پٹرول، ٹیکس اور معیشت کے افسانے

پاکستان میں پٹرول 150 روپے فی لٹر؟ یہ سوال جتنا پُرکشش ہے‘ اتنا ہی پیچیدہ بھی۔ عالمی توانائی کی منڈی اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سیاست‘ جنگ‘ پابندیاں اور معاہدے ایک ہی وقت میں قیمتوں کا تعین کر رہے ہیں۔ ایران پر سے پابندیوں میں نرمی اور 60 روزہ برآمدی لائسنس جیسے اقدامات نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا واقعی پاکستان جیسے درآمدی ملک میں ایندھن سستا ہو سکتا ہے یا یہ صرف ایک معاشی فریبِ نظر ہے۔ پاکستان کی توانائی کی حقیقت جذبات سے نہیں بلکہ اعداد و شمار سے سمجھنا پڑتی ہے۔ مالی سال 2025ء کے اعداد کے مطابق پاکستان نے تقریباً 20 لاکھ ٹن ڈیزل درآمد کیا جبکہ 50 لاکھ ٹن مقامی ریفائنریوں سے حاصل کیا گیا۔ دوسری طرف پٹرول کی صورتحال اُلٹ ہے‘ جہاں تقریباً 50 لاکھ ٹن درآمد اور صرف 20 لاکھ ٹن مقامی پیداوار ہے۔ یعنی ملک کی توانائی کی سانسیں اب بھی بیرونی منڈیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔
ملکِ عزیز اپنی زیادہ تر خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے حاصل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نائیجیریا‘ امریکہ اور ماضی قریب میں روس بھی سپلائی چین کا حصہ رہے ہیں۔ 2023ء میں جب روسی تیل پاکستان پہنچا تو یہ صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک علامتی موڑ تھا جس نے پالیسی سازوں کو یہ باور کرایا کہ عالمی توانائی مارکیٹ اب پہلے جیسی بند نہیں رہی۔ جہاں سیاسی دروازے کھلیں‘ وہاں سپلائی چین بھی بدل سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی عالمی مارکیٹ میں واپسی پاکستان کو سستے ایندھن کی فراہمی کا سبب بن سکتی ہے؟ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ شاید نہیں‘ کم از کم براہِ راست نہیں۔ اس وقت ملک میں پٹرول کے سرکاری نرخ تقریباً 299 روپے اور ڈیزل کے 311 روپے فی لٹر ہیں جبکہ بلوچستان میں ایرانی ڈیزل اور پٹرول تقریباً 250 روپے فی لٹر میں دستیاب ہے۔ یہ فرق بظاہر بہت بڑا لگتا ہے مگر ماہرین کے مطابق یہ قیمتیں پابندیوں کے دور کی معیشت کا نتیجہ ہیں نہ کہ آزاد مارکیٹ کا۔ جیسے ہی ایران عالمی نظام میں واپس آئے گا وہ بھی وہی قیمت وصول کرے گا جو عالمی مارکیٹ طے کرے گی۔ روس اس کی واضح مثال ہے۔ 2022ء میں یوکرین جنگ کے بعد جب روس پر مغربی پابندیاں لگیں تو روسی تیل عالمی قیمت سے 30 سے 40 فیصد سستا فروخت ہوا۔ بھارت اور چین نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا لیکن جیسے ہی پابندیاں نرم ہوئیں روسی تیل بھی عالمی قیمتوں کے قریب آ گیا۔ مارکیٹ نے جذبات نہیں دیکھے‘ صرف طلب اور رسد کو دیکھا۔
ایران پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ ایران پر امریکی پابندیاں 2018ء میں اس وقت دوبارہ سخت ہوئیں جب امریکہ نے جوہری معاہدے (JCPOA) سے نکلنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے ایران تقریباً 25 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کر رہا تھا۔ پابندیوں کے بعد یہ مقدار گر کر پانچ سے سات لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی۔ اب اگر 60 روزہ برآمدی لائسنس یا کسی عارضی نرمی کے نتیجے میں ایران 10سے 15 لاکھ بیرل یومیہ بھی مارکیٹ میں لے آتا ہے تو یہ عالمی سپلائی میں ایک بڑا اضافہ ہو گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس سے پاکستان جیسے ممالک کی امیدیں جڑی ہیں۔ عالمی منڈی میں اگر سپلائی بڑھتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ آتا ہے۔ 2008ء میں جب عالمی تیل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچی تھی تو دنیا بھر میں معاشی بحران پیدا ہوا تھا۔ اس کے بعد شیل آئل انقلاب اور اوپیک کی پالیسیوں نے قیمتوں کو نسبتاً کم کیا۔ 2020ء میں کورونا کے دوران تو صورتحال یہ تھی کہ امریکی خام تیل (WTI) منفی قیمت تک گر گیا تھا‘ یعنی بیچنے والے خریدار کو پیسے دینے کو تیار تھے۔ یہ تاریخ کا غیرمعمولی واقعہ تھا۔ لیکن ان تمام مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے‘ قیمتیں عالمی سپلائی اور طلب سے چلتی ہیں نہ کہ کسی ایک ملک کی خواہش سے۔ پاکستان کیلئے ایران کا سب سے بڑا فائدہ جغرافیہ ہے نہ کہ کم قیمت۔ ایران سے قربت کی وجہ سے فریٹ اور ٹرانسپورٹ لاگت کم ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے فی لٹر چند روپے کی بچت ممکن ہے لیکن 150 روپے فی لٹر تک کمی کا تصور موجودہ عالمی ڈھانچے میں حقیقت پسندانہ نہیں۔
اصل مسئلہ صرف قیمت نہیں بلکہ ریفائننگ کا نظام بھی ہے۔ ایرانی خام تیل نسبتاً بھاری (heavy crude) ہوتا ہے‘ جس سے 40 سے 45 فیصد تک فرنس آئل نکلتا ہے۔ پاکستان میں فرنس آئل کی کھپت محدود ہے جبکہ ریفائنریوں کی اکثریت لائٹ کروڈ کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران سے خام تیل بڑے پیمانے پر آئے بھی تو اسے پروسیس کرنا پاکستان کیلئے چیلنج ہو گا۔ پاکستان کی ڈیزل اور پٹرول کی سالانہ کھپت 70‘ 70لاکھ ٹن کے قریب ہے۔ اس میں سے بڑا حصہ درآمدی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی توانائی پالیسی بیرونی جھٹکوں کیلئے ہمیشہ حساس رہی ہے۔ 1973ء کا آئل کرائسز‘ 2008ء کی قیمتوں میں تیزی اور 2022ء کی عالمی مہنگائی‘ یہ سب پاکستان کیلئے معاشی جھٹکے ثابت ہوئے۔ یہاں ایک اہم پہلو سفارتکاری کا بھی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی مفاہمتی کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ توانائی اب صرف تجارت نہیں بلکہ جیوپولیٹکل ٹول بن چکی ہے۔ اگر پاکستان اس توازن کو درست طریقے سے استعمال کرے تو نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ معاشی استحکام میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔
لیکن ایک حقیقت اٹل ہے کہ ایران پر پابندیوں میں نرمی کا مطلب پاکستان میں فوری سستا پٹرول نہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ عالمی قیمتوں میں معمولی کمی‘ سپلائی میں استحکام اور طویل مدتی معاہدوں میں بہتری کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ پاکستان میں اصل مسئلہ عالمی قیمت نہیں بلکہ داخلی ڈھانچہ ہے۔ ٹیکس‘ لیوی‘ روپے کی قدر اور ریفائننگ مارجن‘ جب تک یہ عوامل موجود ہیں عالمی منڈی میں چاہے جتنی بھی نرمی آئے‘ صارف تک مکمل فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ نتیجہ سادہ ہے مگر تلخ بھی: ایران کی واپسی عالمی منڈی کیلئے اہم ہے‘ یہ پاکستان کیلئے فائدہ مند ہو سکتی ہے مگر 150روپے فی لٹر پٹرول کا خواب موجودہ معاشی اور جغرافیائی حقیقتوں میں ایک دور کی کوڑی ہے۔ اگلے روز چیئرمین ایف بی آر نے اپنے ایک کالم میں ملکی معیشت کے کئی ''افسانوں‘‘ کا ذکر کیا‘ مگر کالم پڑھتے ہوئے سب سے بڑا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ افسانے تخلیق کس نے کیے‘ انہیں زندہ کس نے رکھا اور ان سے فائدہ کس نے اٹھایا؟ اگر قرضوں پر انحصار‘ کمزور ٹیکس نظام‘ محدود ٹیکس بیس‘ مراعات یافتہ طبقوں کو دی جانے والی ہزاروں ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ اور مالیاتی بے ضابطگیاں واقعی معیشت کی خرابی کی بنیادی وجوہات ہیں تو پھر ان مسائل کے حل کی ذمہ داری بھی انہی اداروں پر عائد ہوتی ہے جو ریاست کے مالیاتی نظام کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ برسوں سے عوام کو انہی پالیسیوں کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں اور آج انہی نتائج کو افسانے قرار دے کر بیان کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ چیئرمین ایف بی آر جو کہہ رہے ہیں‘ تو جناب جب یہ افسانے پروان چڑھ رہے تھے ریاستی ادارے تب کہاں تھے؟ اگر نظام غلط تھا تو اسے درست کرنے کی کوشش کیوں نہ ہوئی؟ اگر مراعات غیرمنصفانہ تھیں تو انہیں ختم کیوں نہ کیا گیا؟ اگر ٹیکس کا بوجھ غلط سمت جا رہا تھا تو اس کی اصلاح کیوں نہ ہوئی؟ آج بھی صورتحال یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ‘ صارفین اور دستاویزی معیشت مسلسل دباؤ میں ہے جبکہ بڑے لوگوں کے استثنیٰ‘ خصوصی رعایتیں اور مفادات بڑی حد تک محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں عوام کو محض افسانوں کی فہرست نہیں چاہیے بلکہ یہ جاننے کا حق چاہیے کہ ان افسانوں کے کردار کون تھے‘ ان کے نگہبان کون تھے اور ان کا احتساب کب ہوگا۔ سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ معیشت کے افسانوں پر روشنی ڈالنے والے خود اسی معاشی نظام کے اہم ترین کرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے عوام شاید یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ افسانے صرف معیشت میں نہیں‘ احتساب اور اصلاحات کے دعوؤں میں بھی موجود ہیں!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں