوگ آج بھی محفوظ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو مالی سالوں میں وفاقی حکومت نے تقریباً 4975ارب روپے کے ٹیکس استثنیٰ دیے۔ انکم ٹیکس میں 1022ارب‘ سیلز ٹیکس میں 2757ارب‘ کسٹمز ڈیوٹی میں 1195ارب روپے کی رعایتیں۔ اور یہ رعایتیں کس کیلئے تھیں؟ غریب کیلئے؟ نہیں۔ بڑے سرمایہ داروں کیلئے‘ طاقتور گروپس کیلئے‘ ان لوگوں کیلئے جو پہلے ہی ہر حکومت کا ''محفوظ سرمایہ‘‘ ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف غریب آدمی کیلئے صرف ایک جملہ: مزید قربانی دیں‘ ملک مشکل میں ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مالی سال 2003-04ء سے لے کر مالی سال 2025-26ء کے پہلے دس ماہ تک ایف بی آر عوام کی جیبوں سے تقریباً 84ٹریلین روپے نکال چکا ہے۔ مالی سال2003-04ء میں ٹیکس وصولی 521ارب تھی‘ جبکہ مالی سال 2024-25ء میں یہ بڑھ کر 11ہزار 744ارب روپے تک جا پہنچی۔ یعنی صرف 22سال میں عوام سے وصول کیے جانے والے ٹیکس تقریباً 23گنا بڑھ گئے‘ مگر سوال یہ ہے کہ بدلے میں ملا کیا؟ تعلیم اور صحت کی ابتر سہولتیں؟ روزگار نایاب؟ اور قرضہ؟ مارچ 2026ء تک ملک پر قرض 97ہزار 307ارب روپے تک پہنچ گیا۔ صرف ایک سال میں 7533ارب روپے کا اضافہ۔ اس سب کے درمیان غیر ملکی سرمایہ کاری کا حال تو اور بھی خطرناک ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2025ء سے اپریل 2026ء تک کل غیر ملکی سرمایہ کاری ایک ارب 41 کروڑ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ دو ارب چار کروڑڈالر تھی۔ سرمایہ کاری میں اس مسلسل کمی کے باوجود حکومت اب بھی ''معاشی استحکام‘‘ کا راگ الاپ رہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب معیشت دباؤ میں ہو‘ عوام غصے میں ہوں‘ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ رہی ہو‘ سیاسی ماحول بھی غیر یقینی ہو تو اقتدار کے ایوانوں میں سب سے زیادہ گفتگو کس چیز پر ہورہی ہے؟ جواب ہے: 28ویں ترمیم! جی ہاں وہی 28ویں ترمیم جس کیلئے کئی ماہ سے خاموشی سے تیاری جاری ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق یہ ترمیم فروری میں ہی آگے بڑھ جانی تھی مگر ایران امریکہ کشیدگی اور خطے کی صورتحال نے معاملہ سست کردیا۔ اب بجٹ کے فوراً بعد اسے لانے کی تیاری ہورہی ہے۔ اور اس بار ماحول پہلے سے مختلف ہے۔ پیغام صاف ہے کہ جو ساتھ نہیں چلے گا اس کی فائل چلے گی۔ سیاسی حلقوں میں یہ باتیں کھل کر ہونے لگی ہیں کہ آنے والے دنوں میں مختلف شخصیات‘ جماعتوں اور اہم سیاسی کرداروں کی فائلیں منظر عام پر آسکتی ہیں۔ کرپشن سکینڈلز‘ مالی بے ضابطگیاں‘ پرانی انکوائریاں‘ غیر اعلانیہ اثاثے‘ سب کچھ۔ کراچی اس نئی بساط کا بڑا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کی باتیں اب صرف افواہیں نہیں رہیں۔ بعض حلقوں میں یہ بھی زیر بحث ہے کہ اگر سیاسی حالات بدلے تو ایم کیو ایم کا میئر آ سکتا ہے۔ شہر میں ایک بڑے افسر کی تبدیلی ہو چکی ہے اور جو نیا افسر آیا ہے اسے 'سخت گیر‘، 'میرٹ پسند‘ اور 'ایکشن مین‘ کہا جا رہا ہے۔ کراچی کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے اشارے واضح ہیں۔ مختیارکاروں سے لے کر ضلعی انتظامیہ تک پیغام پہنچایا جارہا ہے کہ کسی بھی گروپ یا سیاسی دھڑے کی پشت پناہی برداشت نہیں ہو گی۔ مگر اصل دلچسپ بحث نئی نسل کے اندر ہے۔ ایک طرف وہ نوجوان چہرے ہیں جو کہتے ہیں کہ جو ہو گیا سو ہو گیا اب مزید ترمیم نہیں ہونی چاہیے‘ مزید طاقت کا ارتکاز ملک کو خطرناک سمت میں لے جائے گا۔ دوسری طرف وہ پرانے سیاسی دماغ ہیں جو سمجھاتے ہیں کہ ٹکراؤ سے نظام ٹوٹتا ہے‘ استحکام ضروری ہے‘ سمجھوتا ہی سیاست ہے۔ ایک اور بحث بھی پس منظر میں چل رہی ہے وہ ہے کراچی اور گوادر کا مستقبل۔ بعض حلقے یہ تجویز دے رہے ہیں کہ گوادر کو براہِ راست وفاقی کنٹرول میں لایا جائے۔ کراچی کا نام بھی گفتگو میں آتا ہے مگر وہاں سیاسی ردِعمل بہت شدید ہو سکتا ہے۔ اس لیے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فوری طور پر گوادر پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو صوبائی خودمختاری‘ وسائل‘ بندرگاہی کنٹرول اور سکیورٹی کے سوالات ایک نئے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا 28ویں ترمیم واقعی صرف آئینی ترمیم ہو گی یا پھر طاقت‘ معیشت‘ سیاست‘ احتساب‘ میڈیا‘ صوبائی اختیارات اور ریاستی کنٹرول کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گی؟ کیونکہ اس وقت پاکستان میں سب کچھ بدل رہا ہے۔ صرف غریب آدمی کی قسمت نہیں بدل رہی۔ اس کیلئے آج بھی آٹا مہنگا ہے‘ گیس غائب ہے‘ لائٹ جلتی نہیں مگر بل آتا ہے اور حکمران اسے اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ''ملک مشکل میں ہے، قربانی دو‘‘ مگر سوال اب بھی وہی ہے۔ قربانی صرف غریب ہی کیوں دے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں