"SUC" (space) message & send to 7575

رزقِ خاک لہو

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے جو چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے‘ وہ پڑھ کر مجھے آٹھ جنوری 2026ء کا دن یاد آگیا جب میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں طالبعلم رہنما شریف عثمان ہادی کی پندرہ‘ بیس دن پرانی قبر پر فاتحہ کیلئے کھڑا تھا۔ بنگال کے قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے پہلو میں اس تازہ قبر نے دسمبر 2025ء میں انسانوں کا وہ جم غفیرجنازے میں دیکھا تھا جس کی بنگلہ دیش کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ میں سانولے رنگ کے اس پُرعزم اور جوشیلے نوجوان کیلئے دعا کرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ 32سال بھی کوئی مرنے کی عمرہے۔ میں نے اپنے دکھ کا اظہار اپنے کالم ''نوجوان خواب کی موت‘‘ میں کیا تھا۔ اب تازہ انکشاف سے وہ زخم پھر تازہ ہو گیا ہے۔
ممتا بینر جی بی جے پی کے مخالف رہنماؤں میں ہیں اور طویل مدت تک مغربی بنگال میں بی جے پی کے سامنے دیوار بنی رہیں۔ اب کولکتہ میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ہادی قتل کیس کی بہت سی معلومات ہیں۔ ان کے مطابق مغربی بنگال کی سپیشل ٹاسک فورس نے ملزمان کو گرفتار کیا تھا‘ جس کے بعد امیت شاہ نے ذاتی طور پر ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید بات نہ کریں۔ ممتا نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر وہ بعض نام ظاہر کر دیں تو بنگلہ دیش میں بڑا سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے وہ نام عوام کے سامنے نہیں رکھے۔ 12دسمبر 2025ء کو ڈھاکہ میں شریف عثمان ہادی کو قتل کیا گیا اور قاتل مغربی بنگال فرار ہو گئے۔ شریف عثمان ہادی ڈھاکہ کے حلقے سے فروری 26ء کے انتخابات کے امیدوار تھے اور نہایت ہردلعزیز مقرر تھے۔ 2024ء کی حسینہ مخالف تحریک میں انہوں نے سرگرم حصہ لیا تھا۔ اس قتل پر پورے بنگلہ دیش میں کہرام مچ گیا اور قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس قتل کے باعث بنگلہ دیش میں مودی مخالف جذبات بھی شدید ہو گئے تھے۔ عبوری حکومت نے اس سلسلے میں بھارت سے رابطہ کیا۔ اُس وقت ممتا بینر جی مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ تھیں اور انہی کے زمانے میں مغربی بنگال کی سپیشل ٹاسک فورس نے دو افراد کو گرفتار کیا تھا جو اس قتل میں ملوث سمجھے جاتے تھے۔ یہ اس مقدمے کی ایک اہم پیشرفت تھی۔ بی جے پی مغربی بنگال میں اپنی حکومت نہ ہونے کے سبب ایک حد سے زیادہ ریاستی امور میں دخل نہیں دے سکتی تھی۔ یہ سارا پس منظر ممتا بینر جی کے اس تازہ بیان کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے۔ تاحال اس بیان پر امیت شاہ یا بھارتی وزارتِ داخلہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کی جانب سے محتاط ردِعمل سامنے آیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خارجہ نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے سیاسی رہنما کے بیانات پر تبصرہ کرنا ان کا کام نہیں تاہم ہادی قتل کیس کے ملزمان کو واپس لانے اور قانونی کارروائی کیلئے بھارت کے ساتھ سفارتی رابطہ جاری ہے۔ یہ ردِعمل بتاتا ہے کہ بنگلہ دیش اسے سیاسی تنازع بنانے سے بچنا چاہتا ہے لیکن ان سوالوں کے جواب ابھی تک نہیں ملے ہیں کہ قاتل کون تھے؟ ان کے محرکات کیا تھے؟ کیا وہ کسی سیاسی نیٹ ورک سے وابستہ تھے؟ سرحد پار ان کے روابط اگر تھے تو کس سے تھے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ ممتا بینر جی جن ناموں اور معلومات کا حوالہ دے رہی ہیں‘ وہ دراصل کیا ہیں؟
تازہ خبر یہ ہے کہ ممتا بینر جی کے خلاف کولکتہ میں بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایک وکیل رِنکی سنگھ کی شکایت پر یہ مقدمہ درج ہوا ہے جس کا کہنا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات خراب کرنے کیلئے ممتا کافی مدت سے سرگرم ہیں۔ اب وزارتِ داخلہ پر اس قتل میں ملوث ہونے کا بیان دے کر ممتا بینر جی نے دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ کہا جا رہا کہ ممتا بینر جی کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ خیر یہ مقدمہ ایک طرف لیکن اگر ممتا بینر جی کا یہ دعویٰ درست ہے تو مودی سرکار کے بارے میں کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ پہلا سوال تو یہ کہ وزیر داخلہ نے خاموش رہنے کو کیوں کہا؟ کیا کوئی ایسی حساس بات تھی جس کے پیشِ نظر وہ چاہتے تھے کہ بات باہر نہ آئے۔ کیا یہ صرف سفارتی نزاکت کا معاملہ تھا؟ کیا تحقیقات ابھی جاری تھیں اور قبل از وقت انکشافات سے نقصان پہنچ سکتا تھا‘ یا واقعی کچھ ایسے نام اور روابط موجود ہیں جن کے سامنے آنے سے دونوں ممالک میں سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے؟ ان سوالات کے جوابا ت فی الوقت نہیں دیے جا سکتے لیکن بادی النظر میں ممتا بینر جی نے مرکزی حکومت کے اس قتل میں ملوث ہونے کا اشارہ دیا ہے۔
یہ بات کہ اگر وہ کچھ نام ظاہر کردیں تو بنگلہ دیش میں بڑا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے‘ ظاہر کرتی ہے کہ ممکنہ طور پر کئی بڑے نام شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ شریف ہادی گزشتہ چند برسوں میں بنگلہ دیش کی نوجوان سیاست کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار ہونے لگے تھے۔ وہ ''انقلاب منچ‘‘ کے ترجمان اور اُن نوجوان چہروں میں شامل تھے جو 2024ء کی طلبہ تحریک کے بعد قومی سطح پر ابھرے۔ وہ محض ایک احتجاجی مقرر نہیں تھے بلکہ 2026ء کے انتخابات میں فعال سیاسی کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مقبولیت روایتی سیاسی جماعتوں کیلئے بھی توجہ کا مرکز بن چکی تھی۔ اس قتل کی اہمیت صرف ایک سیاسی کارکن کی ہلاکت تک محدود نہیں تھی‘ ہادی اس نوجوان نسل کی علامت بن چکے تھے جو شیخ حسینہ کے بعد بنگلہ دیش کی نئی سیاسی سمت متعین کرنا چاہتی ہے۔ چنانچہ ان کی موت کو محض ایک فوجداری واردات کے بجائے ایک سیاسی سانحے کے طور پر لیا گیا۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ عثمان ہادی بہت سے لوگوں کیلئے سیاسی خطرہ بن چکے تھے۔
قتل کی تحقیقات کے دوران ہی اطلاعات سامنے آئیں کہ بعض مشتبہ افراد بھارت کے علاقے مغربی بنگال میں موجود ہیں یا وہاں پہنچ چکے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں یہ مقدمہ داخلی معاملے سے نکل کر ایک علاقائی سیاسی مسئلہ بن گیا۔ بنگلہ دیشی حکومت نے بعد ازاں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں سے بھی معاونت طلب کی تاکہ تحقیقات کو زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔ یہ اقدام اس بات کی علامت تھا کہ ڈھاکہ اس مقدمے کو غیرمعمولی اہمیت دے رہا تھا لیکن یاد رہے کہ وہ عبوری حکومت والا ڈھاکہ تھا۔ آج کی حکومت کیلئے یہ معاملہ اتنااہم دکھائی نہیں دیتا‘ اور اس کی دلیل بنگلہ وزارتِ خارجہ کا ممتا جی کے بیان پر حالیہ ردِعمل ہے۔
ایک نہایت اہم رُخ موجودہ بی این پی حکومت کے بھارت سے تعلقات ہیں جو حسینہ واجد کے بعد سے نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اگرچہ عبوری حکومت کے مقابلے میں بی این پی کا رویہ کافی لچکدار ہے لیکن سیاسی مجبوریوں اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ ایک حد سے زیادہ لچک کا مظاہرہ نہیں کر سکتی۔ حسینہ واجد اور عوامی لیگ کے کئی رہنماؤں کے بھارت فرار کے بعد عوامی تاثر یہ تھا کہ ان کے فرار میں بی این پی کے مقامی رہنماؤں کی مدد شامل تھی۔ لہٰذا یہ معاملہ ایک بار پھر بھارت‘ بنگلہ دیش تعلقات میں ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ بی این پی نہیں چاہے گی کہ یہ مسئلہ بنے۔ شریف ہادی سے انہیں زیادہ ہمدردی بھی نہیں‘ نہ ان کے قاتل گرفتار کرنے میں کوئی خاص دلچسپی ہو سکتی ہے۔ تاہم انہیں ہرحال میں اس تاثر سے بچنا ہے کہ وہ بھارت نواز ہیں۔ بنگلہ دیش کا موجودہ عوامی موڈ دیکھتے ہوئے اسے ایک سیاسی موت کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے لگتا ہے کہ طارق ضیا کی حکومت درمیانی راستہ اختیار کرے گی یعنی عوامی اطمینان کیلئے کچھ اقدامات لیکن درحقیقت اس معاملے کو کھٹائی میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک اور خونِ خاک نشین بالآخر رزقِ خاک ہو جائے گا۔ ایک اور مقدمے‘ ایک اور فائل اور ایک اور قبر میں اضافہ اور بس۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں