پراجیکٹ مکمل، اگلا امتحان اندرونی استحکام کا

دنیا کی سیاست میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک سفارتی واقعہ نہیں ہوتے بلکہ آنے والے کئی برسوں کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن معاہدے کی جانب پیش رفت بھی ایک ایسا ہی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا تنازع جس نے کئی دہائیوں تک مشرقِ وسطیٰ کو جنگ‘ پابندیوں‘ اقتصادی عدم استحکام اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنائے رکھا‘ اس کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ کھلنا پوری دنیا کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ اس تمام عمل میں پاکستان کا نام بھرپور طریقے سے نمایاں ہونا غیرمعمولی بات ہے۔ چند برس پہلے تک پاکستان کو عالمی سطح پر زیادہ تر معاشی بحران‘ سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا مگر آج عالمی سفارت کاری میں ایک ایسے ملک کے طور پر اس کا ذکر ہو رہا ہے جس نے امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے ماحول کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ کامیابی کسی ایک دن کی پیداوار نہیں بلکہ مختلف سطحوں پر مسلسل رابطوں اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو دنیا کے سامنے پیش کیا‘ مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ روابط قائم رکھے اور پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نمایاں کیا۔ اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سرپرستی میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں متحرک کردار ادا کیا۔ ایران‘ قطر‘ سعودی عرب اور امریکی سفارتی حلقوں کے ساتھ ملاقاتیں‘ مختلف نکات کی ترسیل اور اعتماد سازی کے عمل میں ان کی سرگرمیوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل کی سطح پر ہونے والے رابطوں نے بھی پاکستان کی عالمی اہمیت کو ایک نیا پہلو دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا تھا پاکستان کی عسکری قیادت کو بات چیت‘ رابطے اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے کردار پر دنیا بھر میں گفتگو ہوئی اور پاکستان کو ایک ممکنہ پل کے طور پر دیکھا گیا۔تاہم سفارتی کامیابیوں کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ کسی ملک کی معیشت اور عوامی زندگی میں بہتری کا سبب بنیں۔ آبنائے ہرمز‘ جہاں سے دنیا کے تقریباً 20فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے‘ میں کشیدگی کم ہونے کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑ ے گا۔ پاکستان ہر سال تقریباً 20سے 22ارب ڈالر کی توانائی درآمد کرتا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 10ڈالر فی بیرل کمی پاکستان کے لیے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر تک سالانہ بچت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ رقم زرمبادلہ کے ذخائر‘ بجٹ خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ اسی طرح ایران کے ساتھ تجارت کے نئے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے لیکن پابندیوں اور علاقائی سیاسی پیچیدگیوں کے باعث دونوں ملکوں کی باہمی تجارت اپنی حقیقی صلاحیت تک نہیں پہنچ سکی تاہم ماہرین کے مطابق دو طرفہ تجارت کئی گنا اضافے کی گنجائش رکھتی ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن‘ جسے امن پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے‘ بھی دوبارہ اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان جو ایل این جی کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے‘ مستقبل میں توانائی کے متبادل ذرائع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے‘ اگر بین الاقوامی ماحول اس کے لیے سازگار بنتا ہے۔ لیکن شاید اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سیاسی اثر پاکستان کے داخلی منظرنامے پر پڑنے والا ہے۔
عالمی سطح پر حاصل ہونے والی سفارتی کامیابی کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کی ریاستی ساخت اور فیصلہ سازی کے مراکز پہلے کے مقابلے میں زیادہ اعتماد اور استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ طاقت کے روایتی توازن میں تبدیلی کے حوالے سے بھی سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے اور یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ آئندہ قومی فیصلوں میں ریاستی اداروں کا کردار کس حد تک نمایاں ہوگا۔ گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان سیاسی انتشار‘ معاشی بحران اور ادارہ جاتی کشمکش کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اور یہ بات اب واضح ہو چکی کہ مقتدرہ اب پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ اب شاید وہ وقت ہے کہ سیاستدانوں کی ضرورت بھی کم پڑنے لگی ہے اور شاید ایسا وقت آ گیا ہے کہ توجہ صرف سیاسی لڑائیوں کے بجائے ریاستی اصلاحات اور عوامی مسائل کے حل کی طرف منتقل ہو۔ 28ویں آئینی ترمیم ہو‘ نئے صوبوں کا قیام ہو‘ سب پراجیکٹس کو جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہو گا۔ اختیارات کی بہتر تقسیم کا معاملہ ‘ مستقبل کی آئینی اصلاحات اور گورننس کے نظام کو مؤثر بنانے کے اقدامات‘ آنے والے دنوں میں بڑے فیصلوں کی گنجائش پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم کسی بھی آئینی یا انتظامی تبدیلی کی کامیابی جمہوری عمل‘ پارلیمانی اتفاقِ رائے اور عوامی حمایت سے مشروط ہو گی۔ اور اب وہ بھی راستہ مکمل صاف دکھائی دینے لگا ہے۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عالمی پذیرائی کسی قوم کے لیے ایک موقع تو بن سکتی ہے لیکن یہ داخلی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ دنیا کی بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق تعلقات استوار کرتی ہیں‘ اس لیے پاکستان کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ کیا پاکستان اس سفارتی مقام کو معاشی طاقت میں بدل سکے گا؟ کیا عام آدمی کو مہنگائی‘ بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے مسائل سے نجات مل سکے گی؟ کیا نظامِ حکومت میں وہ اصلاحات آ سکیں گی جن کا وعدہ دہائیوں سے کیا جاتا رہا ہے؟ شاید آنے والا وقت ان تمام سوالات کا جواب دے گا۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ دنیا نے پاکستان کو ایک نیا موقع ضرور دیا ہے۔ عالمی سفارت کاری میں حاصل ہونے والی یہ اہمیت اگر قومی اتحاد‘ بہتر گورننس‘ معاشی اصلاحات اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کی گئی تو یہ دور پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ متحارب طاقتوں کو امن کی میز تک پہنچانا ایک کامیابی ہے لیکن قوموں کی اصل کامیابی اپنے عوام کے لیے امن‘ خوشحالی اور استحکام پیدا کرنے میں ہوتی ہے۔ اب دنیا کی نظریں صرف اس بات پر نہیں کہ پاکستان نے ایک عالمی بحران میں کیا کردار ادا کیا بلکہ اس پر بھی ہیں کہ پاکستان اس عالمی اعتماد کو اپنے اندرونی استحکام اور ترقی کی داستان میں کس حد تک تبدیل کر پاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں