پاکستان کا خاموش مگر فیصلہ کن کردار

اگر کوئی ایک سال پہلے یہ کہتا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ایسی جنگ میں ثالث بن کر اُبھرے گا جس میں اسرائیل بھی براہِ راست شامل ہو تو شاید بہت سے لوگ اسے محض ایک خیال سمجھتے۔ لیکن عالمی سیاست اکثر اسی طرح کے غیرمتوقع موڑ لیتی ہے۔ کبھی پس منظر میں کھڑا ملک اچانک مرکزِ نگاہ بن جاتا اور وہ کردار ادا کر جاتا ہے جس کی توقع کسی نے نہیں کی ہوتی۔ ایران جنگ کے تناظر میں پاکستان کا کردار بھی کچھ ایسا ہی ہے‘ خاموش‘ محتاط مگر غیرمعمولی طور پر اہم۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے کے ممالک مختلف حصوں میں بٹتے دکھائی دیے‘ کسی نے کھلی حمایت کی‘ کسی نے سخت مخالفت کی اور کسی نے محتاط خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس ماحول میں پاکستان کا طرزِعمل سب سے زیادہ متاثر کن تھا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل‘ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی‘ مسلسل ٹیلیفونک رابطے اور ساتھ ہی چین جیسے اہم شراکت دار کے ساتھ مشاورت‘ یہ سفارتی بھاگ دوڑ اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام آباد اس ساری صورتحال میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کردار کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی عسکری قیادت کے درمیان بننے والا وہ تعلق ہے جو باہمی اعتماد پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اس ضمن میں اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان ایران کا ہمسایہ ہے‘ دونوں کے درمیان تقریباً نو سو کلومیٹر طویل سرحد اور مضبوط تاریخی‘ ثقافتی اور مذہبی روابط بھی ہیں۔ ایران کے اندر پاکستان کیلئے فطری قربت پائی جاتی ہے اور پاکستان کے اندر عوامی سطح پر ایران کے حق میں جذبات خاصے مضبوط ہیں۔ ایسے میں پاکستان نہ تو کھل کر امریکہ مخالف مؤقف اختیار کر سکتا ہے اور نہ ہی ایران سے فاصلہ بڑھا سکتا ہے۔ یہی توازن اسے ایک ممکنہ ثالث بناتا ہے۔
پاکستان کی اس پوزیشن کو امریکہ اور ایران دونوں سمجھتے ہیں اور مثبت بات یہ ہے کہ دونوں نے اس کا احترام بھی کیا۔صدر ٹرمپ کی تنقید سے یورپ سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک کوئی بھی محفوظ نہیں مگر انہوں نے پاکستان کی پوزیشن کا احترام کیا اور وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے بیانات کو سراہا۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خلیجی ممالک کے برعکس پاکستان میں امریکہ کا کوئی فوجی اڈہ موجود نہیں‘ اس لیے پاکستان کو اس جنگ میں براہِ راست فریق نہیں سمجھا جا رہا۔ واشنگٹن اسے ایک قابلِ قبول سہولت کار سمجھتا ہے اور تہران اسے مکمل طور پر امریکہ نواز کیمپ کا حصہ نہیں مانتا۔
اس سفارتکاری کے پیچھے پاکستان کے اپنے مفادات بھی کارفرما ہیں۔ ہماری معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے اور درآمد شدہ تیل پر اس کا انحصار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ تیل زیادہ تر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور اگر وہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ شروع ہوتے ہی ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور حکومت کو ایندھن کی بچت کیلئے ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو مہنگائی زیادہ جبکہ زرِمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ صرف معاشی نہیں سکیورٹی خدشات بھی پاکستان کیلئے کم سنگین نہیں۔ ایک طرف افغانستان کے ساتھ کشیدگی ہے دوسری طرف انڈیا کے ساتھ تناؤ مستقل حقیقت ہے۔ ایسے میں اگر ایران جنگ پھیلتی ہے اور خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اس میں براہِ راست شامل ہو تے ہیں تو پاکستان کیلئے فیصلے اور بھی مشکل ہو جائیں گے۔ پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ‘ علاقائی ذمہ داریاں اور اندرونی سلامتی سب ایک ساتھ سوالیہ نشان بن جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی پالیسی نہایت احتیاط کے ساتھ ترتیب دی جا رہی ہے‘ لیکن اس احتیاط کے پیچھے ایک اور خواہش بھی کارفرما ہے‘ عالمی سطح پر اپنا تشخص بہتر بنانے کی خواہش۔ طویل عرصے سے پاکستان پر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ یہ عالمی سفارتکاری میں ایک فعال اور بااثر کردار ادا نہیں کر پا رہا۔ ایران جنگ جیسے بڑے تنازع میں ثالثی کی کوشش‘ خواہ کامیاب ہو یا نہ ہو‘ پاکستان کو کم از کم اس بحث کے مرکز میں ضرور لے آئی ہے۔ یہ ایک ہائی رسک‘ ہائی ریوارڈ حکمتِ عملی ہے۔ کامیابی کی صورت میں پاکستان ایک ذمہ دار‘ بالغ نظر اور مؤثر طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے‘ اور ناکامی کی صورت میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں آرا تقسیم ہو جاتی ہیں۔ کچھ ماہرین کے نزدیک اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور جنگ مزید شدت اختیار کر گئی تو انگلیاں پاکستان کی طرف بھی اُٹھ سکتی ہیں۔ یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ فریقین نے وقت حاصل کرنے کیلئے مذاکرات کا سہارا لیا اور پاکستان ان کے اصل ارادوں کو بھانپنے میں ناکام رہا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اتنے پیچیدہ تنازع میں ناکامی کو کسی ایک ثالث کے کھاتے میں ڈالنا انصاف نہیں ہوگا اور اصل ذمہ داری انہی قوتوں پر عائد ہوگی جو ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی کی خلیج بہت گہری ہے‘ مطالبات ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور کسی جامع امن معاہدے کے امکانات فی الحال کم دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا کردار شاید جنگ رکوانے سے زیادہ نقصان کم کرنے اور بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے تک محدود رہے۔ لیکن عالمی سیاست میں بعض اوقات یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ اس وقت اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان یہ جنگ رکوا پائے گا یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اس عمل کے بعد خود کہاں کھڑا ہوگا۔ کیا وہ ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر یاد رکھا جائے گا یا ایک ایسے ملک کے طور پر جس نے بڑا داؤ کھیلا مگر انجام اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ جواب مستقبل کے صفحات پر لکھا جائے گا۔ فی الحال اتنا ضرور ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاست میں اس کا کردار یکسر نظر انداز کرنا شاید اب اتنا آسان نہیں رہا۔
آخر میں تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکہ آج بھی عالمی نظام میں ایک سپر پاور کے طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس کی فوجی تعیناتیوں‘ بحری بیڑوں کی نقل و حرکت اور فضائی تیاریوں سے واضح ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے تیار ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کا عزم بھی رکھتا ہے۔ حالیہ بیانات اور عملی اقدامات اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ اس بحران میں پسپائی اختیار کرنے کے موڈ میں نہیں بلکہ منظم حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید عالمی سیاست میں طاقت کا اظہار صرف عسکری قوت تک محدود نہیں رہا بلکہ سفارتکاری اور تنازعات کو کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان جیسے ممالک کا کردار نمایاں ہوتا ہے جو نہ صرف کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے درمیان ایک قابلِ قبول رابطہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ یوں ایک طرف امریکہ اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان جیسے ممالک بگڑے ہوئے عالمی توازن کو سنبھالنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور شاید اسی توازن میں خطے کے مستقبل کا راستہ پوشیدہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں