معاشی بحران یا پالیسیوں کا تضاد؟

دنیا اس وقت ایک بڑے معاشی‘ سیاسی اور جغرافیائی موڑ سے گزر رہی ہے جہاں عالمی معیشتیں نئی صف بندی میں مصروف ہیں‘ توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں‘ سپلائی چینز کو ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے‘ ڈیجیٹل معیشت تیزی سے پھیل رہی ہے اور ریاستیں اپنی بقا کیلئے مشکل مگر ناگزیر فیصلے کر رہی ہیں مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے‘ جہاں حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے بیانات‘ دعوؤں اور وقتی اعلانات کے ذریعے معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
گزشتہ چند برسوں پر نظر ڈالیں تو نگران حکومت ہو‘ اس سے پہلے کی پی ڈی ایم حکومت ہو یا موجودہ سیٹ اَپ‘ سب نے ایک ہی بیانیہ اپنایا کہ معیشت کو درست کیا جا رہا ہے‘ عوام کو ریلیف دیا جائے گا اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف یہ دعوے پورے نہیں ہو سکے بلکہ حالات مزید بگڑتے چلے گئے‘ عوامی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا اور ریاستی ترجیحات کا رخ واضح طور پر اشرافیہ کی طرف جھکتا ہوا نظر آتا ہے۔ آج‘ رواں مالی سال میں 19 ارب 56کروڑ ڈالر سے زائد کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ یہ وہ بوجھ ہے جس کا براہِ راست اثر قومی معیشت اور بالآخر عام شہری پر پڑتا ہے کیونکہ جب ریاست کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں تو وہ ٹیکسوں میں اضافہ کرتی ہے‘ سبسڈیز کم کرتی ہے اور مہنگائی کا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتی ہے‘ یہی کچھ اس وقت ہو رہا ہے۔
دوسری طرف ریاستی ملکیتی اداروں کی کارکردگی دیکھیں تو مالی سال 2024-25ء میں ان اداروں کا مجموعی خسارہ 832ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ 107ایسے ادارے ہیں جو قومی خزانے پر مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں‘ مگر ان کی اصلاح یا نجکاری کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اور مؤثر پالیسی سامنے نہیں آئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان اداروں سے اشرافیہ کے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ اشرافیہ کو گزشتہ دو برسوں میں ہزاروں ارب روپے کے ٹیکس استثنیٰ دیے گئے۔ مالی سال 2022-23ء اور 2023-24ء میں مختلف شعبوں کو انکم ٹیکس کی مد میں 1022 ارب روپے‘ سیلز ٹیکس کی مد میں 2757 ارب روپے‘ کسٹمز ڈیوٹی میں 1195 ارب روپے‘ توانائی اور کان کنی کے شعبے میں 107 ارب روپے‘ ہاؤسنگ اور پبلک ڈویلپمنٹ میں 44 ارب روپے کے لگ بھگ اور آئی ٹی کے شعبے میں پانچ ارب روپے سے زائد کی چھوٹ دی گئی۔ دوسری طرف وہ عام شہری ہے جو ہر خریداری پر ٹیکس دیتا ہے‘ ہر بل میں ٹیکس دیتا ہے‘ پٹرول کے ہر لٹر پر ٹیکس دیتا ہے اس کے باوجود اسے کسی قسم کا ریلیف نہیں ملتا۔ یہی وہ تضاد ہے جو ملکی نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
یونیسف کے مطابق پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو آنے والے برسوں میں معیشت‘ معاشرت اور قومی ترقی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے مگر حکومت کیلئے تعلیم کے بجائے مراعات اہم ہیں۔ ایک طرف کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں دوسری طرف سرکاری افسران کیلئے کروڑوں روپے کے گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ کیا ریاست اپنے وسائل کا منصفانہ استعمال کر رہی ہے؟ حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس ہے۔ وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ گورنرز اور وزرا کے پروٹوکول میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سڑکیں بند ہوتی ہیں‘ روٹس لگتے ہیں‘ سکیورٹی اخراجات بڑھتے ہیں مگر عوام کو یہی کہا جاتا ہے کہ اخراجات کم کریں‘ بجلی بچائیں‘ گیس کم استعمال کریں۔ یہ دہرا معیار اب کھل کر سامنے آ چکا ہے۔
توانائی کے شعبے کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے‘ ایک دن قیمت بڑھتی ہے اور اگلے دن چند روپے کم کر کے ریلیف کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی پرانا طریقہ کار ہے جس کے ذریعے عوام کو وقتی طور پر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اصل بوجھ برقرار رہتا ہے۔ قطر سے ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کے بعد گیس بحران سنگین ہو گیا ہے اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی میں ایک گھنٹہ مزید کمی کی جا رہی ہے۔ کیا یہ وہی ملک ہے جہاں کبھی گیس کی فراوانی تھی؟ تعلیم کا شعبہ بھی مہنگائی کی زد میں ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے کاغذ پچیس روپے فی کلو مہنگا ہو چکا ہے جس کے باعث درسی کتب کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ رواں برس پہلے ہی درسی کتب کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے‘ جو اَب 50 فیصد تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یعنی ایک طرف بچے سکولوں سے باہر ہیں اور دوسری طرف جو سکول جا رہے ہیں ان کیلئے تعلیم مزید مہنگی ہو رہی ہے۔
صحت کے شعبے میں بھی یہی صورتحال ہے جہاں پٹرول مہنگا ہونے سے سرکاری ہسپتالوں کے بجٹ متاثر ہو چکے ہیں۔ ایمبولینسز‘ جنریٹرز اور دیگر ضروری سہولتوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور کئی ہسپتال پہلے ہی کروڑوں روپے کے خسارے کا شکار ہیں۔ امن و امان کی صورتحال پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ سکھر ملتان موٹروے کے تقریباً دو سو کلومیٹر حصے سے کیمرے‘ سولر پلیٹیں‘ لائٹس اور دیگر قیمتی سامان کا چوری ہو جانا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری بھی پوری نہیں کر پا رہی۔ اگر قومی شاہراہیں محفوظ نہیں تو پھر عام شہری کیسے محفوظ ہوگا؟
بیروزگاری اور معاشی دباؤ کے باعث برین ڈرین تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ نوجوان‘ ڈاکٹر‘ انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں کیونکہ انہیں یہاں اپنا مستقبل محفوظ نظر نہیں آتا۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں قابلیت سے زیادہ تعلق اہم ہے‘ محنت سے زیادہ پی آر کام آتی ہے اور یہی وہ احساس ہے جو انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے جہاں یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز پر ٹیکس لگانے کی بات کی جا رہی ہے۔ ہر ایک ہزار ویوز پر 195 روپے ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے‘ یعنی جو نوجوان ڈیجیٹل معیشت میں کچھ کماتا ہے اسے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ مگر وہ بڑے شعبے جہاں اربوں روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے وہاں خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ یہی وہ دہرا معیار ہے جو عوام میں بے چینی پیدا کر رہا ہے۔
اگر حکومت واقعی ملک کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے کسٹمز کے نظام کو درست کرنا ہو گا جہاں مبینہ طور پر اربوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ ایسے ایسے سکینڈلز سامنے آئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح سامان کی انڈر انوائسنگ اور دیگر طریقوں سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے‘ مگر ان معاملات پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا جاتا کیونکہ وہاں بھی طاقتوروں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور تھی مگر اب مزید بگاڑ کا شکار ہے۔ اگر عالمی سطح پر حالات بہتر بھی ہو جائیں‘ جنگ بندی بھی ہو جائے‘ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں تب بھی پاکستان کو اصلاحات کے بغیر کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ہمیں کئی سال درکار ہوں گے اس بگاڑ کو درست کرنے میں‘ اور وہ بھی تب جب نیت درست ہو‘ بصورت دیگر یہی صورتحال برقرار رہے گی جہاں اشرافیہ کو مزید نوازا جائے گا اور عوام کو مزید بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
یہ تمام صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ حکومت آخر کس کیلئے ہے؟ کیا یہ عوام کیلئے ہے جو ٹیکس دیتے ہیں‘ مشکلات برداشت کرتے ہیں اور اس نظام کو چلانے کا بوجھ اٹھاتے ہیں یا یہ اشرافیہ کیلئے ہے جو مراعات حاصل کرتی ہے‘ ٹیکس سے استثنیٰ لیتی ہے اور پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے؟ جب تک اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا جاتا اور عملی اقدامات نہیں کیے جاتے‘ تب تک یہ تضاد برقرار رہے گا اور یہی تضاد اس ملک کی سب سے بڑی فالٹ لائن بنتا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں