"AIZ" (space) message & send to 7575

خاندانی اختلافات کا خاتمہ

منگل کی صبح فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے نکلا تو ایک بزرگ نمازی نے مجھے روک لیا۔ بزرگ نمازی اس بات پر افسردہ تھے کہ (بقول ان کے) ان کی والدہ اپنی زندگی میں اپنے دو بیٹوں کو اضافی جائیداد دے رہی تھیں اور باقی دو بیٹوں کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا تھا۔ بزرگ نمازی اس بات کو بیان کرنے کے دوران بہت زیادہ جذباتی ہو رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی والدہ کی بے ادبی اور نافرمانی نہیں کرنا چاہتا لیکن اس حق تلفی پر صبر کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ اس قسم کے بہت سے واقعات آئے روز سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ گو کہ ان واقعات کو بیان کرنے والے کئی مرتبہ اپنے مفاد کے لیے حقائق کو مسخ کر دیتے اور اپنی مرضی کا واقعہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ خاندانی اختلافات کی بہت بڑی وجہ وراثت کی تقسیم میں اولاد میں سے بعض کو اضافی مال سے نوازنا اور اولاد کے ایک حصے کو اس سے محروم رکھنا ہے۔ وراثت کے جائز حق سے کسی کو محروم کرنا شریعت کی رو سے جائز نہیں ہے لیکن یہ بات عام دیکھنے میں آتی ہے کہ میراث‘ تحائف اور مال کی تقسیم کے حوالے سے اکثر بے اعتدالی سے کام لیا جاتا ہے اور اولاد کے ایک حصے کو دوسرے حصے کے مقابلے میں زیادہ مال دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ النساء میں میراث کے اصولوں کو نہایت احسن انداز میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیات: 11 تا 12 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو انہیں مالِ متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے۔ اگر اس (میت) کی اولاد ہو‘ اور اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔ ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد۔ تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے‘ تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہنچانے میں زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں‘ بیشک اللہ پورے علم اور کامل حکمتوں والا ہے۔ تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ کر فوت ہو جائیں اور ان کی اولاد نہ ہو تو ترکے میں سے آدھا تمہارا ہے اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لیے چوتھائی حصہ ہے۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جائو اس میں ان کے لیے چوتھائی ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو‘ اور اگر تمہاری اولاد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد‘‘۔
اسی طرح قرآن مجید نے ایسے شخص کی میراث کے احکامات کو بھی بیان کیا ہے کہ جو بغیر اولاد اور والدین کے فوت ہو جائے۔ ان اصولوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ نے سختی کے ساتھ تاکید کی ہے کہ ان احکامات اور اصولوں پر ذمہ داری سے عمل کیا جائے۔ جو ان احکامات پر اچھے طریقے سے عمل کرتا ہے اس کو بشارت سنائی گئی ہے اور جو اس مسئلے میں نافرمانی والے راستے کو اختیار کرتا ہے‘ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیات: 13 تا 14 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''یہ حدیں اللہ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ جنتوں میں لے جائے گا‘ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں‘ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا‘ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا‘ ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘۔
مذکورہ بالا آیات میں احکامِ وراثت پر عمل کرنے والے کو جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے اور اس کے مدمقابل احکاماتِ وراثت سے انحراف کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ ان واضح احکامات کے ہوتے ہوئے بھی بے اعتدالی سے کام لیتے اور کئی ورثا کی حق تلفی کر جاتے ہیں جبکہ بہت سے ورثا بھی دوسرے ورثا کا حق دینے پر آمادہ وتیار نہیں ہوتے۔ اگر ان آیات پر توجہ دی جائے اور ان کو ذہن میں راسخ کر لیا جائے تو کوئی بھی شخص اپنی اولاد کے ساتھ زیادتی کا مرتکب نہیں ہو سکتا اور ورثا بھی ایک دوسرے کے حق کو غصب کرنے پر آمادہ نہیں ہو ں گے اور بھائی بہن بھی ایک دوسرے کی حق تلفی سے باز رہیں گے۔
حق تلفی سے بچنے کے لیے جہاں وراثت کی تقسیم میں انصاف کرنا ازحد ضروری ہے وہیں اپنی زندگی میں مالی وسائل اور تحفے تحائف کی تقسیم کے دوران بھی انصاف سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد نے اپنے مال میں سے مجھے صدقہ (ہبہ) کیا (یہاں صدقہ ہبہ کے معنی میں ہے) تو میری والدہ عمرہؓ بنت رواحہ نے کہا: میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اللہ کے رسولﷺ کو اس پر گواہ بنا لو۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے تاکہ آپﷺ کو مجھ پر کیے گئے صدقہ (ہبہ) پر گواہ بنائیں۔ رسول اللہﷺ نے ان سے پوچھا: ''کیا تم نے یہ (سلوک) اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ''تم سب اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کرو‘‘۔ چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ (ہبہ) واپس لے لیا۔ سنن ابی دائود کی روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: ان (تمہاری اولاد) کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم ان سب کے درمیان عدل وانصاف کرو جیسا کہ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔
جب ہم معاشرے کے رویوں پر غور کرتے ہیں تو اس بات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ بعض لوگ بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان تفریق کرتے اور ان کے کھانے پینے‘ رہن سہن اور تعلیم کے حوالے سے ان سے غیر منصفانہ سلوک کرتے ہیں۔ بیٹوں کی تعلیم وتربیت پر خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے جبکہ بیٹیوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے بخل سے کام لیا جاتا ہے۔ بیٹوں کو کئی مرتبہ غیر اخلاقی طرزِ عمل پر چھوٹ دی جاتی ہے جبکہ بیٹیوں کے ساتھ اضافی سختی کی برتی ہے۔ رشتہ کرتے ہوئے بھی بیٹے کی پسند اور رائے کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ بیٹی کی رائے کو شامل کرنا کچھ ضروری نہیں سمجھا جاتا‘ حالانکہ نکاح میں ولی کی رضامندی کے ساتھ ساتھ بیٹی کا رضامند ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ تمام رویے کسی بھی طور پر دین اور اخلاقیات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جس طرح بیٹے انسان کی شفقت‘ محبت‘ وسائل اور توجہ کے حقدار ہیں اسی طرح انسان کی بیٹیاں بھی اس کی محبت‘ وسائل اور توجہ کی مستحق ہیں۔ انسان کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک اسی طرح کرنا چاہیے جس طرح اپنے بیٹوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اگر ان اصول وضوابط پر عمل کرلیا جائے تو معاشرے میں بہت سے خاندانی اختلافات کا خاتمہ ہو سکتا اور معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کے معاملات میں انصاف کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں