پٹرولیم قیمتوں میں شفافیت کا سوال

ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت پر بحث عموماً ایک سادہ جملے سے شروع ہوتی ہے کہ متعدد ممالک کے مقابلے میں یہاں ایندھن اب بھی سستا ہے‘ حالانکہ کرنسی تبدیل کرکے تیار کی گئی فہرست کا موازنہ کسی شہری کی قوتِ خرید پر ایندھن کی قیمتوں کے بوجھ کا صحیح احاطہ نہیں کرتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک لٹر پٹرول خریدنے کیلئے اسے اپنی آمدن کا کتنا حصہ خرچ کرنا پڑتا ہے‘ اس کے پاس سفر کے سستے متبادل ذرائع کتنے ہیں اور قیمت میں نئے اضافے کے بعد اس کے گھر کا بجٹ کتنی مزید قربانی مانگتا ہے؟تازہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 310 روپے 71 پیسے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 323روپے 30پیسے فی لٹر ہو چکی ہے۔ ایک موٹر سائیکل سوار اگر روزانہ دو لٹر پٹرول استعمال کرتا ہے تو اس کا یومیہ خرچ تقریباً 621روپے بنتا ہے۔ اگر وہ مہینے میں 26دن دفتر‘ دکان یا فیکٹری جاتا ہے تو صرف پٹرول پر 16ہزار روپے سے زیادہ خرچ ہو سکتے ہیں جبکہ پانچ لٹر روزانہ استعمال کرنے والی چھوٹی گاڑی کا ماہانہ ایندھن خرچ 40 ہزار روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اس حساب میں انجن آئل‘ مرمت‘ ٹائر‘ ٹول ٹیکس‘ پارکنگ‘ رجسٹریشن اور گاڑی کی قسط شامل نہیں۔ کسی امیر ملک میں پٹرول پاکستانی روپے میں 400 یا 500 روپے فی لٹر بھی ہو سکتا ہے لیکن وہاں ایک ملازم کی فی گھنٹہ اجرت اتنی ہو سکتی ہے کہ وہ چند منٹ کام کرکے ایک لٹر پٹرول خرید سکتا ہے جبکہ پاکستان میں لاکھوں افراد کو ایک لٹر پٹرول خریدنے کیلئے کئی گھنٹوں کی آمدن خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے حقیقی قیمت صرف شرح مبادلہ کے ساتھ نہیں بلکہ اجرت‘ قوتِ خرید‘ مہنگائی اور سفر کی مجبوری کے مجموعے سے سامنے آتی ہے۔ اگر کسی شخص کی ماہانہ آمدن 40 ہزار روپے ہے تو 50 لٹر پٹرول کی قیمت تقریباً 15 ہزار 535 روپے بنتی ہے۔ یوں اس کی آمدن کا تقریباً 39 فیصد صرف پٹرول پر خرچ ہو سکتا ہے۔ ایک لاکھ روپے کمانے والا شہری اگر مہینے میں 100 لٹر پٹرول استعمال کرے تو اسے 31 ہزار روپے سے زیادہ ادا کرنا ہوں گے۔ اب اسی رقم سے گھر کا کرایہ‘ بجلی اور گیس کے بل‘ بچوں کی فیس‘ راشن‘ ادویات اور دیگر اخراجات بھی پورے کرنے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا کہ پاکستان میں پٹرول کسی دوسرے ملک سے سستا ہے‘ ایک عام پاکستانی کی مالی مشکلات کو کم نہیں کرتا۔ پاکستان خام تیل اور تیار پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے‘ اس لیے عالمی مارکیٹ کے نرخ‘ روپے اور ڈالر کی شرحِ مبادلہ‘ بحری کرایہ‘ انشورنس اور بندرگاہی اخراجات قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ریفائنری مارجن‘ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن‘ ڈیلر کمیشن‘ اندرون ملک ترسیل اور حکومتی لیوی شامل ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر جزو اپنی جگہ قابلِ فہم ہے لیکن صارف کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حتمی قیمت میں کس مد کا حصہ کتنا ہے۔ وفاقی بجٹ میں پٹرولیم لیوی سے تقریباً 1676 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ مزید 50 ارب روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ دونوں کو جمع کیا جائے تو تقریباً 1726 ارب روپے بنتے ہیں۔ اسے 12 مہینوں پر تقسیم کیا جائے تو اوسطاً 143 ارب روپے سے زیادہ ماہانہ بنتے ہیں۔
پٹرولیم لیوی بذاتِ خود غیرقانونی یا لازماً نامناسب محصول نہیں۔ پاکستان کو بجٹ خسارے‘ قرضوں‘ دفاع‘ سرکاری تنخواہوں‘ پنشن اور ترقیاتی اخراجات کیلئے آمدن درکار ہے۔ براہِ راست ٹیکسوں کی محدود وصولی اور مختلف طاقتور شعبوں کو حاصل رعایتوں کے باعث حکومت کیلئے پٹرولیم مصنوعات سے محصول جمع کرنا نسبتاً آسان ہے۔ مگر انتظامی طور پر آسان ٹیکس ہمیشہ معاشی طور پر منصفانہ ٹیکس نہیں ہوتا۔ ایک بڑی گاڑی رکھنے والا امیر شخص اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والا کم آمدن والا مزدور پٹرول پر ایک ہی شرح سے لیوی ادا کرتے ہیں‘ حالانکہ دونوں کی مالی برداشت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک شخص کیلئے پٹرول کی قیمت تفریحی سفر محدود کرنے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ دوسرے کیلئے یہی اضافہ بچوں کی فیس‘ دوا یا دودھ کا بجٹ کم کر دیتا ہے۔ یہی بالواسطہ ٹیکسوں کا بنیادی مسئلہ ہے کہ ان کی شرح آمدن کے مطابق تبدیل نہیں ہوتی۔ جون 2026ء میں سالانہ مہنگائی 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ایسے ماحول میں ایندھن کی نئی چھلانگ صرف ایک شے تک محدود نہیں رہتی بلکہ آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں دیگر اشیا کے نرخ بڑھنے کا خطرہ بھی پیدا کرتی ہے۔ ہر اضافہ فوری طور پر اور مکمل مقدار میں صارف تک منتقل نہیں ہوتا۔ اس کا انحصار مارکیٹ کی طلب‘ تاجروں کے درمیان مقابلے‘ پرانے ذخیرے‘ ٹرانسپورٹ معاہدوں اور قیمت کے بلند رہنے کی مدت پر ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان میں قیمتوں کے نفسیاتی اثرات اکثر حقیقی لاگت سے پہلے بازار تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر چند ہفتوں بعد ایندھن سستا بھی ہو جائے تو اشیائے ضروریہ کے نرخ عموماً اسی رفتار سے نیچے نہیں آتے۔ جولائی 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران پٹرولیم درآمدات 13.88 ملین ٹن تک پہنچ گئیں اور پٹرولیم کاسب سے زیادہ حصہ ٹرانسپورٹ کے شعبے نے استعمال کیا۔ مسافروں اور سامان کی نقل و حرکت کیلئے ملک کا غیرمعمولی انحصار سڑکوں پر ہے جبکہ ان سڑکوں پر جلنے والا تیل بڑی مقدار میں بیرونِ ملک سے آتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ‘ آبنائے ہرمز میں کشیدگی‘ بحری جہازوں کے کرایوں میں اضافہ‘ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت یا روپے کی قدر میں کمی چند دنوں یا ہفتوں میں پاکستانی صارف کو متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی قیمت کم ہونے کے باوجود اگر روپیہ کمزور ہو جائے تو درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح خام تیل مستحکم رہنے کے باوجود تیار شدہ ڈیزل یا پٹرول‘ فریٹ اور انشورنس مہنگے ہونے سے مقامی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان عالمی درجہ بندی میں کہیں بھی کھڑا ہو‘ درآمدی انحصار اسے بیرونی جھٹکوں کے رحم و کرم پر رکھے گا۔ اس مسئلے کا مستقل حل سبسڈی نہیں‘ تیل کی طلب کم کرنا ہے۔ مال برداری کیلئے پاکستان ریلوے پر انحصار بڑھایا جائے تو ایک ہی ٹرین متعدد ٹرکوں جتنا سامان منتقل کر سکتی ہے۔ اس سے فی ٹن ایندھن کی کھپت‘ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ‘ ٹریفک اور حادثات کم ہو سکتے ہیں۔ صنعتی علاقوں‘ بندرگاہوں اور زرعی منڈیوں کو مال گاڑیوں سے منسلک کرنا طویل مدت میں درآمدی تیل کا بل کم کرنے کی مؤثر حکمت عملی بن سکتی ہے۔ اس طرح شہری علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم‘ پیدل چلنے کیلئے محفوظ راستے‘ سائیکل ٹریک اور پارک اینڈ رائیڈ سہولت شہریوں کو ذاتی گاڑیاں چھوڑنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ صرف چند مہنگے نمائشی منصوبے کافی نہیں‘ درمیانے اور چھوٹے شہروں میں کم خرچ‘ باقاعدہ اور وقت کی پابند بس سروس زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بھی تیل کی طلب کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن ان کی قیمت‘ بیٹری کی عمر‘ چارجنگ سہولت اور ری سائیکلنگ کا قابلِ اعتماد نظام بنانا ہوگا۔
پٹرولیم قیمتوں کی شفافیت کیلئے عالمی یا درآمدی قیمت‘ شرح مبادلہ‘ فریٹ چارجز‘ انشورنس‘ ریفائنری مارجن‘ آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن‘ ڈیلر کمیشن‘ پٹرولیم لیوی‘ کلائمیٹ لیوی اور حتمی قیمت الگ الگ لکھی جائے۔ گزشتہ قیمت کے مقابلے میں ہر جزو کا اضافہ یا کمی بھی ظاہر کی جائے۔ اس طرح عوام جان سکیں گے کہ قیمت عالمی منڈی سے بڑھی‘ روپے کی کمزوری سے یا حکومتی محصول میں تبدیلی سے۔ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے استعمال کی بھی سہ ماہی رپورٹ جاری ہونی چاہیے۔ اگر شہری ماحول کے نام پر رقم ادا کر رہا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کتنی رقم الیکٹرک بسوں‘ ریلوے‘ صاف توانائی‘ سیلاب سے تحفظ‘ فضائی آلودگی یا شہری شجرکاری پر خرچ ہوئی اور پھر اس کے اثرات کیا آئے۔ اس محصول کو عمومی خزانے میں شامل کرکے اس کا مقصد غیر واضح کر دینا عوامی اعتماد کو نقصان پہنچائے گا۔ اسی طرح پٹرولیم لیوی کو ٹیکس اصلاحات کا مستقل متبادل نہیں بننا چاہیے۔ پٹرول کی قیمت کا حقیقی پیمانہ عالمی جدول نہیں بلکہ پاکستانی شہری کی جیب‘ آمدن اور زندگی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...