یہ ایک ایسا منظرنامہ ہے جہاں حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر عوام بجلی کے بلوں‘ پٹرول کی قیمتوں اور اشیائے ضروریہ کی گرانی کا بوجھ مسلسل برداشت کر رہے ہیں۔ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے بھی توقعات کے مطابق بہتر نہیں ہو سکے‘ ایسے حالات میں بعض سرکاری دستاویزات ان حقائق کو بے نقاب کرتی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
''پاکستان اینڈ ایس ڈی جیز، اسیسنگ دی فنانسنگ گیپ فار ایجنڈا 2030ء‘‘ کے مطابق پاکستان کو 2026ء سے 2030ء تک ہر سال جی ڈی پی کا تقریباً 15.1 فیصد اضافی خرچ کرنا ہوگا تاکہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے قریب پہنچا جا سکے۔ آئی ایم ایف کا تخمینہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے مطابق پاکستان کو سالانہ جی ڈی پی کا16 سے 17 فیصد یعنی تقریباً 46 ارب ڈالر ہر سال خرچ کرنا ہوں گے۔ ذرا سوچئے ایک ایسی معیشت جس کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 11 فیصد کے آس پاس ہو‘ جس کی آمدن کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہو‘ جو ہر چند ماہ بعد آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دیتی ہو‘ جس ملک کے حکمرانوں کے اخراجات شاہانہ ہوں‘ عالیشان سرکاری گھر ہوں‘ بے مثال پروٹوکول ہو اور جہاں سالانہ چار ہزار ارب روپے سے زائد کے ٹیکس معاف کر دیے جاتے ہوں وہ اچانک 15 یا 17 فیصد اضافی وسائل کہاں سے پیدا کرے؟ کیا یہ بہتر منصوبہ بندی ہے یا عوام کے ساتھ کھلی آنکھوں کا دھوکا؟
پائیدار ترقیاتی رپورٹ 2025ء کے مطابق پاکستان 167 ممالک میں 140ویں نمبر پر تھا جبکہ 2022ء میں 125ویں نمبر پر تھا۔ سادہ الفاظ میں گزشتہ صرف تین سال میں ہم 15 درجے نیچے گر گئے۔ یہ کسی سیاسی مخالف کا الزام نہیں حکومت کی اپنی دستاویز کا اعتراف ہے۔ دنیا آگے کی طرف جا رہی ہے اور ہم پیچھے کی جانب۔ یہ گراوٹ حادثہ نہیں پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ حالات سنبھل رہے ہیں مگر عالمی درجہ بندی اور حقائق اس کے برعکس ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ترقی کا سفر جاری ہے مگر سکور 57 اور 59 کے درمیان ہی جھولتا رہا ہے۔ متاثر کن کارکردگی نہیں رہی جس کے باعث مشکلات ابھی کم ہوتی نظر نہیں آ رہیں‘ ملک عالمی درجہ بندی میں تنزلی کا شکار ہے‘ اسے ترقی تو نہیں کہا جا سکتا۔ یہ معاشی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔ رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان کی پیشرفت علاقائی ممالک کے مقابلے میں جمود کا شکار ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جمود نہیں زوال ہے۔ اگر آپ کھڑے رہیں اور باقی سب آگے نکل جائیں تو آپ دراصل پیچھے جا رہے ہوتے ہیں۔ یہی ہمارے ساتھ ہوا ہے۔
اب عوامی حقیقت بھی سن لیجیے! 22 ملین سے زائد بچے سکول سے باہر ہیں۔ یعنی لاکھوں نہیں‘ کروڑوں بچے۔ ہر گلی‘ ہر محلے‘ ہر قصبے میں ایسے بچے موجود ہیں جو تعلیم سے محروم ہیں۔ اور جو بچے سکول جا رہے ہیں ان میں سے بھی بڑی تعداد بنیادی مضامین میں مہارت حاصل نہیں کر پا رہی۔ چوتھی جماعت کا بچہ بنیادی ریاضی نہیں سمجھ رہا‘ انگریزی نہیں پڑھ پا رہا۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ اگلی نسل بھی کمزور ہو گی۔ وہ عصر حاضر کی ضروریات کے مطابق تیار نہیں ہو گی۔ نتیجہ یہ کہ ڈگریوں والے بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور حکومت کہے گی کہ ہم کوشش کر رہے ہیں لیکن ملک کو اس وقت نتائج کی ضرورت ہے۔
رپورٹ یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ تعلیم‘ صحت‘ صاف پانی اور بنیادی سہولتوں میں سب سے زیادہ خلا موجود ہے۔ یعنی وہ شعبے جن کا تعلق براہِ راست عام آدمی کی زندگی سے ہے‘ وہ سب سے زیادہ نظر انداز ہیں۔ یہ وہی شعبے ہیں جن پر سیاست کم اور خدمت زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ مگر یہاں ترجیحات کچھ اور ہیں۔ دو سال گزر گئے۔ عوام نے مہنگائی برداشت کی۔ بجلی کے بلوں میں اضافہ برداشت کیا۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتیں برداشت کیں۔ تنخواہوں میں اضافہ نہیں‘ اخراجات میں اضافہ ہوا۔ کاروبار سکڑ گئے‘ دکانیں بند ہو گئیں‘ نوجوان بیروزگار ہوئے مگر معیشت کو راہ راست پر لانے کے دعوے ابھی تک حقیقت نہیں بن سکے۔ الٹا حکومت عوام کی اپنی مدد آپ کے تحت کی گئی کاوشوں کو بھی سبوتاژ کر رہی ہے۔ جب ریاست ماں کی جیسی بننے کے بجائے عوام کو ہر ممکنہ طریقے سے تنگ کرے گی تو نہ عوام خوشحال ہوں گے اور نہ ہی معیشت۔ مگر نجانے کیوں یہ بات پالیسی میکرز کو سمجھ نہیں آ رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سارا زور اس بات پر ہے کہ حکومت کیسے بچائی جائے‘ نہ کہ یہ ملک کیسے بچایا جائے۔ بڑے بڑے دعوے‘ اعلانات اور بیانات ہیں مگر سکولوں میں استاد نہیں‘ ہسپتالوں میں دوا نہیں اور گھروں میں دو وقت کی روٹی نہیں۔ رپورٹ صاف اعتراف کرتی ہے کہ اہداف کے لیے بڑے پیمانے پر اضافی وسائل درکار ہیں۔ مگر وہ وسائل آئیں گے کہاں سے؟ مزید ٹیکس؟ مزید مہنگائی؟ مزید بوجھ عوام پر؟ کیا پھر سے وہی ہوگا کہ امیر کیلئے رعایت‘ غریب کیلئے سختی؟ کیا پھر سے وہی ہو گا کہ شاہانہ اخراجات جاری رہیں گے اور عوام سے کہا جائے گا کہ قربانی دیں؟ یہ ملک 25 کروڑ لوگوں کا ہے مگر فیصلے چند کمروں میں ہوتے ہیں۔ عوام کا ذکر تقریروں میں ہوتا ہے‘ ترجیحات میں نہیں۔
ایس ڈی جیز کا مطلب یہ ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو تعلیم دے‘ علاج دے‘ پانی دے‘ روزگار دے۔ مگر جب حکومت خود تسلیم کر رہی ہو کہ پیشرفت سست ہے اور خلا بڑھ رہا ہے تو پھر دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ عوام کو بڑے معاشی فارمولوں کی سمجھ نہ بھی آئے‘ انہیں یہ تو سمجھ آ رہی ہے کہ زندگی مشکل ہو گئی ہے۔ چھوٹا تاجر قرض میں ڈوبا ہے‘ کسان لاگت پوری نہیں کر پا رہا۔ ذرا اس شخص کے دل میں جھانک کر دیکھیے جو ایمانداری سے ٹیکس دیتا ہے‘ محنت کرتا ہے‘ بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے‘ بہتر زندگی چاہتا ہے مگر بدلے میں صرف دعوے سنتا ہے۔ بدلے میں دھکے‘ اشرافیہ کے اخراجات کا بوجھ اور اپنے بچوں کو پالنے کیلئے دن رات کی ٹھوکریں ملتی ہیں۔ اگر یہی طرزِ حکمرانی رہا‘ اگر ترجیح عوام نہیں اقتدار رہا‘ اگر اصل مقصد مسائل حل کرنا نہیں بلکہ حکومت بچانا رہا تو خدا نخواستہ 2030ء نہیں‘ ہر سال ہمارے لیے ترقیٔ معکوس کا سال ہو گا۔ تاریخ کسی کا لحاظ نہیں کرتی‘ وہ کارکردگی دیکھتی ہے اور اس وقت کارکردگی کا آئینہ کچھ اچھا نہیں دکھا رہا۔ یہ وقت جھوٹے بیانیے بنانے کا نہیں خود احتسابی کا ہے۔ یہ وقت عوام سے جھوٹ بولنے‘ زبانیں بند کرانے یا زور زبردستی کا نہیں اصلاحات کا ہے۔ یہ وقت بیانیے کا نہیں فیصلے کا ہے۔ اگر ہم نے ترجیحات درست نہ کیں‘ اگر ہم نے عوام کو مرکز میں نہ رکھا‘ اگر ہم نے تعلیم‘ صحت اور روزگار کو واقعی اولین ترجیح نہ بنایا تو پھر ہر سال ایک نئی رپورٹ آئے گی اور ہر سال ہم مزید نیچے جا رہے ہوں گے۔ اُس وقت شاید سوال پوچھنے کی بھی اجازت نہ ہو مگر یہ ملک خاموش نہیں رہے گا۔ عوام سب دیکھ رہے ہیں۔ اعداد وشمار سب بتا رہے ہیں اور سچ یہ ہے کہ نقاب اتر چکا ہے۔ موجودہ معاشی صورتحال کسی بھی خوش فہمی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایک طرف کفایت شعاری کے دعوے تو دوسری طرف انہی دعوؤں کے دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور ایسے اقدامات سامنے آ رہے ہیں جو تلخ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ ریاستی اخراجات کا انداز، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور بکھری ہوئی ترجیحات ‘ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ معاشی نظم وضبط ابھی تک قائم نہیں ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ معیشت دباؤ کا شکار ہے‘ نظام کمزور پڑ چکا ہے اور عام آدمی اس بوجھ کو بمشکل جھیل رہا ہے۔ اگر اب بھی سنجیدہ اصلاحات نہ کی گئیں‘ اگر دعوؤں اور عمل کے درمیان یہ خلیج برقرار رہی تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ معیشت محض اعداد وشمار سے نہیں اعتماد‘ شفافیت اور درست فیصلوں سے چلتی ہے‘ اور اس وقت یہی عناصر ناپید ہیں۔