"AIZ" (space) message & send to 7575

ایفائے عہد

کسی بھی معاشرے کے استحکام کیلئے زبان سے کہی ہوئی بات پر پورا اترنا انتہائی ضروری ہے۔ ایفائے عہد کی وجہ سے زندگی کے تمام معاملات آسانی سے آگے بڑھتے ہیں اور اگر وعدہ خلافی کی جائے تو بہت سے معاملات ادھورے رہ جاتے اور بدگمانیاں جنم لیتی ہیں۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں وعدے کو حیلے بہانے یا ٹال مٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور تمام شعبوں سے وابستہ بہت سے لوگ وعدہ خلافیاں کرتے ہیں۔ کاروبار میں عام طور پر وعدہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ وقتی طور پر پیسے کا تقاضا کرنے والوں سے جان چھڑا لی جائے اور وعدہ کرتے وقت نیت مقررہ تاریخ پر پیسے ادا کرنے کی نہیں ہوتی۔ کئی مرتبہ معاشرتی حوالے سے بھی وعدہ خلافی کی جاتی ہے یہاں تک کہ اکثر اوقات شوہر اور بیوی بھی ایک دوسرے سے وعدہ خلافی کر جاتے ہیں۔ اسی طرح کئی مرتبہ والدین اپنی اولاد کے ساتھ اور اولاد اپنے والدین کے ساتھ وعدہ خلافی کرتی ہے۔ بہت سے سیاستدان بھی لوگوں کے ساتھ وعدہ خلافی کرتے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو فقط ووٹ لینے کیلئے استعمال کرتے اور منتخب ہونے کے بعد اُن وعدوں کو مکمل طور پر فراموش کر دیتے ہیں۔ بہت سے نوجوان نکاح کا وعدہ کر کے خواتین کو جھانسا دیتے اور ان کی عزت کو پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بہت سے لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ کسی نعمت کے حصول پر اچھے عمل کا وعدہ کرتے ہیں لیکن نعمت کے مل جانے کے بعد وعدے کو فراموش کر دیتے ہیں۔ اسی قسم کے ایک وعدے کا ذکر سورۃ التوبہ کی آیات: 75 تا 77 میں کچھ یوں کیا گیا ہے: ''ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ وخیرات کریں گے اور پکی طرح نیکوکاروں میں ہو جائیں گے۔ لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا تو یہ اس میں بخیلی کرنے لگے اور ٹال مٹول کرکے منہ موڑ لیا۔ پس اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا‘ اللہ سے ملنے کے دنوں تک‘ کیونکہ انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کیا اور کیونکہ (یہ) جھوٹ بولتے رہے‘‘۔ یہ رویے انتہائی افسوسناک ہیں۔ ہمیں ہر صورت وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کسی وقتی مصلحت‘ مفاد یا خوف کی وجہ سے وعدہ خلافی نہیں کرنی چاہیے۔
وعدے کی اہمیت کو کتاب وسنت میں انتہائی وضاحت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 34 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المائدہ کی پہلی آیت میں ارشاد فرمایا: ''اے ایمان والو! عہد وپیماں پورے کرو‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے وعدے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سورۃ الانعام کی آیت: 152 میں ارشاد فرمایا: ''اور اللہ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو‘‘۔ ان تمام آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے وعدے کی بہرصورت پابندی کرنی چاہیے اور اگر انسان اس حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتا تو اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں جو اب دہ ہونا پڑے گا۔
احادیث مبارکہ میں بھی وعدے کی اہمیت کو نہایت خوبصورت انداز سے اجاگر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ''منافق کی تین علامتیں ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے‘ جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی وہ ہوں گی وہ منافق ہو گا۔ یا ان چار میں سے اگر کوئی ایک خصلت بھی اس میں ہے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے‘ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب بولے تو جھوٹ بولے‘ جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے‘ جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے‘ اور جب جھگڑے تو بدزبانی پر اتر آئے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے بتلایا کہ ''اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کا قیامت کے روز میں خود مدعی بنوں گا۔ ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پہ عہد کیا اور پھر وعدہ خلافی کی۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی کو مزدور کیا‘ پھر کام تو اس سے پورا لیا لیکن اس کی مزدوری نہ دی‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ (شام میں قیصرِ روم کے دربار میں)ہرقل نے ان (ابوسفیان) سے پوچھا کہ وہ (محمدﷺ) تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ نماز‘ راست گوئی‘ پاکدامنی‘ عہد کے پورا کرنے اور امانت کے ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ نبی کریمﷺ کی صفات ہیں۔
احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریمﷺ جب کسی سے وعدہ کرتے تو آپﷺ اُس کو ضرور پورا فرماتے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں مشہور تابعی حضرت سعیدؒ بن جبیر سے روایت ہے کہ حیرہ کے یہودی نے مجھ سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (اپنے مہر کے ادا کرنے میں) کون سی مدت پوری کی تھی؟ ( یعنی آٹھ سال یا دس سال‘ جن کا قرآن میں ذکر ہے) میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں‘ ہاں! عرب کے بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھ لوں (تو پھر تمہیں بتا دوں گا) چنانچہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے بڑی مدت پوری کی (یعنی دس سال کی) جو دونوں مدتوں میں بہتر تھی۔ رسول اللہﷺ بھی جب کسی سے وعدہ کرتے تو ضرور پورا کرتے تھے۔
انسان کئی مرتبہ کسی سے پختہ عہد کرتا ہے لیکن زندگی اُس شخص کو اپنا وعدہ پورا کرنے کی مہلت نہیں دیتی تو ایسی صورت میں انسان کے لواحقین اور ورثا کو اپنے سرپرست اور پیشوا کے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس (بحرین کے عامل) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اعلان کرا دیا کہ جس کسی کا بھی نبی کریمﷺ پر کوئی قرض ہو یا آنحضرتﷺ کا اس سے وعدہ ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ان سے کہا کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے وعدہ فرمایا تھا کہ آپﷺ اتنا مال مجھے عطا فرمائیں گے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ اپنے ہاتھ بڑھائے اور میرے ہاتھ پر پانچ سو‘ پھر پانچ سو اور پھر پانچ سو (اشرفیاں) گن دیے۔
مندرجہ بالا آیات اور احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وعدے کو پورا کرنا ہر مسلمان کیلئے ازحد ضروری ہے اور کوئی بھی مومن ومسلمان کسی دوسرے کے ساتھ‘ کسی بھی صورت میں وعدہ خلافی پر آمادہ وتیار نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہمیں بہرصورت اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے۔ ہمیں وعدوں کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھنا چاہیے اور اس کو حیلے اور ٹال مٹول کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اپنے وعدوں اور قول و قرار کو پورا کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں