خاموش معاہدہ اور وائٹ ہاؤس کا جواب

یہ محض مذاکرات نہیں‘ ایک ایسا عالمی کھیل ہے جہاں اصل جنگ میز پر نہیں بلکہ مفادات‘ معیشت اور طاقت کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔ اسلام آباد اس وقت ان مذاکرات کا مرکز بن چکا ہے۔ خاموش مگر فیصلہ کن‘ اور انہی کے درمیان ایک بڑی کہانی ترتیب پا رہی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کی پہلی بیٹھک کے بعد جب وائٹ ہاؤس میں ایک امریکی عہدیدار سے میرا رابطہ ہوا تو اُس نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے مابین رابطے جاری ہیں اور کسی حتمی معاہدے کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے۔ اس ایک جملے میں سفارتکاری کا پورا وزن موجود تھا۔ نہ تصدیق‘ نہ تردید مگر ایک سمت ضرور دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے واضح کیا کہ پس پردہ کچھ نہ کچھ واقعی بدل رہا ہے۔ اور پوری تصویر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات مکمل معاہدے کیلئے نہیں بلکہ درمیانی راستہ نکالنے کیلئے ہو رہے ہیں۔ یعنی مکمل ڈیل نہیں بلکہ محدود‘ مرحلہ وار پیشرفت ہو سکتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے‘کیونکہ جو کچھ سامنے دکھائی دے رہا ہے وہ مکمل کہانی نہیں ‘ اصل کہانی اس کے پیچھے ہے۔ اس پوری کہانی کا سب سے حساس پہلو ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ایران کیلئے یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں بلکہ خودمختاری‘ سلامتی اور قومی وقار کا مسئلہ ہے۔ حقائق کے مطابق یورینیم کی افزودگی جتنی بڑھتی ہے‘ اس کی حساسیت اور طاقت اتنی ہی زیادہ ہو جاتی ہے۔ تین سے پانچ فیصد تک افزودہ یورینیم توانائی کے حصول کیلئے‘ 20 فیصد تک تحقیق کیلئے‘ جبکہ 60 فیصد تک ہتھیار سازی کیلئے استعمال ہوتی ہے‘ اور 90 فیصد براہِ راست ایٹمی ہتھیاربنانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پہ دنیا کو تشویش ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس سے ایران پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ایرانی قیادت‘ خاص طور پر ایرانی صدر ایک معاہدے کے حق میں نظر آتے ہیں۔ وہ معاشی دباؤ کو کم کرنا چاہتے ہیں‘ عالمی پابندیوں سے نکلنا چاہتے ہیں اور ایران کو دوبارہ عالمی معیشت میں فعال دیکھنا چاہتے ہیں‘ مگر ایران میں اصل طاقت کس کے پاس ہے؟ یہاں آتی ہے پاسدارانِ انقلاب فورس۔ ایران کا وہ طاقتور ادارہ جو نہ صرف فوجی بلکہ نظریاتی کنٹرول بھی رکھتا ہے۔ ان کا مؤقف دوٹوک ہے کہ یورینیم کوئی سودا نہیں‘ یہ ہماری زمین کا حصہ ہے۔ یہ جملہ اس اندرونی تضاد کو ظاہر کرتا ہے جہاں ایک طرف سیاسی قیادت ہے جو معاہدہ چاہتی ہے اور دوسری طرف عسکری اسٹیبلشمنٹ جو امریکہ کیلئے کسی بڑی رعایت کیلئے تیار نہیں۔اگر اس تصویر کو مکمل دیکھنا ہو تو 2015ء کا معاہدہ یاد رکھنا ہوگا‘The Joint Comprehensive Plan of Action۔ اس معاہدے میں ایران نے یورینیم کی افزودگی محدود کی‘ بین الاقوامی نگرانی قبول کی اور جوہری سرگرمیوں کو کنٹرول کیا۔ بدلے میں اقتصادی پابندیاں نرم ہوئیں اور ایران کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی ملی۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں اس معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کر لی۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں ایران کا اعتماد ٹوٹا۔ آج ایران کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر ہم دوبارہ رعایت دیں تو کیا ضمانت ہے کہ امریکہ پھر پیچھے نہیں ہٹے گا؟ اس لیے اب جو مذاکرات ہو رہے ہیں وہ 2015ء جیسے نہیں ہیں۔ اب ایران زیادہ محتاط ہے‘ امریکہ زیادہ دباؤ میں ہے اور خطہ زیادہ غیر مستحکم ہے۔
یہاں ایک اور بڑا عنصر سامنے آتا ہے‘وہ ہے معیشت۔ ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے اس وقت ان مذاکرات کا عملی مرکز بن چکے ہیں۔ اندازوں کے مطابق یہ اثاثے 100 ارب ڈالر سے زائد ہیں جو چین‘ بھارت‘ عراق‘ـ قطر‘ جاپان‘ یورپ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں منجمد پڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو ایران نے تیل کی فروخت اور دیگر ذرائع سے حاصل کیا مگر پابندیوں کے باعث استعمال نہیں کر پا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کیلئے یہ اثاثے صرف رقم نہیں بلکہ بقا کا سوال ہیں۔ اگر یہ بحال ہو جائیں تو ایران اپنی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے‘ انفراسٹرکچر بہتر بنا سکتا ہے اور معاشی دباؤ کم کر سکتا ہے۔دوسری طرف امریکہ اس معاملے کو سکیورٹی کے زاویے سے دیکھتا ہے کہ اگر یہ رقم بحال ہوگئی تو اس کا استعمال کہاں ہوگا؟ یہی وہ تضاد ہے جو مذاکرات کو پیچیدہ بناتا ہے۔ اسی دوران عالمی معیشت بھی اس کشیدگی کی قیمت ادا کر رہی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں‘ ایندھن مہنگا ہو چکا ہے‘ ہوائی سفر کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور زرعی پیداوار پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ آئی ایم ایف پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو اس کے معاشی اثرات فوری ختم نہیں ہوں گے۔ یہی وہ دباؤ ہے جس کی وجہ سے امریکہ جلد بازی کر رہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملہ جلدی طے ہو جائے جبکہ ایران چاہتا ہے کہ یہ معاملہ طوالت اختیار کرے۔ یہی رفتار کا فرق اصل مسئلہ ہے۔ اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلے امریکی وفد میں کچھ ایسے افراد شامل کیے گئے جن پر امریکہ کے اندر اعتراضات اٹھے‘ پھر خبریں آئیں کہ نائب صدر اس عمل کا حصہ نہیں ہوں گے‘ اور بعد میں ان کا نام دوبارہ سامنے آیا۔ یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟ ممکن ہے جے ڈی وینس کو سائیڈ لائن کیا جا رہا ہو‘ ممکن ہے کہ انہوں نے خود اعتراض کیا ہو‘ ممکن ہے کہ انہوں نے کہا ہو کہ یہ میرا سیاسی کیریئر ہے‘ مجھے باہر کیوں رکھا جا رہا ہے؟ اور پھر جب معاملہ سنجیدہ ہوا تو ان کا نام دوبارہ شامل کیا گیا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اب مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
اب اطلاعات یہی ہیں کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ہونے جا رہا ہے۔ مگر اصل سوال اب بھی وہی ہے کہ حتمی معاہدہ کب اور کیسے ہوگا؟ سفارتی حلقوں میں یہ سرگوشی بھی ہو رہی ہے کہ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن مزید 15 روز تک بڑھ سکتی ہے‘ اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ کے آخر یا آئندہ ماہ کے شروع میں ایران کے ساتھ معاہدہ باضابطہ طور پر سائن کرنے کیلئے پاکستان آ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔ مگر یہ سب امکانات ہیں کیونکہ اگر ٹرمپ سخت بیانات جاری رکھتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہتے ہیں تو یہ مذاکرات کسی بھی وقت تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں‘ اور اگر ایسا ہوا تو یہ معاملہ مزید طول پکڑ جائے گا۔
اس وقت صورتحال کی تین ممکنہ صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ محدود معاہدہ جہاں ایران یورینیم پروگرام کچھ حد تک محدود کرے اور امریکہ جزوی پابندیاں نرم کرے؛ دوسرا، ڈیڈ لاک جہاں کوئی نتیجہ نہ نکلے؛ اور تیسرا، بریک تھرو جو ممکن تو ہے مگر فوری طور پر نہیں۔ اصل میں یہ سارا کھیل تین چیزوں کا ہے: طاقت کا توازن‘ معاشی بقا اور سٹرٹیجک کنٹرول۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکا جائے‘ ایران چاہتا ہے کہ اسے امریکی پابندیوں سے نجات ملے اور اس کی خودمختاری برقرار رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا مگر یہ ناممکن بھی نہیں رہا۔ یہ ایک درمیانی حالت ہے جہاں فریقین مکمل طور پر ایک دوسرے کو ماننے کیلئے تیار نہیں مگر مکمل انکار بھی نہیں کر سکتے۔ پاکستان بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ دوسرا مذاکراتی دور کامیاب ہو اور معاہدہ کسی صورت ممکن ہو سکے تاکہ خطے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن قائم ہو سکے۔
آخر میں بات پھر وہی ہے کہ مذاکرات جنگ جیتنے کیلئے نہیں بلکہ تنازع ختم کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران اس اصول کو سمجھ لیں تو یہ معاہدہ صرف دو ملکوں کا نہیں ہوگا بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک ریلیف ثابت ہو سکتا ہے‘ اور اگر یہ موقع ضائع ہوا تو شاید اگلا موقع اتنا آسان نہ ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں