امریکہ ایران مذاکرات ‘پس پردہ حقائق

یہ محض ایک سفارتی ملاقات نہیں تھی‘ یہ طاقت‘ مفاد اور وقت کے درمیان ایک نازک توازن کی تلاش تھی‘ اور شاید پہلی بار اس شدت کے ساتھ دنیا نے دیکھا کہ جنگ اور مذاکرات ایک ہی میز پر آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ بارہ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اسلام آباد آنا معمول کی بات نہیں۔ تین گھنٹے کی فلائٹ سے آنے والا ایرانی وفد اپنی جگہ‘ مگر واشنگٹن سے اس سطح کی نمائندگی کا یہاں آنا واضح پیغام ہے کہ امریکہ اس عمل کو محض رسمی نہیں بلکہ سٹرٹیجک سنجیدگی کے ساتھ لے رہا ہے۔ امریکہ اور 1979ء کے بعد کے ایران میں یہ پہلا موقع تھا کہ اس درجے کی براہِ راست انگیجمنٹ دیکھنے کو ملی جہاں دونوں ملکوں کے نمائندے مذاکراتی میز پر آمنے سامنے بیٹھے۔ یہاں ایک اور نکتہ بھی اہم ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس محض ایک نمائندہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی چہرہ ہے جو کل کے امریکہ کی قیادت کا دعویدار ہو سکتا ہے‘ اس لیے ان کے الفاظ کا چناؤ‘ محتاط انداز اور باڈی لینگویج ایک بڑے سٹرٹیجک حساب کتاب کا حصہ تھا۔ وہ تین سے چھ گھنٹے کے لیے آئے تھے مگر اکیس گھنٹے تک مذاکرات جاری رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بات کہیں نہ کہیں آگے بڑھی ہے‘ چاہے باضابطہ اعلان نہ ہوا ہو۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اس دوران انہوں نے تقریباً 15 سے 20 بار براہِ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی معاہدہ کیوں نہ ہو سکا بلکہ یہ ہے کہ مذاکرات کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ سفارت کاری ایک دن میں نتیجہ نہیں دیتی‘ خاص طور پر جب معاملہ ایران اور امریکہ کے مابین ہو۔ یہ ایک طویل‘ پیچیدہ اور تہہ در تہہ عمل ہوتا ہے‘ جہاں ہر جملہ‘ ہر وقفہ اور ہر خاموشی بھی معنی رکھتی ہے۔
اس وقت سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کی محدود مدت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ بائیس اپریل کے بعد کیا ہو گا؟ یہی وہ سوال ہے جو فریقین کو جلدی فیصلے کی طرف دھکیل رہا ہے‘ مگر ساتھ ہی محتاط بھی بنا رہا ہے۔ یہاں امریکہ کی حکمت عملی واضح دکھائی دیتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف ناکہ بندی کا دباؤ برقرار رکھا اور دوسری طرف فوجی مداخلت سے گریز کیا۔ یہ وہ امریکہ نہیں جو ماضی میں فوری طور پر بُوٹس آن گراؤنڈ کی پالیسی اختیار کرتا تھا۔ اس بار معاملہ مختلف ہے۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ ان کے ووٹرز‘ ان کی بیس اور آنے والے مڈ ٹرم انتخابات سب اس بات سے جڑے ہیں کہ وہ امریکہ کو ایک اور طویل جنگ میں نہ جھونکیں۔ انہیں ایک ٹرافی چاہیے‘ مگر وہ ٹرافی جنگ کے میدان سے نہیں بلکہ مذاکرات کی میز سے مل سکتی ہے‘ اور شاید زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امریکہ کا کیس مضبوط نظر آتا ہے۔ دباؤ بھی برقرار رکھا گیا اور راستہ بھی کھلا رکھا گیا‘ یہی اصل سفارتکاری ہے۔
یہاں یورپ کا کردار بھی دلچسپ ہے۔ دنیا ایک نئی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں یورپ اپنی خارجہ پالیسی میں نسبتاً آزاد نظر آ رہا ہے۔ سپین کا ایران میں سفارتخانہ بحال کرنے کا فیصلہ اور دیگر یورپی ممالک کا مکمل طور پر کسی ایک کیمپ میں نہ جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہر ملک اب اپنے مفاد کے مطابق چل رہا ہے۔ یورپ کو معلوم ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کا معاشی بوجھ زیادہ اس پر پڑے گا۔ ایران کیلئے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اس کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ اس عمل کو محض مزاحمت کے بیانیے تک محدود نہ رکھے بلکہ ایک عملی راستہ اختیار کرے۔ پانچ سال کیلئے یورینیم افزودگی روکنے کی پیشکش اسی سمت کی ایک جھلک تھی‘ مگر امریکہ کا بیس سال پر اصرار یہ ظاہر کرتا ہے کہ ابھی فاصلے باقی ہیں۔ مگر یہی تو مذاکرات کا حسن ہے۔ یہاں کوئی ایک فریق مکمل طور پر نہیں جیتتا بلکہ دونوں کو کچھ دینا اور کچھ لینا پڑتا ہے۔ اس میں ایک اور حقیقت بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کی معیشت پر دباؤ صرف پابندیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی تنہائی کا بھی ہے۔ اگر وہ اس موقع پر لچک دکھاتا ہے تو یہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ ایک سٹرٹیجک فیصلہ ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں وہی ہوتی ہیں جو وقت پر سمت بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ سخت مؤقف ہمیشہ طاقت کی علامت نہیں ہوتا‘ بعض اوقات لچک ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔ ایک بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ جنگ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی‘ ایک نہ ایک دن اسے ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔ اگر اب مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں‘ پابندیوں سے آزاد ایران عالمی معیشت میں واپس آتا ہے تو وہ توانائی کے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آئے گا۔ ایران کے پاس تقریباً 210 ارب بیرل تیل اور 35 ٹریلین کیوبک میٹر گیس کے ذخائر ہیں‘ جبکہ اس کے بڑے صارفین چین اور بھارت ہیں اور ان کے درمیان جغرافیائی پُل پاکستان ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارتکاری‘ معیشت اور جغرافیہ ایک نقطے پر آ کر ملتے ہیں۔ ایک ایسا ایران جو پابندیوں سے آزاد ہو‘ اس کی توانائی کی ترسیل کے لیے سب سے بہتر راستہ پاکستان کی سرزمین بنتا ہے۔ اگر یہ راستہ کھلتا ہے تو نہ صرف علاقائی تجارت بڑھے گی بلکہ پاکستان سالانہ سات سے آٹھ ارب ڈالر تک ٹرانزٹ فیس حاصل کر سکتا ہے۔ یہی اصل کھیل ہے ۔ جنگ نہیں بلکہ جنگ کے بعد کی معیشت کی پلان اہم ہوگا۔ لیکن اس بڑی تصویر کا ایک سکیورٹی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل کا معاملہ اس پوری تصویر میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لبنان میں بفر زون بنانے کی کوششیں‘ مسلسل کشیدگی اور طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی پالیسی نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر خطہ واقعی استحکام کی طرف جانا چاہتا ہے تو اسرائیل کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔
اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا؟ اطلاعات یہی ہیں کہ مذاکرات کا دوسرا دور بہت جلد شروع ہونے والا ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ بھی پاکستان میں ہو گا۔ ثالثی کی کوششیں تیز ہیں‘ رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق اصولی طور پر اگلے مرحلے کیلئے آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ سفارتی ذرائع بھی یہی اشارہ دے رہے ہیں کہ ڈیل کا امکان ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نئی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ یہاں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک جغرافیائی پُل کے طور پر بلکہ ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر بھی اُبھر رہا ہے جس نے حساس مذاکرات کو ایک محفوظ اور متوازن ماحول فراہم کیا ہے۔ اگر یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو پاکستان خطے میں سفارتی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کر سکتا ہے‘ جو ماضی کے برعکس ایک نیا اور مثبت تاثر ہو گا۔
مذاکرات دشمن کو ہرانے کے لیے نہیں بلکہ تنازع ختم کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ جب تک دونوں فریق ایک دوسرے کو جائز فریق کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے کوئی پائیدار معاہدہ ممکن نہیں۔ دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر امریکہ اور ایران درمیانی راستہ نکال لیتے ہیں تو یہ صرف دو ممالک کا معاہدہ نہیں بلکہ عالمی ریلیف ہو گا۔ آخر میں بات وہی آتی ہے کہ کچھ لواور کچھ دو۔ اگر یہ موقع ضائع ہوا تو شاید اگلا موقع اتنا سازگار نہ ہو‘ اگر اسے پہچان لیا گیا تو یہی لمحہ تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں