لاہور ایک عجیب شہر ہے۔ یہاں سڑکوں کے گڑھے برسوں پرانے ہو جاتے ہیں لیکن ان پر بحث نہیں ہوتی‘ سیوریج کا نظام جواب دے جائے تو بھی کوئی اجلاس نہیں بلایا جاتا‘ آلودگی سانسوں کو زہر بنا دے تو فائلیں حرکت نہیں کرتیں‘ مگر جونہی کسی سڑک‘ چوک یا محلے کے نام کا مسئلہ درپیش ہو تو سرکاری نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے حکمرانوں کو شہر کے مسائل سے زیادہ اس کے سائن بورڈز کی فکر ہے۔ شاید اس لیے کہ تختی بدلنا آسان ہے مگر تقدیر بدلنا مشکل! سو حکمرانوں نے آسان حل ڈھونڈ لیا ۔
رومی شہنشاہ مارکس اوریلیس نے لکھا تھا کہ کسی معاشرے کی عظمت اس کی عمارتوں یا علامتوں سے نہیں اس کے کردار اور نظام سے ظاہر ہوتی ہے۔ ایسے ہی امریکی شہری منصوبہ ساز جین جیکبز اپنی معروف کتاب The Death and Life of Great American Cities میں لکھتی ہیں کہ کامیاب شہر وہ نہیں ہوتے جو ظاہری تبدیلیوں پر زور دیں بلکہ وہ جو شہری زندگی کو بہتر بنائیں۔ مجھے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ کمزور حکومتیں اکثر عمارتوں‘ سڑکوں اور علامتوں کو بدلنے میں مصروف رہتی ہیں جبکہ مضبوط حکومتیں ادارے‘ معیشت اور نظام بدلتی ہیں۔ جن معاشروں میں حکمرانوں کے پاس عوام کو دینے کیلئے کوئی بڑی خبر نہیں ہوتی وہاں ناموں‘ یادگاروں اور تختیوں کی سیاست زور پکڑ لیتی ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں بھی ٹریفک جام ختم نہیں ہوتے‘ ہسپتال بہتر نہیں ہوتے‘ سکولوں کی حالت نہیں بدلتی اور شہری زندگی روز بروز مشکل ہوتی جاتی ہے‘ تاہم اچانک کسی کو سڑک‘ چوک اور کسی محلے کا نام یاد آ جاتا ہے۔ لاہور میں سڑکوں‘چوکوں اور محلوں کے نام تبد یل کرنے یا پرانے نام بحال کرنے کی حالیہ تجاویز بھی کچھ ایسا ہی سوال کھڑا کر رہی ہیں کہ کیا ہم واقعی شہر کا مستقبل بدل رہے ہیں یا صرف اس کے سائن بورڈز؟
لاہور میں سڑکوں‘ چوکوں اور علاقوں کے نام تبدیل کرنے یا پرانے نام بحال کرنے کی حالیہ تجاویز نے ایک بار پھر شہری منصوبہ بندی کے بجائے ترجیحات کی غلط سمت کو واضح کیا ہے۔ لاہور ہیریٹیج ایریاز ریوائیول یعنی لہر اتھارٹی کے پلیٹ فارم سے سامنے آنے والی ان سفارشات کے مطابق شہر کی تقریباً 21سڑکوں‘ 36 گلیوں اور 10اہم چوکوں اور محلوں کے نام تبدیل یا دوبارہ رکھنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو لاہور کے شہری نقشے میں ایک ایسا انتظامی زلزلہ آنے کا خدشہ ہے جس کے اثرات صرف سائن بورڈز تک نہیں رہیں گے ‘سرکاری ریکارڈ‘ ڈیجیٹل نظام‘ کاروباری دستاویزات اور روزمرہ زندگی تک پھیل جائیں گے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لاہور کوئی چھوٹا شہر نہیں‘ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی ایک کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز زیادہ ہے جبکہ روزانہ تقریباً 40لاکھ سے زائد شہری ان شاہراہوں‘ چوکوں اور علاقوں سے گزرتے ہیں جن کے نام تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صرف ڈیجیٹل نیویگیشن پر انحصار کرنے والے شہریوں کی شرح 60فیصد سے زیادہ ہے۔ ایسے میں اگر ایک ساتھ درجنوں سڑکوں کے نام بدل دیے جائیں تو کم از کم 70سے 80لاکھ افراد کی روزمرہ نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ لاہور میں پہلے ہی تقریباً 15فیصد سڑکیں ایسی ہیں جن کے دو دو نام عوامی سطح پر رائج ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری پہلے ہی ایک انتظامی کنفیوژن میں جی رہے ہیں اور اب حکومت ایک نئے بحران کی بنیاد رکھنے جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا شہر جو پہلے ہی ٹریفک‘ آلودگی‘ پانی اور انفراسٹرکچر کے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے‘ وہاں ناموں کی تبدیلی واقعی اولین ترجیح ہونی چاہیے؟ تجویز کردہ تبدیلیوں کی فہرست بھی حیران کن حد تک وسیع ہے۔ ایبٹ روڈ کو افتخار حسین ممدوٹ روڈ‘ بیڈن روڈ کو مولانا محمد علی جوہر روڈ‘ ڈیورنڈ روڈ کو سر سید احمد خان روڈ‘ ایجرٹن روڈ کو خلیفہ شجاع الدین روڈ‘ ایمپریس روڈ کو شاہراہ ابنِ بدیس‘ فین روڈ کو جسٹس کیانی روڈ اور فیروزپور روڈ کو شاہراہِ رومی کا نام دینے کی سفارش شامل ہے۔ صرف فیروزپور روڈ ہی روزانہ تقریباً تین لاکھ گاڑیوں کی ٹریفک برداشت کرتی ہے جبکہ مال روڈ سے روزانہ دو لاکھ سے زائد گاڑیاں اور ہزاروں پیدل افراد گزرتے ہیں۔ اسی طرح چوکوں اور علاقوں کے نام کی تبدیلی بھی کم نہیں۔ اسلام پورہ کو کرشن نگر‘ لکشمی چوک کو پرانے نام پر بحال کرنے‘ ناصر باغ کو گول باغ‘ باغ جناح کو لارنس گارڈنز اور متعدد دیگر مقامات کو ان کے تاریخی یا نوآبادیاتی ناموں کی طرف واپس لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر یہ تبدیلیاں لاہور کے شہری ڈھانچے کو متاثر کر سکتی ہیں‘ جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں کاروبار‘ دفاتر‘ سرکاری ریکارڈ تبدیل کرنا پڑیں گے۔ ڈیٹا سسٹم‘ لینڈ ریکارڈ‘ ڈاک نظام‘ ہنگامی خدمات اور ڈیجیٹل نقشہ سازی کو اپڈیٹ کرنا ہوگا‘ بعض ماہرین کے مطابق اس سارے معاملے پر تقریباً چھ سے آٹھ ارب روپے کے لگ بھگ خرچ آسکتا ہے۔ یہی رقم اگر درست ترجیحات پر لگائی جائے تو شہر کے 200 سے زائد سکولوں کی حالت بہتر ہو سکتی ہے‘ 50 سے زیادہ بنیادی صحت مراکز اَپ گریڈ ہو سکتے ہیں‘ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات مفت مل سکتی ہیں‘ ٹیسٹ مفت ہو سکتے ہیں اور ٹریفک نظام میں عملی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ لیکن یہاں حکومت کی ترجیحات دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی عوامی مسائل حل کرنا مقصد ہے یا محض علامتی سیاست یا کسی کی خواہش کو پورا کرنا مقصود ہے؟ لاہور پہلے ہی شدید شہری بحران سے دوچار ہے۔ شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس اکثر 200سے 400کے درمیان رہتا ہے جو عالمی ادارۂ صحت کے مطابق خطرناک حد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ٹریفک جام کی وجہ سے انتہائی قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے جبکہ شہری ٹرانسپورٹ کا نظام مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ پانی کی شدید قلت‘ نکاسیِ آب کے مسائل اور خستہ انفراسٹرکچر اس کے علاوہ ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی ترجیح واقعی صرف سڑکوں کے نام تبدیل کرنے تک محدود ہونی چاہیے؟ یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ پورا منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہری براہِ راست مہنگائی‘ بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں۔ ایک عام شہری کیلئے اہم سوال یہ نہیں کہ ایبٹ روڈ کا اصل نام کیا ہے بلکہ یہ ہے کہ اس روڈ پر سفر محفوظ‘ آسان اور سستا کب ہو گا؟
ناقدین کے مطابق یہ رویہ دراصل حکومتی ترجیحات کے بگاڑ کو ظاہر کرتا ہے‘ جہاں اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال کر علامتی اقدامات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ عالمی گورننس ماڈلز کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں عوامی بجٹ کا 70سے 80فیصد حصہ بنیادی انفراسٹرکچر‘ تعلیم‘ صحت اور ٹرانسپورٹ پر خرچ ہونا چاہیے مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے‘ جہاں علامتی منصوبے بھی اربوں روپے کے انتظامی اخراجات مانگتے ہیں۔ دوسری طرف یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ تاریخی شناخت کا تحفظ ضروری ہے‘ مگر سوال یہ ہے کہ کیا تاریخی شناخت کو بچانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ پورے شہر کا انتظامی ڈھانچہ ہلا دیا جائے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں اکثر نشانیاں بدلنے کو نظام بدلنے کا متبادل سمجھ لیتی ہیں۔ یہ لوگ منیجر ہیں‘ ان کا کام ہے بہتر طریقے سے مینج کرنا لیکن ان کے کاموں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمیں منیجر ہی نالائق ملے اور ہم صرف خواہشات کی تکمیل کیلئے انتہائی قیمتی وقت‘ وسائل‘ پیسہ سب ضائع کررہے ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ایک شہر کی کامیابی اس کے سائن بورڈز سے نہیں بلکہ اس کے نظام‘ سہولتوں اور شہری زندگی کے معیار سے ناپی جاتی ہے۔ تاریخ نام بدلنے سے محفوظ نہیں ہوتی‘ تاریخ انصاف‘ علم‘ تعمیر اور بہتر نظام سے محفوظ ہوتی ہے۔ اگر حکمرانوں کو واقعی لاہور سے محبت ہے تو وہ مال روڈ کو کسی بھی نام سے پکار لیں مگر پہلے یہ یقینی بنائیں کہ اس سڑک پر چلنے والا شہری عزت‘ سہولت اور سکون کے ساتھ سفر کر سکے۔ ورنہ خطرہ ہے کہ ہم ایک ایسے شہر کے باسی بن جائیں گے جہاں نام تو سب بدل چکے ہوں گے مگر مسائل جوں کے توں ہوں گے‘ پہلے سے زیادہ بڑے اور پہلے سے زیادہ تلخ۔