قاری صہیب احمد میر محمدی ملک کے مشہور عالمِ دین ہیں‘ جو ضلع قصور میں مرکز دارالاصلاح کے مدیر ہیں۔ اس ادارے کو حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی رحمہ اللہ نے قائم کیا تھا۔ حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی ایک عظیم روحانی اور علمی شخصیت تھے۔ لوگ اُن کے دروس میں بڑے شوق سے شریک ہوتے‘ ان سے حاصل کردہ علم پر عمل پیرا ہوتے اور اس کو آگے بھی پہنچاتے۔ ان کے بعد بہت سے قابل اساتذہ اس ادارے سے وابستہ ہوگئے اور اس نے مزید ترقی کی۔ اس ادارے میں طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ ملک بھر میں دین کی تبلیغ اور تعلیم وتدریس سے وابستہ ہیں۔ اس ادارے میں وقفے وقفے سے ملک بھر کے جید علما کرام کو جمع کیا جاتا ہے اور مختلف امور پر اُن سے رائے لی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں بھی ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں علما کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مختلف علمائے دین نے اپنی اپنی آرا کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ ممتاز عالم دین مفتی عبدالستار حماد‘ ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر نصیر اختر‘ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم (امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث)‘ قاری خلیل الرحمن جاوید اور دیگر علماء کرام نے اپنی بیش قیمت آرا کو علما اور اساتذہ کے سامنے بڑی شرح وبسط سے بیان کیا‘ جس سے سوچ و فکر کے بہت سے نئے زاویے سامنے آئے۔ مجھے بھی اس موقع پر اپنی چند گزارشات کو علما کرام کی موجودگی میں پیش کرنے کا موقع ملا۔ میں نے موقع کی مناسبت سے جن گزارشات کو علما کرام کے سامنے رکھا‘ ان کو کچھ ترامیم اور کمی بیشی کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں:
اللہ تبارک وتعالیٰ جمیع کائنات کے خالق ومالک ہیں اور انہوں نے اس کائنات کو ایک حکمت کے تحت تخلیق کیا ہے۔ قرآن مجید میں اس حقیقت کو مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ زمین وآسمان کی تخلیق بلامقصد نہیں کی گئی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الانبیاء کی آیات: 16 تا 17 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔ اگر ہم یونہی کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے‘ اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہی ہوتے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الذاریات میں اس حقیقت کو بیان فرما دیا کہ انسانوں کی تخلیق کا بنیادی مقصد کیا تھا؟ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الذاریات کی آیت: 56 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں‘‘۔ اسی حقیقت کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الملک کی ابتدائی دو آیات میں کچھ یوں بیان فرمایا: ''بہت بابرکت ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے‘ اور وہ غالب (اور) بخشنے والا ہے‘‘۔
اس مقصد کے حصول کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختلف ادوار میں بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور آخر میں پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد کریمﷺ کو مبعوث فرمایا۔ جمیع انبیائے کرام اور نبی کریمﷺ کو جس دینِ حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا وہ اسلام ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المائدہ کی آیت: 3 میں اس حقیقت کو کچھ یوں بیان فرمایا: ''آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا‘‘۔ نبی کریمﷺ کے قلبِ اطہر پر قرآن مجید کا نزول ہوتا رہا اور عقائد‘ عبادات اور معاملات کے حوالے سے آیاتِ بینات کو آپﷺ کے قلب اطہر پر نازل کیا گیا۔
کتاب و سنت کی تعلیمات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے‘ جس میں زندگی گزارنے کے تمام پہلوئوں کو نہایت احسن انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ اسلام کو باقی تمام طرز ہائے زندگی پر اس لیے فوقیت حاصل ہے کہ زندگی گزارنے کے باقی تمام طریقہ ہائے کار کی بنیاد انسان کی عقل‘ تجربہ اور اس کے مشاہدہ پر ہے جبکہ دین کی بنیاد اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحی ہے۔ چنانچہ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے قرآن اور نبی پاک حضرت محمد کریمﷺ کے فرامین کو اہمیت دینی چاہیے اور کسی بھی شخص یا گروہ کی بات کو اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کے فرمان پر فوقیت نہیں دینی چاہیے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانوں کی عقل اور شعور محدود ہے جبکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا علم اور حکمت لا محدود ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ انسانوں کے نفع ونقصان کا تعین جس طریقے سے کر سکتے ہیں‘ اس طریقے سے خود انسان بھی اپنے نفع ونقصان کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ جو شخص بھی ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے کہ جس کے نتیجے میں دنیا میں امن اور اطمینان حاصل ہو اور آخرت میں انسان سربلند ہو تو اس کا سب سے بہترین راستہ یہی ہے کہ انسان اللہ کی کتاب اور نبی کریمﷺ کے فر امین کے ساتھ تمسک اختیار کرے۔ نبی کریمﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریمﷺ اور ان کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دنیا میں بھی سربلند کیا اور آخرت کی فلاح بھی اُن کا مقدر بن گئی۔ انسانیت کی فلاح اور عروج کا بہترین دور نبی کریمﷺ اور ان کے بعد آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دور ہے جس کی مثال تاریخ بھی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ایسی زندگی گزارنے کے نتیجے میں دنیا میں امن اور اطمینان اور آخرت میں بھی کامیابی انسان کا مقدر بن جائے گی۔
کتاب و سنت پر عمل پیرا ہونے کے راستے میں متعدد رکاوٹیں حائل ہیں جن میں آبائو اجداد کی اندھی تقلید‘ اپنے مذہبی اور سیاسی رہنمائوں کی ہر بات کو حجت سمجھنا‘ اپنے گمراہ دوستوں کی پیروی کرنا اور اپنی خواہشات اور رسوم ورواج پر چلنا سر فہرست ہیں۔ بہت سے لوگ ان وجوہات کی بنیاد پر کتاب و سنت کی تعلیمات کو نظر انداز کر دیتے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی ان کو مصائب‘ آفات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آخرت میں بھی ناکامی ان کا مقدر بن جائے گی۔ اس کے مدمقابل بہت سے لوگ اللہ اور رسولﷺ کی تعلیمات کے ساتھ وابستگی اختیار کرکے صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جاتے ہیں۔
دین وشریعت پر عمل پیرا ہونا جہاں کامیابی کی بنیاد ہے وہیں دین سے وابستگی کے دو اہم تقاضے بھی ہیں: جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں ہر اُس شخص کے ساتھ پیار اور محبت کرنی چاہیے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہے اور ایسے شخص سے دوری اختیار کرنی چاہیے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات سے انحراف کرتا اور ان کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح دین وشریعت کے ساتھ محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کو اپنے اپنے دائرہ کار میں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اپنے گھر‘ ادارے‘ دفتر اور محکمے میں کتاب و سنت کی تعلیمات کو نافذ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح مسلم حکمرانوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ریاستوں اور مملکتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین اور شریعت کا نفاذ کر کے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور عوام الناس کو بھی آسانی فراہم کریں۔
علماء کرام نے ان گزارشات کو نہایت توجہ کے ساتھ سنا اور بعد ازاں ایک پُرتکلف ظہرانے کے ساتھ یہ اجلاس مکمل ہوا۔