"AIZ" (space) message & send to 7575

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ

دنیا میں سب سے بلند مقام اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو عطا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحی کا نزول ہوتا رہا۔ انبیاء کرام علیہم السلام میں صاحبِ شریعت رسل اللہ کا مقام انتہائی بلند ہے اور صاحبِ شریعت رسل اللہ میں سے اولو العزم رسول یعنی حضرت نوح‘ حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ‘ حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور رسول اللہﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے کائنات میں منفرد شان عطا کی ہے۔ جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریمﷺ کے اسوہ کو ہمارے لیے اسوۂ کامل بنا دیا وہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو بھی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الممتحنہ کی آیت: 4 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''(مسلمانو!) تمہارے لیے ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات کو اسوۂ حسنہ بنانے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کے لیے غیر معمولی قربانیاں دیں۔ آپ علیہ السلام نے جوانی میں ہی بتوں کی حقیقت کو واضح فرما دیا۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الانبیاء کی آیات: 51 تا 70 میں کچھ یوں بیان فرمایا ''اور یقینا ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ بخشی تھی‘ اور ہم اس کے احوال سے بخوبی واقف تھے۔ جب اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں‘ جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو‘ کیا ہیں؟ سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا۔ (ابراہیم نے) کہا: پھر تو تم اور تمہارے باپ دادا سبھی یقینا کھلی گمراہی میں مبتلا رہے۔ وہ کہنے لگے: کیا آپ ہمارے پاس سچ مچ حق لائے ہیں یا یونہی مذاق کر رہے ہیں۔ (ابراہیم نے) کہا: نہیں! درحقیقت تم سب کا پروردگار تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے‘ جس نے انہیں پیدا کیا ہے‘ میں تو اسی بات کا گواہ (اور قائل) ہوں۔ اور اللہ کی قسم! میں تمہارے ان معبودوں کے ساتھ جب تم علیحدہ پیٹھ پھیر کر چل دو گے‘ ایک چال چلوں گا۔ پس انہوں نے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے‘ ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ یہ بھی اس لیے کہ وہ سب اس کی طرف ہی لوٹیں۔ (قوم کے لوگ جب واپس آئے تو) کہنے لگے کہ ہمارے خدائوں کے ساتھ یہ (سلوک) کس نے کیا؟ ایسا شخص تو یقینا ظالموں میں سے ہے۔ (کچھ افراد) بولے: ہم نے ایک نوجوان کو ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا تھا‘ جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ سب نے کہا: اچھا‘ اسے مجمع میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے لائو تاکہ سب دیکھیں۔ کہنے لگے: اے ابراہیم کیا تُو نے ہی ہمارے خدائوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟ ابراہیم نے جواب دیا: بلکہ اس کام کو ان کے بڑے (بت)نے کیا ہے‘ تم اپنے خدائوں سے ہی پوچھ لو اگر یہ بولتے چالتے ہوں۔ پس یہ لوگ اپنے دلوں میں قائل ہو گئے اور کہنے لگے: واقعی ظالم تو تم (خود) ہی ہو۔ پھر (شرمندگی سے) اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے (اور کہنے لگے کہ) یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ بولنے چالنے والے نہیں۔ (ابراہیم نے) کہا: افسوس! کیا تم اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ بھی نفع پہنچا سکیں نہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور اُن پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ کیا تمہیں اتنی سی عقل بھی نہیں؟ کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خدائوں کی مدد کرو‘ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔ ہم نے فرمایا: اے آگ! تُو ٹھنڈی پڑ جا اور ابراہیم کے لیے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا! گو کہ انہوں نے ابراہیم کا برا چاہا‘ لیکن ہم نے انہیں ہی خسارے والا بنا دیا‘‘۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جہاں بتوں کی بے بسی اور بے وقعتی کو واضح کیا وہیں آپ علیہ السلام نے اجرام سماویہ کی حقیقت کو بھی واضح فرما دیا۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الانعام کی آیات: 75 تا 79 میں کچھ یوں بیان فرمایا ''اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھلائے تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔ پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا اور کہا کہ یہ میرا رب ہے مگر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ پھر جب چاند کو دیکھا‘ چمکتا ہوا‘ تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غروب ہو گیا تو کہا کہ اگر مجھ کو میرے رب نے ہدایت نہ دی تو میں راستہ گم کرنے والے لوگوں میں شامل ہو جائوں گا۔ پھر جب آفتاب کو دیکھا خوب چمکتا ہوا‘ تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے‘ یہ تو سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا: بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ میں اپنا رخ اُس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا‘ یکسو ہو کر‘ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔
ابراہیم علیہ السلام کے دور کا حاکم نمرود اپنے آپ کو رب اور الٰہ قرار دیتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دربارِ نمرود میں پہنچ کر اس کی حقیقت کو بڑے مدلل انداز میں واضح فرما دیا۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 258 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''کیا تو نے اُسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو جِلاتا ہے اور مارتا ہے‘ (تو) وہ کہنے لگا: میں بھی جِلاتا اور مارتا ہوں‘ ابراہیم نے کہا: اللہ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تُو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ اب تو وہ کافر بھونچکا رہ گیا‘ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عداوتوں اور مخالفتوں کا مقابلہ بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ کیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے پر بھی ہمیشہ آمادہ وتیار رہے۔ آپ علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بڑھاپے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا فرمانبردار بیٹا عطا کیا۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کچھ دوڑ دھوپ کے قابل ہوئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو خواب کے ذریعے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا۔ اس واقعہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الصافات کی آیات: 99 تا 107 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''اور اس (ابراہیم) نے کہا: میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں۔ وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔ اے میرے رب! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے‘ تو اس (ابراہیم) نے کہا: میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تُو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ غرض جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا۔ تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم! یقینا تُو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا‘ بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا‘‘۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طرزِ زندگی اہلِ ایمان کے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ انسان کی وابستگی ہو جائے تو اس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے اپنی وابستگی کو پوری طرح واضح کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت پر چلنے کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں