"MMC" (space) message & send to 7575

شگون …(2)

رسول اللہﷺ کا یہ فرمان کہ ''صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے‘‘ اس کے معنی یہ ہیں کہ ماہِ صفر کو جو لوگ منحوس تصور کرتے ہیں اور اس ماہ کی تیرہ تاریخ کو بعض لوگ تیرہ تیزی کہتے ہیں اور اس مہینے میں شادی نہیں کرتے‘ شریعت کی رُو سے یہ سب باتیں بالکل بے اصل اور باطل ہیں۔ امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا: ''صفر کے آخری بدھ کے متعلق لوگوں میں مشہور ہے کہ اُس دن رسول اللہﷺ صحت یاب ہوئے تھے‘ لہٰذا وہ اس خوشی میں شیرینی تقسیم کرتے ہیں‘ بعض لوگ اس دن کو نَحس جان کر برتن توڑتے ہیں‘‘۔ آپ نے جواب دیا: ''آخری بدھ کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور اس دن برتن توڑنا مال ضائع کرنا ہے اور گناہ کا سبب ہے۔ اُس دن آپ کی صحت یابی کا بھی کوئی ثبوت نہیں‘ بلکہ جس مرض میں آپﷺ کا وصال ہوا‘ اُس کا آغاز صفر 11ھ کے آخری بدھ کے دن ہوا تھا اور ایک روایت کے مطابق حضرت ایوب علیہ السلام کی ا بتلا بھی بدھ ہی کے دن شروع ہوئی تھی‘‘۔
رسول اللہﷺ کا یہ فرمان کہ ''ستارے کی کوئی اصل نہیں‘‘ یعنی نجومیوں کے یہ نظریات کہ ستاروں کی چالیں یا اُن کا کسی خاص برج میں ہونا انسانوں کی تقدیر پر اَثر انداز ہوتا ہے‘ یہ سب باتیں شریعت کی نظر میں باطل ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا ہے:
ستارہ کیا مِری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبوں
بدشگونی کے شرک ہونے کے بارے میں علامہ علی القاری لکھتے ہیں: ''اگر کسی نے یہ اعتقاد کیا کہ نفع پہنچانے یا ضرر کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز مستقل مؤثر ہے تو یہ شرکِ جلی ہے۔ آپ نے اس کو شرک اس لیے فرمایا کہ وہ یہ اعتقاد کرتے تھے کہ جس چیز سے انہوں نے بدفالی لی ہے‘ وہ مصیبت پہنچانے میں ذاتی طور پر مؤثر ہے اور مؤثر بالذات مانے بغیر ان اسباب کا لحاظ کرنا شرکِ خفی ہے‘ خصوصاً جبکہ اس کے ساتھ جہالت اور ضُعفِ اعتقاد بھی ہو تو اس کا شرکِ خفی ہونا اور بھی واضح ہے‘‘ (مرقاۃ‘ ج: 9‘ ص: 6)۔ مُستقل مؤثر یا مؤثر بالذات ہونے کا معنی یہ ہے کہ جب وہ چیز ظاہر ہو تو نفع یا نقصان لازم ہو‘ جبکہ عام طور پر عالَمِ اسباب میں اسباب مؤثر بالذات نہیں ہوتے‘ جیسے دعا اور دوا وغیرہ‘ جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو مؤثر ہو جاتے ہیں اور اس کی مشیت نہ ہو تو مؤثر نہیں ہوتے۔
علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں: ''خلاصہ یہ ہے کہ تمام دن اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور کوئی دن (اپنی ذات میں) نامسعود اور نامبارک نہیں ہے‘ اسی طرح تمام انسان اور اشیا اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں اور ان میں سے کوئی چیز اپنی ذات میں منحوس نہیں ہے۔ پس حادثات وآفات‘ بلائوں اور مصیبتوں کے نازل ہونے میں کسی چیز کا دخل نہیں ہے‘ ان تمام چیزوں کا تعلق اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر سے ہے‘ کسی دن یا کسی چیزکا کسی شر کے پیدا ہونے یا کسی آفت کے نازل ہونے میں کوئی دخل اور اثر نہیں ہے‘ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور بس! اسی لیے کسی بھی جائز اور صحیح کام کو کسی دن اور کسی چیز کی خصوصیت کی وجہ سے ترک کرنا جائز نہیں ہے اور کوئی دن اپنی ذات میں نحس نہیں ہے‘‘ (شرح صحیح مسلم‘ج:7‘ ص: 613)۔
بعض لوگ الحجر کی بستی میں نبیﷺ کے نہ ٹھہرنے‘ وہاں کے پانی سے فائدہ نہ اٹھانے اور وادی مُحَسِّر میں تیزی سے گزرنے سے نحوست کے اثر انداز ہونے کا استدلال کرتے ہیں تو اس سے رسول اللہﷺ کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں ایسے مقامات میں سیر وسیاحت کیلئے نہ جانا چاہیے‘ نہ وہاں ٹھہرنا چاہیے‘ بلکہ ان سے عبرت پکڑنی چاہیے اور ان قوموں کے انجام کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان پر عذاب کا سبب بننے والے کرتوتوں سے باز رہنا چاہیے۔ ایک مومن ہر نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ کی ذات کو سمجھتا ہے‘ وہ ہر خیر اور ہر برائی اللہ کے اذن سے پہنچنے کا عقیدہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''جس شخص کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اللہ کے اذن سے پہنچتی ہے‘‘ (التغابن: 11)۔ حدیث پاک میں ہے: ''جان لو! اگر سب لوگ اس بات پر متفق ہو جائیں کہ تمہیں کوئی نفع پہنچائیں تو بھی صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکیں گے جتنا اللہ نے تمہارے لیے (لوح تقدیر میں) لکھ دیا ہے اور اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانے پر اتفاق کر لیں تو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہ جو اللہ نے تمہارے لیے (تقدیر میں) لکھ دیا ہے‘ قلم اٹھا دیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں‘‘ (ترمذی: 2516)۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''ہر آدمی کا شگون اس کی گردن میں ہے‘‘ (مسند احمد: 14765) یعنی جو تقدیر میں لکھا ہے وہی ہوکر رہتا ہے۔ اگرکوئی بدشگونی کا شکار ہو جائے تو رسول اللہﷺ نے اس کا علاج بھی بتایا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کو بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا وہ سمجھ لے کہ اس نے شرک کیا‘ صحابہ نے پوچھا: اس کا کفارہ کیا ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا: (اس کا کفارہ یہ ہے کہ) تم یوں کہو: ''اَللّٰہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُکَ وَلَا طَیْرَ إِلَّا طَیْرُکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ‘‘ ترجمہ: ''اے اللہ! تیری طرف سے ملنے والی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں‘ تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں اور تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں‘‘ (مسند احمد: 7045)۔
رسول اللہﷺ نے ہر قسم کی بدشگو نی کو توکل سے دور کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ آپﷺ نے ایک ساتھ تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ''بدشگونی شرک ہے! اور ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس طرح کی کوئی بات نہ آتی ہو‘ مگر اللہ پر توکل سے یہ دور ہو جاتی ہے‘‘ (ابودائود: 3910)۔ آپﷺ نے فرمایا: ''تین چیزیں میری امت کو لازم ہیں: بدشگونی‘ حسد اور بدگمانی‘ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہﷺ جس شخص میں یہ خصلتیں ہوں وہ ان کا تدارک کس طرح کرے‘ آ پﷺ نے فرمایا: جب تم حسد کرو تو استغفار کرو اور جب بدگمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو اور جب بدشگونی کرو تو وہ کا م کر گزرو‘‘ (معجم الکبیر للطبرانی: 3227)۔ بدشگونی سے بچنے پر نبیﷺ نے بے حساب جنت میں داخل ہونے کی بشارت دی ہے۔ فرمایا: ''میری امت میں سے ستر ہزار جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جو دم کراتے ہوں گے نہ بدشگونی کرتے ہوں گے اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہوں گے‘‘ (بخاری: 6472)۔ دم کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ دم کرنے سے لامحالہ قطعی طور پر یہ بیماری دور ہو جائے گی اور دم ہی کو شافی سمجھے یا دم کرنے والے کو ہی کارسازسمجھ لے یا جس دم میں شرکیہ الفاظ ہوں‘ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور توکل کے خلاف ہے۔ اسلام سے پہلے جاہلیت میں لوگوں کی عادت تھی کہ وہ پرندے کو اڑاتے اگر وہ دائیں جانب چلا جاتا تو اس سے نیک فال لیتے اور اگر وہ بائیں جانب اڑتا تو اس سے بد فالی لیتے اور ''طیرۃ‘‘ اسے کہتے ہیں جو برائی میں ہوتی ہے اور ''فال‘‘ اس کو کہتے ہیں جو نیکی میں ہوتی ہے اور جو ان سب سے اعراض کرکے صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو توکل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بے حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔
نبیﷺ نے بدشگونی لینے والوں سے برأت کا اظہار فرمایا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے جو بدشگونی لے یا جس کیلئے بدشگونی لی جائے‘ جو کہانت (غیب کی خبریں دینے کا دعویٰ) کرے یا جس کیلئے کہانت کی جائے اور جو جادو ٹونا کرے یا جس کیلئے جادو کیا جائے‘‘ (معجم الاوسط: 4262)۔ حضرت فضلؓ بن عباس بیان کرتے ہیں: ''میں نبیﷺ کے ساتھ ایک دن باہر نکلا تو اچانک ایک ہرن نمودار ہوا اور وہ بائیں جانب مائل ہوا‘ میں آپﷺ کے ساتھ چمٹ کر کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ! آپ نے برا شگون لیا ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: بدشگونی وہ ہے‘ جو کام کرنے پر آمادہ کرے یا واپس لوٹا دے‘‘ (مسند احمد: 1824)۔ یعنی انسان کے دل میں وہم آئے اور وہ اس کو نظر انداز کرکے اپنا کام جاری رکھے تو یہ بدشگونی نہیں ہے‘ بلکہ اس کی وجہ سے اپنا ارادہ بدلنا یا اس کام سے رک جانا بدشگونی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...